پولیس اصلاحات

ایک محتاط اندازے کے مطابق 1992ء سے 2010ء تک 250 پولیس والے جاں بحق ہوئے پھر 2011ء سے اس شرح میں تین چوتھائی اضافہ ہوا۔


Dr Tauseef Ahmed Khan January 18, 2014
[email protected]

نئے سال کے پہلے 9 دنوں میں چوہدری اسلم سمیت پولیس کے 9 اہلکار شہید ہوئے۔ 2013ء میں ہلاک ہونے والے پولیس والوں کی تعداد 166 تھی، گزشتہ سے پیوستہ سال 122 پولیس والے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف مزاحمت میں شہید ہوئے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر میں پولیس والوں کی اتنی بڑی تعداد میں فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاکت سے پولیس کو درپیش مسائل اور معاشرے میں قانون کی ابتری کی صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق 1992ء سے 2010ء تک 250 پولیس والے جاں بحق ہوئے پھر 2011ء سے اس شرح میں تین چوتھائی اضافہ ہوا۔ ایک طرف پولیس والے قانون کی بالادستی کے لیے مارے جا رہے ہیں تو دوسری طرف پولیس والوں پر قانون کو پامال کرنے کے الزامات لگنا معمول کی بات ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے سرحد شہر کندھ کوٹ کے کچے کے علاقے میں پولیس نے سند رانی قبیلے کے افراد کے گھروں کو نذر آتش کیا، خوفزدہ عورتیں اور بچے کشتی میں چھپ کر دریائے سندھ کے دوسرے کنارے پر فرار ہونے لگے۔ کشتی اندھیری رات میں الٹ گئی، متعدد عورتیں، بچے دریا میں ڈوب گئے۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق ایک پولیس اہلکار کے قتل کے خلاف پولیس والوں نے سندھ رانی قبیلے کے افراد کو انتقام کا نشانہ بنایا تھا، اگرچہ پولیس کے متعلقہ افسر نے گھروں کو نذر آتش کرنے کے الزام کی تردید کی مگر پولیس اور عوام میں اعتماد کے بحران کی بناء پر اس وضاحت کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

مغلوں کے دور تک داروغہ اور کوتوال کا ایک ادارہ قائم تھا جس کے ساتھ اہلکار ہوتے تھے، یہ داروغہ اس علاقے میں امن و امان کو یقینی بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے، یہ اہلکار قاضی کی عدالت کے سامنے جوابدہ ہوتے تھے، ان کے تقرر اور ترقیوں کے معاملات متعلقہ علاقے کے گورنر کی صوابدید پر ہوتے تھے۔ مغلوں کے دور تک ملزموں کے حقوق کا کوئی تصور نہ تھا، یوں جو شخص چھوٹے سے جرم میں زندان میں مقید کر دیا جاتا وہ برسوں زندان میں بند رہتا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں لارڈ میکالے کو پولیس اور عدلیہ کا نظام قائم کرنے کا فریضہ سپرد ہوا، پولیس ایکٹ 1861ء میں نافذ ہوا، اس ایکٹ کے تحت تھانوں کا تعین ہوا، ایف آئی آر کے درج ہونے کے بعد گرفتار ملزم کو 24 گھنٹے میں متعلقہ مجسٹریٹ کے ایف آئی آر درج کر کے تفتیش کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہوئے، ایس ایچ او کا فریضہ پراسیکیوشن کے ساتھ انویسٹی گیشن قرار پایا، برطانوی ہند حکومت نے نئے قانون کے نفاذ کے لیے امتیازی پالیسی اختیار کی۔ انگریزوں اور ہندوستانی شہریوں کے حقوق علیحدہ علیحدہ کر دیے گئے، مگر ہندوستانی شہریوں میں میرٹ کی بنیاد پر قانون نافذ کیا گیا، اس طرح عوام میں پولیس کا امیج قائم ہوا۔

اعلیٰ انگریز پولیس افسر اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ عام آدمی کی زندگی کو تحفظ فراہم نہ کرنے والے پولیس اہلکار کا سخت احتساب ہو۔ انگریزوں نے اس طرح ہندوستانی شہریوں کا اعتماد حاصل کیا، اس دور میں ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں، ادیبوں، دانشوروں، صحافیوں کے ساتھ پولیس نے ہمیشہ بہیمانہ سلوک کیا مگر عام ہندوستانی شہری میں پولیس کے اس نفرت آمیز سلوک کے خلاف وہ نفرت پیدا نہیں ہوئی جو آزادی کے بعد پیدا ہوئی۔ ہندوستان میں آزادی سے پہلے ہی پولیس نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق تبدیل کرنے کا کام شروع ہو چکا تھا۔ ہندوستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر بمبئی میں پولیس کے نظام کو جدید کمشنریٹ میں تبدیل کر دیا تھا، جدید کمشنریٹ میں منتخب نمایندوں کی نگرانی کے تصور کو عملی شکل دی گئی تھی۔

14 اگست 1947ء کو آزاد ہونے کے بعد پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں کراچی پولیس کو جدید کمشنریٹ نظام میں تبدیل کرنے کے لیے ایک قانون کا مسود ہ منظور کیا گیا مگر جب مسودہ علامتی منظوری کے لیے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کے سامنے پیش کیا گیا تو قائد اعظم نے اس قانونی مسودے کی انگریزی پر اعتراض کیا اور یہ دوبارہ اسمبلی کو بھیج دیا گیا، مگر پھر یہ اسمبلی کے ایجنڈے پر نظر نہیں آیا، یوں پولیس کے نظام کو جدید تر بنانے کی پہلی کوشش ناکام بن گئی۔ پھر حکومتوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے پولیس کو استعمال کرنا شروع کیا۔

شہروں میں تو صر ف بیوروکریٹس، وزراء اور حکومتوں کے حامی نمایندے سیاسی مخالفین کو سزائیں دینے کے لیے پولیس کو استعمال کرتے تھے مگر ملک کے اکثریتی دیہی علاقوں پر پولیس کو جاگیرداروں اور بالادست طبقات کا سب سے موثر ہتھیار بنا دیا گیا، یوں تھانہ کلچر کی ترویج کی گئی، پولیس کے اہم عہدے فروخت ہونے لگے، پولیس کے محکمہ میں رشوت کو بطور ادارہ مضبوط کرنا ہی حکمرانوں کا مفاد تھا۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ تمام تر نامساعد حالات میں پولیس نے امن و امان کے قیام اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے خاطر خواہ خدمات انجام دیں، اس فورس میں بہت سے اہلکاروں نے اپنی جانوں کے نذرانے بھی دیے، بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک کے دوران فوج کی مدد کے لیے کئی پولیس افسر بھیجے گئے، ان میں سے کئی شہید ہوئے مگر کیوں کہ پولیس کلچر کی بنیاد ہی عوام اور خاص طور پر پسماندہ طبقات حقوق کے غصب کرنے پر رکھی گئی ہے، اس بناء پر پولیس اور عوام کے درمیان خلیج بحیرہ عرب سے بحر ہند میں تبدیل ہوئی۔

اگر اخبارات، ریڈیو، ٹی وی پولیس کا کوئی کارنامہ بیان کرے تو عام آدمی اس کے پیچھے کسی اور سازش کو تلاش کرنے لگ جاتا ہے۔ اگر منتخب نمایندوں کی حکومتوں کے ادوار کا جائزہ لیا تو بھی قومی اسمبلی، سینیٹ یا صوبائی اسمبلیوں نے پولیس کے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے بحث نہیں کی۔ جب بھی غیر ملکی ماہرین پولیس کے نظام میں تبدیلی کے لیے اپنے خیالات کا اظہار کرتے تو ان خیالات کو غیر ملکی شر انگیزی قرار دے کر پس پشت ڈال جاتا۔ نہ صرف پولیس کے قوانین کو تبدیل کرنے پر توجہ نہیں دی گئی بلکہ تھانوں کی عمارتوں کو جدید خطوط پر آراستہ کرنے، پولیس والوں کی جدید خطوط پر تربیت، جرائم کے سد باب کے سیاسی طریقہ کار اور ٹیکنالوجی استعمال کرنے، انھیں جدید گاڑیاں فراہم کرنے پر توجہ نہیں دی گئی۔ اس طرح پولیس اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو بہتر تعلیمی، تفریحی سہولتوں کی فراہمی کے تصور کو فیصلہ ساز اداروں نے کسی سطح کے ایجنڈا میں شامل نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس اہلکاروں کی کالونیاں آج بھی بدحالی کا بدترین تصور پیش کرتی ہیں، ان کی اولاد پسماندگی کا شکار ہیں۔

سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں پہلی دفعہ پولیس ایکٹ 2002ء کے ذریعے پولیس میں ایک جدید نظام رائج کرنے کے سلسلے کا آغاز ہوا تھا۔ اس ایکٹ میں پولیس کے جدید نظام کے ساتھ عوامی نمایندوں کی نگرانی کے تصور کو عملی شکل دی گئی تھی، اس طرح پولیس کو جدید سہولتوں سے لیس کرنے کے لیے بھی طریقہ کار واضح تھا، ڈسٹرکٹ کی سطح سے وفاق تک پولیس سیفٹی کمیشن کے قیام سے پولیس کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق تبدیل کرنے کا عمل شروع ہو جاتا مگر پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت اور مسلم لیگ کی پنجاب کی حکومت نے اس نظام کی خامیوں کی نشاندہی کے بجائے اسے ختم کر کے پولیس کے فرسودہ نظم کو مضبوط کر دیا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج اور پولیس ایک دوسرے کے شانہ بشانہ ہے پولیس والے شہید ہو رہے ہیں۔ جرمنی کی حکومت کے محکمے JIZ اور سندھ پولیس کے تعاون سے پولیس میں اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ایک پروگرام شروع کیا، اس پروگرام کا ایک حصہ عوام کی آگاہی سے متعلق ہے۔ رائے عامہ کی تبدیلی سے پولیس کا نظام تبدیل ہو گا۔ پولیس اصلاحات وقت کی ضرورت ہے، جب تک عوام اور پولیس کے درمیان خلیج ختم نہ ہو گی یہ اصلاحات موثر ثابت نہیں ہوں گی۔ پولیس کے نظام کو موثر بنا کر امن و امان کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔