گردشی قرضے معیشت کیلیے خطرہ قرار شرح سود10فیصد پر برقرار

حکومت کوقرض لینے کی روش کم اوربتدریج مرکزی بینک کورقم لوٹانے کاعمل شروع کرناہوگا،گورنراسٹیٹ بینک کی پریس کانفرنس


Business Reporter January 18, 2014
گورنر اسٹیٹ بینک یاسین انورپریس کانفرنس کررہے ہیں۔فوٹو:پی پی آئی

اسٹیٹ بینک نے بڑھتے ہوئے حکومتی قرضوں،ٹیکس وصولی میں کمی اورگردشی قرضوں کو معیشت کیلیے خطرہ قراردیتے ہوئے مستقبل میں برآمدات میں اضافے،مہنگائی کی شرح بڑھنے اورتجارتی خسارے میں کمی کا امکان ظاہرکرتے ہوئے نئی زری پالیسی میں شرح سود کو10فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کااعلان کیاہے۔

شرح سودکوموجودہ سطح پربرقرار رکھنے کااعلان گورنراسٹیٹ بینک یاسین انورنے اسٹیٹ بینک کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں''زری پالیسی بیان''جاری کرتے ہوئے کیا۔ پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کافیصلہ گورنر اسٹیٹ بینک کی زیرصدارت اسٹیٹ بینک کے مرکزی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں کیا گیا۔زری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے گورنراسٹیٹ بینک نے کہاکہ حکومت کوآئی ایم ایف کی ہدایت کی روشنی میں مرکزی بینک سے قرض لینے کی روش کوکم کرناہوگااوربتدریج اسٹیٹ بینک کورقم واپس لوٹانے کاعمل شروع کرناہوگا،زری پالیسی بیان کے مطابق اسٹیٹ بینک نے ستمبراورنومبر2013میں کیے گئے اپنے2اعلانات میں پالیسی ریٹ میں 50،50بیسس پوائنٹس(بی پی ایس) کا اضافہ کیاجس کی وجہ2تشویشناک امور تھے، ایک معاملہ توازن ادائیگی کی صورتِ حال میں مسلسل بگاڑ کاتھااوردوسراگرانی کے امکانات کابدترہوناہے۔بیان میں کہا گیاکہ توازن ادائیگی کی صورتِ حال میں بنیادی کمزوری مالی سال2008 سے اب تک خالص آمد رقوم (inflows)میں مسلسل سکڑاؤہے،ڈھائی برسوں کے دوران آئی ایم ایف کوقرضوں کی خاصی واپسی سے اس دباؤمیں اضافہ ہی ہواہے۔



اطمینان سے بیٹھنے کی کوئی گنجائش نہیں اوربیرونی کھاتوں کی صورتحال میں پائیدار بہتری کیلیے خاصی کاوش درکارہے۔زری پالیسی بیان میں کہا گیا کہ مالی سال 2013-14کی پہلی ششماہی کے دوران گرانی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت (CPI) بڑھی ہے، اہم نکتہ یہ ہے کہ طلب سے ابھرنے والی گرانی کا خطرہ اب تک معتدل ہے، اجناس کی عالمی قیمتیں بھی مالی سال 2013-14 کے آغازسے مستحکم رہی ہیں یاکم ہوئی ہیں،اس وجہ سے گرانی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت پرشرح مبادلہ کی تغیرپذیری کے براہ راست اثر کی کسی حد تک تلافی ہوئی ہے،ان عوامل کو پیش نظر رکھ کراسٹیٹ بینک نے گرانی کے اپنے تخمینوں کونظر ثانی کے بعد کم کر لیا ہے، اسٹیٹ بینک نے بچت امانتوں میں رکھے گئے اوسط بیلنس پرکم ازکم شرح منافع کوشرح سود کوریڈورکے فلورسے منسلک کر دیاتھا،اس پالیسی اقدام سے یہ امر یقینی ہوگیاکہ امانتوں کی شرح پالیسی ریٹ میں تبدیلیوں پرزیادہ ردِعمل ظاہرکریں،مالی سال2013-14کی پہلی ششماہی کی دونوں سہ ماہیوں میں اسٹیٹ بینک سے مالیاتی قرض گیری (borrowing)کاسہ ماہی بہاؤمثبت رہاہے،یہ زری پالیسی کی اثرانگیزی کیلیے اچھاشگون نہیں،اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ مالی سال2013-14 کی دوسری ششماہی میں نئے آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے مطابق حکومت یہ قرض گیریاں کم کریگی اورواجب الادااسٹاک بتدریج گھٹائے گی، مالیاتی کیفیت کوخطرہ ٹیکس محاصل میں ممکنہ کمی،شعبہ توانائی کے گردشی قرضوں کے پھرسرابھارنے اور مقررہ بیرونی رقوم کی آمدمیں تاخیرسے ہے۔