پاکستان اسٹیل کے ملازمین کو 45 دن کی تنخواہ دینے کی منظوری درآمدی اور مقامی کھاد کا یکساں ریٹ مقرر

بوری1786روپے کی ہوگی حکومت یوریا کھاد پر741روپے فی بوری سبسڈی دیگی


News Agencies/Numainda Express January 17, 2014
بی او پی ای ٹی فلم کی درآمدی ڈیوٹی پرچھوٹ ختم، ای سی سی کا اقتصادی اعشاریوں پر اظہار اطمینان۔ فوٹو: فائل

KARACHI: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاکستان اسٹیل ملزکو بند ہونے سے بچانے کیلیے ہنگامی اقدامات کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کو فوری طور پر45 دن کی تنخواہ کی ادائیگی کیلیے ڈیڑھ ارب روپے فراہم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

پاکستان اسٹیل ملز کی تنظیم نو کیلیے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار اور چیئرمین نجکاری کمیشن پر مشتمل خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ ای سی سی نے اینگرو فرٹیلائزر کو معاہدے کے مطابق جتنے عرصے کیلیے گیس نہیں ملی اتنی مدت کیلیے رعایتی قیمت پر گیس فراہم کرنے کی منظوری کے ساتھ ساتھ ملک میں درآمدی اور مقامی کھاد کیلیے 1786روپے فی بوری کے حساب سے یونیفائڈ (یکساں) قیمت مقرر کر دی ہے۔ حکومت کسانوں کو سستی کھاد فراہم کرنے کیلیے741 روپے فی بوری کے حساب سے سبسڈی دے گی۔ اس وقت درآمدی یوریا کی تخمینہ جاتی قیمت 2527 روپے فی بوری ہے، یہ فیصلہ درآمدی اور ملکی یوریا کھاد کی قیمتوں میں فرق سے بدعنوانی کے خاتمے کیلیے کیا گیا ہے اس سے نہ صرف بدعنوانی کا ذریعہ ختم ہوگا بلکہ کسانوں کو مڈل مین کے استحصال سے بچایا جاسکے گا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈارکی زیر صدارت ہوا۔

 photo 2_zpsa34cc16f.jpg

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کو پینتالیس دن کی تنخواہ فوری طور پر ادا کی جائے گی اور ملازمین کو مکمل تحفظ دیا جائیگا، پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری سے قبل اسکی تنظیم نوکیلیے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار اور نجکاری کمیشن کے چیئرمین پر مشتمل کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو اس حوالے سے سفارشات تیارکرکے ای سی سی کے اگلے اجلاس میں پیش کرے گی اس کے علاوہ ای سی سی نے ایف بی آر کی سفارش پر بی او پی ای ٹی فلم کی درآمد پر دی جانیوالی کسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ بھی واپس لینے کی منظوری دیدی ہے۔ ای سی سی نے سترہ مارچ 2014 سے پاکستانی کرنسی میں افغانستان کو برآمدات بندکرنے کی بھی منظوری دی، سترہ مارچ کے بعد افغانستان کو صرف ڈالرز میں اشیاء برآمد کی جاسکیں گی کیونکہ افغانستان کو پاکستانی کرنسی میں اشیا برآمد کرنے کی اجازت دینے سے پاکستان سالانہ ایک ارب ڈالر کے زرمبادلہ سے محروم ہورہا ہے۔

ای سی سی نے فیصلہ کیا کہ نیشنل الیکٹرونکس کمپلکس آف پاکستان کے قیام کیلیے نیشنل انجیئرنگ اینڈ سائنٹیفک کمیشن آف پاکستان اور جی ای ٹی سی کے درمیان طے پانے والے فیصلے کے مطابق گارنٹی فراہم کی جائے گی۔ اجلاس میں لبرٹی پاور لمیٹڈ کے گیس بیسڈ235 میگاواٹ کے پاور پروجیکٹ کیلیے گیس کی قیمتوں کے بارے میں سمری کی بھی منظوری دیدی جبکہ ای سی سی نے اپ فرنٹ ٹیرف رجیم کی بنیاد پرونڈ پاور پروجیکٹ کیلیے اسٹینڈرڈائزڈ سیکیورٹی پیکیج ایگریمنٹ کی بھی منظوری دیدی ہے۔ ای سی سی کے اجلاس میں ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال اور اقتصادی اعشاریوں پر بھی غور کیا گیا اور ان اعشاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ افغانستان کو غلام خان چیک پوسٹ کے ذریعے صرف سیمنٹ کی برآمد کی اجازت دینے کی موجودہ پابندی ختم کی جائے گی تاکہ اس چیک پوسٹ کے ذریعے دیگر اشیا کی برآمد بھی ہوسکے۔اے پی پی کے مطابق ایک انٹرویو میں اسحق ڈار نے کہا حکومت معیشت اور سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے کیلیے تمام اقدامات کر رہی ہے، نجکاری کا عمل شفاف ہوگا۔ ملک میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ جی ڈی پی کی شرح نمو، ترسیلات زر، سرمایہ کاری اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔ روپے میں گلوبل بانڈ جلد جاری کیا جائے گا، قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے۔

مقبول خبریں