عیدالفطر اور معیشت

کورونا وباء اور حکومت کا لاک ڈاؤن عید کی خوشیوں کی راہ روکنے میں خاصی حد تک کامیاب رہا۔


Editorial May 16, 2021
کورونا وباء اور حکومت کا لاک ڈاؤن عید کی خوشیوں کی راہ روکنے میں خاصی حد تک کامیاب رہا۔ فوٹو : فائل

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں ملک بھر میں ایک ہی روز عیدالفطر منائی گئی تاہم سائنس و ٹیکنالوجی کے معیار کو اس بار بھی نظرانداز کر دیا گیا۔ بہرحال پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں نے کورونا وباء کے پیش نظر عیدالفطر انتہائی سادگی سے منائی۔

ویسے بھی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے عید کی گہماگہمی بہت کم رہی۔ کاروباری مراکز، تفریحی مقامات مثلاً چڑیا گھر اور عجائب گھر وغیرہ بند ہونے کی وجہ سے نوجوان، بچے اور خواتین دل کھول کر تفریح نہیں کر سکے۔ چاند رات بھی سونی سونی گزر گئی۔

کورونا وباء اور حکومت کا لاک ڈاؤن عید کی خوشیوں کی راہ روکنے میں خاصی حد تک کامیاب رہا۔ رات ساڑھے گیارہ بجے کے قریب عید کا چاند نظر آنے کے اعلان کے باعث بہت سے لوگوں کو صبح اٹھ کر پتہ چلا کہ آج عید ہے۔ اس وجہ سے بھی جوش وخروش میں کمی نظر آئی۔ بہرحال مسلمانوں نے عیدگاہوں اور مساجد میں جا کر نمازِ عید ادا کی اور اﷲ سے پاکستان سمیت دنیا بھر سے کورونا وباء کے خاتمے کے لیے دعا کی۔

ویسے تو دنیا بھر میں کورونا وباء کی تباہ کاریاں جاری ہیں خاص طور پر بھارت میں اس وباء نے قہر ڈھا رکھا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت نے لاک ڈاؤن کا جو فیصلہ کیا، اسے غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دوسری جانب اس سچائی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کورونا وباء کے باعث جو کچھ ہوا، اس نے ہماری معیشت کی چولیں ہلا دی ہیں۔ گزشتہ عید بھی کورونا وباء کی ہلاکت خیزیوں کے سائے ہی میں منائی گئی تھی، یوں دیکھا جائے تو اس وباء کو تقریباً دو برس ہو چکے ہیں۔ اس دوران ملک میں بے روزگاری، مہنگائی اور معاشی جمود نے درمیانے طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

ملک بھر میںمہنگائی کا سونامی آچکا ہے، ماہِ رمضان کے دوران اور عید الفطر کے ایام میں برائیلرمرغی کے گوشت اور چینی کی مہنگائی نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ چینی کی قیمت 107روپے فی کلو تک بھی فروخت ہوتی رہی ہے ، برائلر مرغی کا گوشت فی کلو 430 سے لے کر 480 روپے تک فروخت ہوتا رہاجب کہ ملک کے بڑے شہروں میںدودھ ایک سو روپے سے لے کر ایک سو تیس روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔ نچلے اور متوسط طبقے کے پاس اب گزربسر کا سامان نہیں رہا ہے، یہ سب مہنگائی میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے اضافے کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔

تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں لیے روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ ادھر سرکاری ملازمتوں کے لیے ہونے والے امتحانات کے پرچے آؤٹ ہونے کی خبروں نے حکومت کی بیڈگورننس کو بھی طشت ازبام کر دیا۔ ہنرمند افرادی قوت بھی بے روزگاری کا شکار ہے۔ کسی حد تک تعمیراتی شعبے میں سرگرمیاں نظر آتی رہی ہیں تاہم تعمیراتی میٹریل کی مسلسل اوپر جاتی ہوئی قیمتوں کے باعث تعمیراتی شعبے کی سرگرمیاں اتنی تیز نہ ہو سکیں جتنی توقع کی جا رہی تھی۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث صنعت کاروں اور دیگر کاروباری شعبوں میں پیداواری لاگت بڑھتی رہی جس کے باعث تعمیراتی سامان یا میٹریل مہنگا ہوتا رہا۔

اس وقت پاکستان عالمی مالیاتی اداروں کے دست نگر رہنے پر مجبور ہے۔ ملکی معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے قرضے درکار ہیں۔ وفاقی کابینہ گزشتہ دنوں ایک سو چالیس ارب روپے کے نئے ٹیکسوں کی منظوری دے چکی ہے۔ سال رواں بعض شعبوں کو ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ ختم کرنے سے 1.4ٹریلین روپے الگ اکٹھے کیے جائیں گے۔ بے شمار ٹیکس بھی قیمتوں میں اضافے کا موجب بن رہے ہیں۔ اس صورت حال کو مدنظر رکھا جائے تو عید کے بعد بھی معیشت کی صورت حال زیادہ خوش کن نظر نہیں آ رہی۔

حکومت اپنے طور پر کوشش ضرور کر رہی ہے لیکن چیلنجز اتنے بڑے اور برق رفتاری سے آ رہے ہیں کہ ان کا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہو رہا ہے۔ گزشتہ دنوں پاکستان نے عالمی برادری پر بھی زور دیا تھا کہ وہ کووِڈ 19 بحران کے اثرات سے بحالی کے لیے ایک فریم ورک تیار کرے۔

اقوامِ متحدہ کی ڈیولپمنٹ کوآپریشن فورم (ڈی سی ایف) کے اجلاس میں پاکستان نے تجویز دی تھی کہ عالمی وباء کے خلاف لڑائی میں ہر خطے کو شامل کیا جائے۔ اس فورم پر وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے عالمی وباء کے سماجی و معاشی اثرات اور ان سے نمٹنے کے لیے نئے طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ بین الاقوامی نظام کی اخلاقی ذمے داری ہے کہ ترقی کے لیے بعد از کووِڈ 19 فریم ورک تشکیل دینے کو ترجیح دی جائے۔

ان کی یہ بات بالکل درست ہے کیونکہ ایک عالمی فریم ورک سٹیک ہولڈرز کو نزدیک لا سکتا ہے تاکہ خطرات کو بہتر طور پر کم کرنے اور جھٹکوں سے بازیافت کرنے کے لیے درکار ردعمل تشکیل دیا جا سکے کیونکہ کورونا وباء کسی ایک ملک یا قوم کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کا ہے اس لیے دنیا کے امیر ممالک کی ذمے داری ہے کہ وہ پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں کے ساتھ تعاون کا حصہ بڑھائیں۔

گزشتہ دنوں ہی اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مندوب نے کورونا وباء سے نمٹنے والے ترقی پذیر ممالک کی مدد کرنے، خطرات کم کرنے اور لچک میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ مشکلات سے نمٹنا اور بحران کو روکنا ڈیولپمنٹ کارپوریشنز کے نئے منصوبوں کا حصہ ہونا چاہیے۔ بلاشبہ ڈی سی ایف اجلاس نے کووڈ 19 اور مستقبل میں آنے والے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے آپشنز کا جائزہ لینے کے لیے حکومتوں، عالمی تنظیموں، ترقیاتی بینکوں اور فلاحی اداروں کو اکٹھا کر دیا ہے۔

کورونا وبائی مرض کے باعث کاروباری طبقہ شدید طور پر متاثر ہوا ہے۔ تعلیم کا شعبہ بھی بری طرح کورونا وباء کا شکار ہے۔ ہمارے طلبہ نا قابل تلافی تعلیمی نقصان سے دو چار ہیں۔ تعلیمی اداروں سے منسلک ٹیچرز و دیگر ملازمین بھی مالی مسائل کا شکار ہو چکے ہیں۔ مرض کی شدت اور خوف سے نہ صرف تعلیمی اداروں کو بند کر دیا گیا۔ اسکولوں اور تعلیمی ادارہ جات کی طویل امکانی بندش کے پیش نظر تعلیمی نظام میں اصلاحات بے حد ضروری ہو چکی ہیں۔

اُدھر کورونا وائرس کا تیزی سے پھیلاؤ جاری ہے لیکن ہمارے ناخواندہ عوام ہی نہیں بلکہ پڑھا لکھا اور خوشحال طبقہ بھی توہمات اور سازشی تھیوریوں کا شکار ہے یعنی ملک کا نچلا اور بالائی دونوں طبقات انتہائی کم علمی، بے بصیرتی اور لاپروائی کا شکار ہیں، کم علمی کو شدید الفاظ میں ''جہالت'' بھی کہتے ہیں مگر لاپروائی اتنی کہ لگژری گاڑیوں اور عالی شان بنگلوں میں رہنے والے بھی گھروں میں تقریبات کرنے سے باز نہیں آ رہے حالانکہ کاروباری طبقے کی طرف دیکھیں تو ہمیں کورونا وائرس سے بچنے کی احتیاطی تدابیر نظر آ رہی ہیں، میڈیکل اسٹورز، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز اور دیگر جگہوں پر کورونا ایس او پیز کی پابندی جاری ہے۔

حکومت کی یہ اولین ترجیح ہونی چاہیے کہ وہ اپنی توجہ اس بات پر مرکوز کرنی ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤکیسے روکا جائے ، دوسرا یہ ہے کہ ملکی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں کو کیسے بحال کیا جائے۔ کاروبار ہوں گے تو نچلے اور درمیانے طبقے کے روزگار کا مسئلہ حل ہو گا۔ اگر لاک ڈاؤن کو طویل کیا گیا تو اس کے معیشت کے لیے تباہ کن اثرات ہوں گے۔ پاکستان پہلے ہی شدید قسم کے معاشی بحران کا شکار ہے۔ ملک میں سیاسی استحکام بھی نظر نہیں آ رہا۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑی نظر آتی ہیں۔

وقت کا تقاضا تو یہ تھا کہ عوام کے منتخب نمایندوں پر مشتمل پارلیمنٹ ملک کے لیے کوئی متفقہ راہ عمل متعین کرتی لیکن ایسا دور دور تک نظر نہیں آ رہا۔ عوام کے منتخب نمایندہ ہونے کے دعویداروں نے بھی اپنی توجہ مراعات اور تنخواہوں پر مرکوز رکھی ہے۔

ایم این ایز ہوں، ایم پی ایز ہوں، سینیٹرز ہوں، کسی نے بھی اپنی تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا آپشن اختیار نہیں کیا۔ اسی طرح وزراء اور مشیران پر بھی قومی خزانے سے بھاری رقوم خرچ کی جا ر ہی ہے۔ اگر ان ہی رقوم کو بچا کر پیداواری شعبوں پر خرچ کیا جاتا تو ملکی معیشت میں کچھ تو بہتری پیدا کی جا سکتی تھی۔ حکومت کی خیراتی اور صدقہ جاتی پالیسیوں نے بھی معیشت یا کاروباری سرگرمیوں کو بڑھانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے جو امدادی پروگرام شروع کر رکھے ہیں، وہ قومی خزانے کے زیاں کے سوا کچھ نہیں۔

پاکستان کو ایسے معاشی مدبروں کی ضرورت ہے جو ایسے منصوبے بنائیں جو قومی خزانے کے زیاں کو روکے اور پیداواری سرگرمیوں کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں۔ پاکستان کے امورِ مملکت کو چلانے والا طبقہ اس ذہانت، تدبر، زیرکی، بردباری اور معاملہ فہمی سے محروم ہے جس کی بنیاد پر جنوبی کوریا، چین اور سنگاپور نے غربت سے ترقی تک کا سفر طے کیا۔ کسی بھی ملک کی پسماندہ نظریات وخیالات کی حامل سیاسی قیادت اور نوکرشاہی اپنی قوم کو ترقی اور خوشحالی کی منزل تک نہیں پہنچا سکتی۔ آج ایشیا اور افریقہ کے ممالک کی بدحالی اور پسماندگی کی بنیادی وجہ وہاں کی رولنگ کلاس کا ذہانت، تدبر اور معاملہ فہمی سے عاری ہونا ہے۔

مقبول خبریں