عالمی قوتیں عراق میں القاعدہ کے خلاف کارروائی کریں وزیراعظم نوری المالکی

بغداد اورگردو نواح میں9 کاربم دھماکوں میں37افراد لقمہ اجل بنے،علاقہ بہروز میں جنازےکے شرکا پر خود کش بم دھماکا، 16ہلاک


AFP January 16, 2014
عسکریت پسندوں نے صوبہ انبار میں مزید علاقے سیکیورٹی فورسز سے چھین لیے۔فوٹو:رائٹرز

عراق کے مختلف شہروں میں بم دھماکوں، فائرنگ اورفورسز کی کارروائیوں میں 73 افراد ہلاک اور100 سے زائد افراد زخمی ہوگئے جبکہ عسکریت پسندوں نے صوبہ انبار میں مزید علاقے سیکیورٹی فورسز سے چھین لیے۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون اور دیگر عالمی رہنمائوں نے عراقی وزیراعظم نوری المالکی پر زور دیا ہے کہ وہ مسائل کا حل سیاسی طریقے اور مذاکرات سے نکالیں۔ دوسری جانب وزیراعظم نوری المالکی نے دہشتگردوں سے مذاکرات ختم کردیے ہیں اور سیکیورٹی فورسز نے وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ وزیراعظم نوری المالکی نے اپنے ہفتہ وار ٹی وی خطاب میں عالمی براردی سے اپیل کی ہے کہ وہ القاعدہ اور اس کے ذیلی گروپوں کیخلاف ایکشن لے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتیں ان ممالک کیخلاف مضبوط پوزیشن لیں جو ان دہشتگرودں کے پشت پناہ ہیں اور ان دہشتگردوں کے ذرائع کو ختم کریں۔

 photo 8_zps801ae685.jpg

خاموشی کا مطلب ہوگا کہ کچھ سب سٹیٹس ہیں جو کہ علاقے اور دنیا کی سیکیورٹی کیلیے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ دارالحکومت بغداد کے شیعہ اکثریت والے علاقوں میں 9 کار بم دھماکے ہوئے جن میں 37 افراد جاں بحق ہوگئے۔ بغداد کے نواحی علاقے شعاب میں ایک پر ہجوم مارکیٹ میں بم دھماکا کیا گیا۔ صنعا اسٹریٹ میں بھی ایک ریسٹورینٹ کے باہر بم دھماکا ہوا جس میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ ریسٹورینٹ کی عمارت تباہ ہوگئی، قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ علاقہ بہروز میں ایک جنازے کے شرکا پر خود کش بم دھماکے میں 16 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوگئے۔