معاشی نمو کی شرح پہلی سہ ماہی میں 5 فیصد تک پہنچ گئی اسحاق ڈار

ورلڈ بینک 1.7 ارب ڈالر کے سستے قرضے دیگا،3سال میں زرمبادلہ ذخائر20 ارب ڈالر پر لے آئیںگے،وفاقی وزیر خزانہ کا عزم


Business Reporter January 16, 2014
وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کراچی چیمبر آف کامرس کی جانب سے منعقدہ’’مائی کراچی اوسس آف ہارمنی‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔ فوٹو: آن لائن

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ توانائی و معیشت کے بحران اور دہشت گردی پاکستان کے بنیادی مسائل ہیں جو آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔

بجلی پر گھریلو صارفین کوسالانہ 250ارب روپے کی سبسڈی (اب تک131ارب دی جاچکی) اور ریکوری میں کمی سرکلر ڈیٹ بڑھنے کی اہم وجوہ ہیں،25فیصد بلوں کی ریکوری نہیں ہورہی، حکومت نے 503 ارب روپے کے سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کے لیے کرنسی نوٹ نہیں چھاپے، سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کے لیے اخراجات کی کٹوتی کے ذریعے135ارب روپے، سرکاری اداروں کے ڈیویڈنڈ کے ذریعے 20 ارب روپے، پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کے پاس موجود نقد سرمائے سے 158ارب روپے، فیڈرل کنسالیڈیٹڈ فنڈ سے 59ارب روپے مہیا کیے گئے، وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے یونیورسل سروس فنڈ کو سرکاری خزانے میں منتقل کیا گیا، اس فنڈ سے فنڈ کے سی ای او کی لاکھوں روپے کی تنخواہ اور کروڑوں روپے کی لگژری گاڑیاں خریدی جارہی تھیں، 128ارب روپے کے بانڈز جاری کیے گئے، سرکلر ڈیٹ کا خاتمہ حکومت کے اعلان کردہ 60روز سے کم مدت میں کیا گیا اور سسٹم میں 1700 میگا واٹ بجلی کا اضافہ اور قومی خزانے کو 55ارب روپے کا فائدہ ہوا۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو بیک وقت دو طرح کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا، اندرونی سطح پر بجٹ خسارہ اور بیرونی جاری کھاتے کا خسارہ، پاکستان کے انفلوز کم اور آئوٹ فلوز زیادہ ہونے کی وجہ سے سالانہ 2.5سے 3ارب ڈالر کے کرنٹ اکائونٹ خسارے کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کو درپیش مسائل اور چیلنجز ایک روز میں حل نہیں کیے جاسکتے، مسلم لیگ ن ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے سخت فیصلوں کی وجہ سے سیاسی قیمت چکارہی ہے لیکن ملک و قوم کی بقا اور سلامتی کے لیے سیاسی نقصان کی پروا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں اور بیشتر اہم اہداف پورے ہونے اور مشکل اسٹرکچرل اقدامات کی وجہ سے عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستانی کے لیے معاونت اور قرض کی حد میں اضافہ کردیا ہے، ریفارمز پروگرام کی وجہ سے ورلڈ بینک سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 1.7ارب ڈالر کے سستے قرضوں کی سہولت حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔

داسو ڈیم کے لیے 70کروڑ ڈالر کے قرضے ملیں گے، جائیکا نے بھی کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کے لیے 40سال کی مدت کے لیے 2ارب ڈالر کے قرضے 0.5فیصد شرح سود پر دینے پر آمادگی ظاہر کردی ہے، جائیکا کا وفد جنوری میں پاکستان آرہا ہے جو فروری تک جائزہ رپورٹ مکمل کرلے گا جس کی روشنی میں پراجیکٹ کیلیے فنانسنگ حاصل کی جائیگی۔ تاجر برادری کو میڈیم اور لانگ ٹرم اکنامک پالیسی کے خدوخال اور اہداف سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 3 سال کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر 20ارب ڈالر اور رواں سال 16ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ جائیں گے، بجٹ خسارہ 3سال میں 6.3فیصد کی سطح سے کم کر کے 4فیصد پر لایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ دنیا میں خط غربت کے تعین کیلیے فی کس آمدن 2.5ڈالر کی جاچکی ہے لیکن پاکستان میں اب بھی ایک ڈالر کی تعریف رائج ہے جس کی رو سے پاکستان میں 50فیصد آبادی خط غربت سے نیچے جاچکی ہے، غربت میں اضافے کی وجہ سے سماجی مسائل جرائم اور دہشت گردی بڑھ رہی ہے، حکومت نے سوشل سیفٹی نیٹ کیلیے رقم 30ارب سے بڑھا کر 50ارب روپے کردی ہے، یوتھ اسکیموں کے لیے مختص رقم 10 ارب سے بڑھا کر 20ارب روپے کی گئی جوانتہائی شفاف طریقے سے خرچ کی جائیگی۔

 photo 1_zpsb375bfe5.jpg

حکومت نے ترقیاتی اخراجات میں اضافہ کیا، وزیراعظم کا صوابدیدی فنڈمکمل طور پر ختم کردیا ہے، وفاقی ادارہ شماریات اب سہ ماہی بنیادوں پر اعدادوشمار جاری کرے گا، پہلی سہ ماہی کے اعدادوشمار کے مطابق معاشی ترقی کی شرح نمو 2.9فیصد سے بڑھ کر 5فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں بجلی مہنگی ہونے کی وجہ فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار ہے، اس وقت 73فیصد بجلی فرنس آئل جیسے دنیا کے مہنگے ترین طریقے سے تیار کی جارہی ہے، دنیا کی بڑی معیشتیں بشمول بھارت، چین، برطانیہ اور امریکا 40سے 60فیصد بجلی کوئلے سے پیدا کررہے ہیں اور پاکستان کے جامشورو تھرمل پاور پلانٹ پر اعتراضات کھڑے کیے گئے تاہم حکومت نے کامیاب سفارتکاری کے ذریعے ایشیائی ترقیاتی بینک میں شریک 75فیصد ملکوں کو پاکستان کے حق میں راضی کرلیا، اب کراچی میں 4 نجی آئی پی پیز کو آئندہ 2 سال میں کوئلے پر منتقل کیا جائے گا جس سے 2100میگا واٹ بجلی کوئلے پر منتقل ہوگی، حکومت انرجی مکس کو بہتر بناتے ہوئے پیداوار کے لیے سستے ذرائع اختیار کریگی۔

میڈیم ٹرم اہداف کے مطابق بجلی کی پیداوار 36ہزار سے 40ہزار میگاواٹ تک بڑھائی جائیگی، داسو ڈیم اور دیا میر بھاشا ڈیم سے 4500/4500میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی، پاکستان میں قدرتی گیس، شیل گیس اور ٹائٹ گیس وافر موجود ہے جس سے 60سال تک 14ہزار میگا واٹ بجلی تیار کی جاسکتی ہے، دریائے سندھ سے 1900 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے، بھارت نے درجنوں ڈیم تعمیر کرلیے جبکہ پاکستان کے 2008سے 2013کے انرجی پلان پر مشکل سے 10 فیصد ہی عمل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو کے ساتھ اخراجات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور ریونیو و آمدن کا فرق 2500ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، اس لیے ریونیو میں اضافے کے ساتھ اخراجات میں کمی بھی ناگزیر ہے، زراعت پر ٹیکس کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ زراعت پر ٹیکس صوبوں کا معاملہ ہے۔ تاجر برادری کی جانب سے ٹیکس اناملیز کی نشاندہی پر انہوں نے کہا کہ اب تک بجٹ میں ٹیکسوں سے متعلق ٹیکس گزاروں کے اعتراضات اور مسائل دور کرنے کے لیے 26ایس آر او جاری کیے جاچکے ہیں، کراچی چیمبر آف کامرس قابل حل تجاویز تحریری طور پر ارسال کرے۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ سازی کا عمل شروع ہوچکا ہے جس میں تاجر برادری کی رائے اور تجاویز کو اہمیت دی جائیگی، اس مقصد کے لیے انہوں نے ایف بی آر اور تاجر برادری کی مشترکہ مشاورتی کمیٹی کے قیام کی تجویز پیش کی۔ وفاقی وزیر نے تھرکول منصوبے کو ہرممکن سپورٹ کی فراہمی کی بھی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وزیر اعظم وزیراعلیٰ سندھ کی دعوت پر جلد ہی تھر کے منصوبے کی گرائونڈ بریکنگ اور تھرکول بورڈ کے اجلاس کی صدارت بھی کریں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ن لیگ کی قیادت ایمنسٹی اسکیموں پر یقین نہیں رکھتی، ٹیکس کلچر کے فروغ کے لیے وزیر اعظم نے مراعاتی اسکیم متعارف کرائی ہے جس کے تحت سرمایہ کاری اور صنعتکاری کے ذریعے ٹیکس گزاروں کو سہولت دی جائیگی۔ وفاقی وزیر نے جی ایس پی پلس کی سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے گارمنٹ اور ٹیکسٹائل سٹی پر مشتمل خصوصی اکنامک زون کے قیام کیلیے کراچی چیمبر کی تجویز سے اتفاق کیا اور چیمبر کی قیادت کو تفصیلی پلان پیش کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس سے رواں مالی سال برآمدات میں 1.5 سے 2ارب ڈالر کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔