ملائیشین کمپنیوں پرپاکستانی فرمز کے ساتھ اشتراک پر زور

آئل وفیٹس، کیمیکلز، بائیوماس اور چارے کے شعبے میں مشترکہ منصوبے بنائے جائیں،ملائیشین وزیر


Business Reporter January 17, 2014
پاکستان ملائیشیا سے پام آئل ومصنوعات درآمد کرنیوالا پانچواں بڑا ملک بن گیا،سیمینار سے خطاب۔ فوٹو:فائل

پاکستان ملائیشیا سے پام آئل اور پام آئل مصنوعات درآمد کرنے والا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے، سال 2012کے دوران پاکستان نے ملائیشیا سے 1.34ارب ڈالر مالیت کا 1.44ملین ٹن پام آئل اور پام آئل مصنوعات درآمد کیں.

پاکستان کی اسٹریٹجک جغرافیائی محل وقوع کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ممالک کے نجی شعبے کے لیے اس ملک میں سرمایہ کاری کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔ یہ بات ملائیشیا کے وزیر برائے پلانٹیشن انڈسٹریز اینڈ کموڈیٹیزAmar Douglas Uggah Embas نے گزشتہ روز کراچی میں تیسرے ملائیشیا پاکستان پام آئل ٹریڈ فیئر اور سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے ملائیشین کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ آئل اینڈ فیٹس کی تجارت، کیمیکلز، بائیوماس کے استعمال اورجانوروں کے چارے کے شعبے میں ترقی کے لیے پاکستان کی مقامی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کریں کیونکہ ایسی کوششیں یقینی طور پر پاکستان کی آئل وفیٹس کی صنعت کی ترقی کی حوصلہ افزائی اور دونوں ممالک کے درمیان مزید تجارت میں اضافہ کریں گی۔

ملائیشیا پاکستان پام آئل ٹریڈ فیئر اور سیمینارکا موضوع '' ملائیشین پام آئل کے ذریعے پاکستان کے بڑھتے ہوئے تیل اور چربی کی متنوع ضروریات کو پورا کرنا'' اور مقصد دونوں ملکوں میں تیل و چربی کے شعبے سے وابستہ مختلف اسٹیک ہولڈرزکوایک جگہ جمع کرنا اور پام آئل کی صنعت میں تازہ ترین پیش رفت کے بارے میں معلومات فراہم کرنا تھا، سیمینار نے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کوموقع فراہم کیا کہ وہ ان مسائل اوراقدامات کی نشاندہی کریں جو پام آئل کی تجارت میں اضافے میں رکاوٹ دور کرنے میں کردارادا کرسکتے ہیں.

اس سیمینار میں سامنے آنے والی سفارشات بھی پاکستان اور ملائیشیا کی حکومتوں کو اس قابل بنائیں گی کہ وہ باہمی مفاد پرمبنی ان اقدامات پرغورکریں جو دونوں ممالک کے نجی شعبے کے لیے مفید پام آئل کی مصنوعات کی درآمد اور برآمد کی شرح میں اضافے کے لیے سہولتیں فراہم کرسکتے ہیں۔ سیمینار میں معروف مقامی صنعتوںکے عہدیداروں، ملائیشیا، جرمنی اور برطانیہ سے بین الاقوامی ماہرین نے کثیرتعداد میں شرکت کی جبکہ اس دوران پیش کردہ پیپرز نے مارکیٹ کی صورت حال، تجارت، غذائی ایپلی کیشنز اور قیمتوں کے فرق سمیت مختلف موضوعات کا احاطہ کیا، تجارتی میلے نے ملائیشیا اور پاکستان سے 250 سے زائد شرکا کو اپنی طرف متوجہ کیا۔