ایسی آبزرویشنزنہ دیں کہ ادارہ یاشخص بدنام ہوچیف جسٹس

عدالتیں سوموٹونوٹس لیتے وقت آرٹیکل 10اے کا اصول نظر انداز نہ کریں، جسٹس تصدق جیلانی کا پشاور میں خطاب


Numainda Express January 14, 2014
عدلیہ کا فرض ہے کہ وہ ملک میں قانون کی بالادستی قائم کرے جس کے لیے ضروری ہے کہ ججز اپنی ذمے داریوں کو بخوبی نبھائیں۔، چیف جسٹس فوٹو : پی پی آئی

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ عدالتیں سوموٹونوٹس لیتے وقت آرٹیکل 10اے کا اصول نظر انداز نہ کریں اور اپنی آبزویشن میں کچھ ایسا نہ کہا جائے جس سے متعلقہ فریق، شخص یا ادارے کے فیئر ٹرائل کی حق تلفی ہو یا اس پر کوئی دا آئے اور وہ بدنام ہو۔

خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی میں سول ججز کو تقسیم سرٹیفکیٹ کی تقریب اور پشاور ہائیکورٹ میں قائم ہیومن رائٹس ڈائریکٹوریٹ میں ای سٹیزن گریونسیز ریڈیسل سسٹم کے افتتاح کے موقع پرخطاب میں چیف جسٹس نے کہا کہ موجودہ حالات میں عدلیہ کی ذمے داری ہے کہ وہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے کیونکہ آئین اور قانون سے کوئی بھی بالاتر نہیں ،ملک مختلف مسائل کا شکار ہے۔



ججز کے تربیتی کورسز میں ریفارمز کی ضرورت ہے جس کے لیے جلد ہی اجلاس بلایا جائے گا، تمام صوبائی جوڈیشل اکیڈمی میں ججز کے طول المعیاد اور وفاقی جوڈیشل اکیڈمی میں مختصر مدت کے کورسز متعارف کرائے جائیں گے ۔ عدلیہ کا فرض ہے کہ وہ ملک میں قانون کی بالادستی قائم کرے جس کے لیے ضروری ہے کہ ججز اپنی ذمے داریوں کو بخوبی نبھائیں۔ سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس ڈائریکٹوریٹ میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے لیے ونگ بنایا گیا ہے، پشاور ہائی کورٹ میں بھی ایسا ہی ونگ بنایا جائے۔