افغان صورتحال کا نیا منظرنامہ

افغانستان کے خطرات کثیر جہتی ہیں، وہ انخلا کے بعد سے ابہام کا شکار ہے۔


Editorial June 03, 2021
افغانستان کے خطرات کثیر جہتی ہیں، وہ انخلا کے بعد سے ابہام کا شکار ہے۔ فوٹو: فائل

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکا کے افغانستان سے انخلا کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی خلا کے حوالے سے پاکستان کی پریشانی بڑھ رہی ہے کیوں کہ متحارب افغان گروہوں کے مابین کامیاب مفاہمت کے پہلے سے ہی کم امکانات ہر گزرتے دن کے ساتھ مدھم ہوتے جا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آیندہ چند روز میں بین الافغان مذاکرات کا ایک اور دور ہونے والا ہے لیکن پاکستانی حکام کسی بریک تھرو کے حوالے سے زیادہ پرامید نظر نہیں آتے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان کے ولیسی جرگہ کے اسپیکر میر رحمن رحمانی سے بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ''اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھا کر افغانستان اور خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ایک جامع، ٹھوس اور وسیع تر سیاسی تصفیے پر کام کریں''۔

مبصرین کے مطابق افغان امن عمل میں جمود کے باعث سیکیورٹی خلا کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ برس ستمبر میں شروع ہونے والے امن مذاکرات میں اصولوں اور طریقہ کار کے بارے میں سمجھوتہ اور وہ بھی جو معمولی امور پر مہینوں تک بحث کے بعد حاصل ہوا کے علاوہ معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔

صدر جوبائیڈن کے منصب سنبھالنے کے بعد امریکا طالبان 2019 کے معاہدے پر نظر ثانی کے اعلان اور امریکی افواج کے انخلا کے لیے 11 ستمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کرنے سے یہ تعطل مزید گہرا ہوا۔ پاکستان اور بین الاقوامی برادری نے دونوں فریقین کو تنازع ختم کرنے کے لیے بقیہ مسائل پر بات چیت کے لیے دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی متعدد کوششیں کیں لیکن اب تک کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔

اس ضمن میں ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان نے دیگر چیزوں کے علاوہ عبوری حکومت پر زور دیا تھا لیکن افغان صدر اشرف غنی کی سخت مخالفت کی وجہ سے یہ خیال زور نہ پکڑ سکا۔

دوسری جانب طالبان بھی اس امید پر امن معاہدے کے زیادہ خواہشمند نہیں کہ وہ میدان جنگ میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران طالبان نے متعدد فوجی اڈوں پر چڑھائی کے بعد کئی اہم اضلاع اپنے قبضے میں لے لیے ہیں اور بڑی تعداد میں افغان فوجیوں نے بھی طالبان کے آگے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ پاکستان کا اندازہ یہ ہے کہ امریکا کے انخلا کے بعد افغان سیکیورٹی فورسز میں ملک سنبھالنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

امریکا فوجیوں کے انخلا کا 44 فیصد عمل مکمل کر چکا ہے، جب صدر جوبائیڈن نے انخلا کی مدت کا اعلان کیا تھا اس وقت افغانستان میں 2500 امریکی اور 7 ہزار نیٹو فوجی موجود تھے۔ جس رفتار سے انخلا کا عمل جاری ہے اس نے بھی پاکستان کے خدشات کو ہوا دی ہے۔

حکام کا اندازہ ہے کہ امریکا شاید جولائی یا اگست تک انخلا کا عمل مکمل کرلے اور کابل میں صرف اپنے سفارتخانے کی حفاظت کے لیے تھوڑی سے فوج چھوڑ جائے۔ جولائی تک امریکی انخلا کی رپورٹس کے بارے میں عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ قیاس آرائی ہے کیوں کچھ لوگ اندازہ لگا رہے ہیں شاید امریکا یہ کام اپنے یوم آزادی تک کرلے۔

پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ سیاسی تصفیے کے بغیر مکمل انخلا کے بعد خانہ جنگی مزید شدید ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں، اس سے مزید پناہ گزین پاکستان کی جانب آنے کا امکان ہے جس کی معیشت پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔

عہدیدار نے کہا کہ یہ سیکیورٹی کا ڈراؤنا خواب بھی ثابت ہو سکتا ہے، افغانستان میں چھپے ہوئے پاکستانی دہشت گرد بھی صورتحال خراب کر سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ پاکستان میں حملوں کے لیے شرپسند عناصر گٹھ جوڑ کر لیں۔

افغانستان کے خطرات کثیر جہتی ہیں، وہ انخلا کے بعد سے ابہام کا شکار ہے، طالبان قیادت، دیگر جنگجو، وار لارڈز اور مخالف دھڑے بھی فیصلہ کن طاقت نہیں رکھتے، ماضی میں انھیں جن مغربی، یورپی اور خطے کی دیگر طاقتوں کی حمایت حاصل تھی وہ اخلاقی مدد بھی اب سکڑتی نظر آتی ہے۔

لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا ایک گروہ طالبان کے تیور بدلے ہوئے دیکھتا ہے، کچھ کا کہنا ہے کہ دوحہ قطر مذاکرات کی کوئی منزل نہیں ملی، امریکا نے اس بات چیت سے خود کو الگ کرتے ہوئے انخلا کا یکطرفہ فیصلہ کرکے خطے میں ایک عظیم کنفیوژن پیدا کیا ہے، کوئی سمت نہیں، پاک افغان معاملات دھند میں چھپ گئے ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ انخلا کے بعد سے صورتحال جمود کا شکار ہے، افغان حکومت بھی گومگو کی کیفیت میں ہے، لیکن بعض سیاسی مبصرین کے مطابق پیدا شدہ صورتحال نے طالبان کو دلیر بنا دیا ہے۔

وہ خاموش نہیں ہیں، بلکہ گزشتہ دنوں انھوں نے ایک بیان میں پڑوسی ممالک کو خبردار کیا کہ وہ اپنی زمین غیر ملکی فوجی اڈوں کے لیے نہ دیں اگر ایسا کریں گے تو خطے میں یہ تاریخی غلطی ہوگی، پاکستان نے اسی سیاق و سباق میں واضح کیا کہ پاکستان اس قسم کا کوئی اقدام نہیں کریگا اور نہ ایسی کوئی تجویز حکومت کے زیر غور ہے، کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کے فوجی حل کی طرف جائیں گے، مبصرین کے نزدیک طالبان کو اپنے آیندہ کے لائحہ عمل کے مطابق سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہئے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں مسائل کے حل، خطے میں تعلقات کار، ڈپلومیسی، سیاسی اشتراک، انسداد دہشت گردی، داخلی استحکام اور پاکستان سے قریبی تعلقات کے تجربات سے کس قسم کا صائب فائدہ اٹھائیں گے۔

ماہرین کے مطابق افغان حکومت کی ہچکچاہٹ، داخلی کمزوریوں، مخاصمت، وژن کی کمی اور جنگجو دھڑوں کے دباؤ نے فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا ہے جس کے نتیجہ میں طالبان کو حالات نے فرنٹ فٹ پر ڈال دیا ہے، طالبان کے شہری آبادیوں پر حملوں کے باعث ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں، تصادم اور تشدد سے خطے کی سلامتی، اسٹریٹیجکل تناؤ میں شدت کا تناسب بھی غیر معمولی ہوگیا ہے، ایک سینئر تجزیہ کار کے مطابق افغانستان سے حیران کر دینے والی خبریں آ سکتی ہیں۔

امریکی فوج کے افغانستان سے جاری انخلا کے آخری مرحلے میں امریکا دہائیوں سے اپنے زیر استعمال ملک کے سب سے اہم اڈے بگرام ایئر بیس کو چند روز میں افغان حکومت کے حوالے کر دے گا۔ امریکی اور افغان عہدیداروں نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکا اگلے 20 روز کے دوران بگرام ایئر بیس کا کنٹرول کابل حکومت کو دے دے گا۔

1980 کی دہائی میں روس کی جانب سے تعمیر کیا گیا یہ وسیع اڈہ امریکی اور نیٹو افواج کی جانب سے افغانستان میں استعمال ہونے والی سب سے بڑی فوجی تنصیب رہی ہے اور 2001 میں افغانستان پر امریکی جارحیت کے بعد سے اس کے ہزاروں فوجی یہاں تعینات رہے ہیں۔

ایک امریکی دفاعی عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو حوالگی کی حتمی تاریخ بتائے بغیر بتایا ''میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ ہم بگرام ایئر بیس کو (افغان حکومت) کے حوالے کر رہے ہیں''۔ دوسری جانب ایک افغان سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ ایئربیس کی حوالگی کا یہ عمل لگ بھگ 20 دن میں متوقع ہے اور افغان وزارت دفاع نے اس کا انتظام سنبھالنے کے لیے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔ ادھر واشنگٹن میں پینٹاگون نے اشارہ دیا ہے کہ امریکا افغانستان سے انخلا کی رفتار بڑھا رہا ہے۔

پیر تک امریکی سینٹرل کمانڈ نے اندازہ لگایا کہ اس نے انخلا کا 30 سے 44 فیصد عمل مکمل کرلیا ہے۔ امریکا پہلے ہی 300 سی 17 ٹرانسپورٹ طیاروں کے ذریعے اپنا فوجی ساز و سامان افغانستان سے نکال چکا ہے۔ اپریل میں صدر جوبائیڈن نے انخلا کے لیے ستمبر کا ہدف مقرر کیا تھا۔ اس دوران افغانستان میں مقیم تمام 2500 امریکی فوجیوں اور 16 ہزار کے قریب سویلین کنٹریکٹرز کو ملک سے باہر نکالنا ہے تاکہ امریکی فوج کو دو دہائیوں پر مشتمل اس جنگ سے نکالا جا سکے۔

بگرام ایئربیس گزشتہ دو دہائیوں سے امریکی فوج کے لیے زمینی اور فضائی کارروائیوں کا مرکز تھا۔ واشنگٹن نے یکم مئی سے پہلے ہی اس وقت چھ فوجی اڈے افغان افواج کے حوالے کر دیے تھے، جب اس نے اپنے فوجیوں کی واپسی میں تیزی لانا شروع کر دی تھی۔

گزشتہ ماہ امریکا نے جنوبی افغانستان میں قندھار ایئر فیلڈ سے انخلا کو بھی مکمل کیا جو اس وقت ملک کا دوسرا سب سے بڑا غیر ملکی فوجی اڈہ تھا۔ دوسری جانب نیٹو کے سکریٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ فوجی تنظیم کے افغانستان سے انخلا کا عمل درست سمت میں جاری ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق نیٹو چیف کا کہنا ہے کہ اس فوجی اتحاد نے تقریباً دو دہائیوں سے افغانستان میں سلامتی کے حوالے سے مدد فراہم کی ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ اب نسبتاً تربیت یافتہ افغان حکومت اور اس کی مسلح افواج اتنی مضبوط ہیں کہ وہ بین الاقوامی فوج کی مدد کے بغیر تنازع سے متاثرہ ملک کو اپنے طور پر کھڑا کر سکتے ہیں۔

نیٹو چیف نے کہا کہ اگرچہ اتحادی فوجیں اب افغانستان میں نہیں رہیں گی، تاہم 30 ممالک کا اتحاد اور اس کے شراکت دار افغانستان کی 'قابل اور مضبوط سیکیورٹی فورس' کی فنڈنگ جاری رکھیں گے۔ امریکی انخلا میں تیزی کے باوجود طالبان اور افغان افواج کے مابین ملک بھر میں خونی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

پولیس نے بتایا کہ دارالحکومت کابل میں منگل کو تشدد کے تازہ ترین واقعے میں مسافر بسوں کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم 10 شہری ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے۔ اسی طرح ایک اور دھماکے کے نتیجے میں بجلی کے بند ہونے سے کابل کے کئی حصے تاریکی میں ڈوب گئے۔ قطر میں طالبان اور افغان حکومت کے مابین امن مذاکرات کا سلسلہ بھی تعطل کا شکار ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق آیندہ چند ماہ افغان صورتحال کے حوالہ سے ارباب اختیار کے لیے گنجینۂ معنی کا طلسم ہونگے، خطے میں سیکیورٹی انخلا کے حوالہ سے قوم کو مکمل اعتماد میں لینے اور داخلی امن واستحکام کے چیلنجز سے نمٹنے کی آج پہلے سے بھی زیادہ ضرورت ہے۔

مقبول خبریں