سیاسی بصیرت کے تقاضے

معاشرتی مسائل، سیاسی ٹکراؤ اور سخت اختلاف رائے کو رقابت میں ڈھالنا سیاسی بصیرت نہیں۔


Editorial June 05, 2021
معاشرتی مسائل، سیاسی ٹکراؤ اور سخت اختلاف رائے کو رقابت میں ڈھالنا سیاسی بصیرت نہیں۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے شرح سود 13.25فیصد تک لے جا کر پاکستان سے زیادتی کی جس سے قرضوں کا بوجھ1300ارب روپے مزید بڑھ گیا، آیندہ بجٹ میں نئے ٹیکس لگانے کی آئی ایم ایف کی تجویز نہیں مانیں گے، ٹیکس پر ٹیکس نہیں بلکہ ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے گا، آئی ایم ایف کو بتا دیا ہے ٹیرف نہیں بڑھائیں گے بلکہ ٹیرف کا متبادل منصوبہ دیں گے، ہمارا ہدف ہے کہ ٹیکس ریونیو ہر سال 20 فیصد بڑھائیں، آیندہ دو سالوں میں ٹیکس محصولات7ہزار ارب تک لے جائیں گے، خسارے میں چلنے والے بڑے اداروں کی تنظیم نو اور نجکاری کی جائے گی۔

جمعرات کو وفاقی وزراء حماد اظہر اور خسرو بختیار کے ساتھ ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ 2018ء میں (ن) لیگ کی حکومت نے قرض لے کر 5.8 فیصد کی معاشی گروتھ دکھائی، سرمایہ کاری میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر مضبوط رکھا گیا، اس کے نقصانات موجودہ حکومت کو بھگتنا پڑے،20 ارب ڈالر کا تاریخی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہوا، اسحاق ڈار نے معیشت کا بیڑہ غرق کیا جس کو موجودہ حکومت نے سنبھالا۔ اب گردشی قرضہ کم ہو رہا ہے۔

اس وقت معیشت کی شرح نمو4 فیصد ہے جو اوپر جا رہی ہے، یہ بہتری اگلے سال5 اور اس سے اگلے سال 6فیصد رہے گی۔ اس موقع پر وزیر توانائی حماد اظہر نے اعتراف کیا کہ ملک میں مہنگائی ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ معیشت بہتر ہو رہی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں، رواں مالی سال معاشی شرح نمو ساڑھے4 فیصد تک لے جائیں گے۔

مخدوم خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ ملک میں بڑھتی معاشی سرگرمیوں اور موجودہ حکومت کی کامیاب اقتصادی پالیسیوں نے ملک کو بحرانوں سے نکال دیا ہے۔(ن) لیگ کی حکومت نے پاکستان کو ڈیفالٹ کے دہانے پہ کھڑا کیا تھا مگر وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں کورونا کے باوجود پاکستان کی معیشت مستحکم ہے، رواں سال پاکستانیوں کی فی کس آمدنی میں13.4فیصد نمایاں اضافہ ہوا ہے، فی کس آمدنی1361ڈالر سے بڑھ کر 1543ڈالر ہوگئی ہے۔

بجٹ قریب آرہا ہے، ملکی معیشت اپنے استحکام اور حکومت کو اپنے اعداد و شمار، ریونیو اکٹھا کرنے میں ایک کوہ گراں کا سامنا ہے، جب کہ اپوزیشن کا بیانیہ ہے کہ حکومتی معاشی اعداد و شمار ایک گورکھ دھندا ہے، عوام حکومت و اپوزیشن کے انداز نظر کے درمیان کشمکش میں چکی کے دو پاٹوں میں پس گئے ہیں، مہنگائی اور بیروزگاری کا سونامی عروج پر ہے۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ مسئلہ اقتصادی ترجیحات اور معیشت کے استحکام کی بالادستی کا ہے، عوام کسی بحث کا عملی حصہ نہیں، انھیں روٹی، روزگار، غربت میں کمی ،گڈ گورننس چاہیے، ان کی ذہنی حالت قابل رحم ہوگئی ہے، حقیقت یہ ہے کہ بنیادی مسئلہ سسٹم کی خرابی، دونوں سیاسی جماعتوں میں سیاسی رقابت اور حکومت کے تبدیلی کے بلند آہنگ فلسفہ اور اقتصادی پیش رفت واضح حکمت عملی کے بحران کا ہے۔ کوئی فیصلہ کن بریک تھرو نہیں ہوتا، قوم کو اطمینان دلانے کی کوشش تو ہوتی ہے لیکن ملک ایک منصفانہ، پائیدار اور متحرک و متفقہ اقتصادی پالیسی سے محروم ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاشی ماہرین اپنے علم اور باریک بینی کے بوجھ سے اپنا سر سیدھا نہیں کر سکتے، اس بات کا ارباب اختیار کو ادراک نہیں ہے کہ معیشت اس ابہام، محاذ آرائی، کشیدگی سے عوام کو کوئی ریلیف نہیں دے سکے گی، اندھیرے مزید پھیلیں گے، مسائل سیاسی بلیم گیم اور باہمی الزام تراشیوں سے سیاسی اور جمہوری استحکام کو دشوار بنا دے گی۔

ملکی صورتحال کو ایک طرف اقتصادی بند گلی سے نکلنے کا چیلنج درپیش ہے، دوسری جانب خطے کی صورتحال سوالیہ نشان ہے، تعلیم و صحت کے مسائل توجہ کے مستحق ہیں، کورونا اور ویکسین کا ہدف ایک اعصاب شکن ٹارگٹ ہے، سماجی اور معاشی پیش قدمی کے لیے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں سیاسی بصیرت، دور اندیشی، یکجہتی، جمہوری اعتدال پسندی اور معروضیت پسند مکالمہ کی جستجو اور اختلاف رائے کے جمہوری حق کو تسلیم کرنے کی روایت کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ سیاست دانوں کے لہجے کی جھنکار، جمہوری مفاہمت اور پارلیمانی مصالحت کے امکانات کم ہوتے دکھائی دیتے ہیں، جمہوری اور فہمیدہ حلقوں کو اس بات پر شدید تشویش ہے اور یہ درد انگیز ماحول جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں ہے، عوام اس صورتحال سے تنگ اور شدید تناؤ میں ہیں۔

انھوں نے ایسے سیاسی ماحول کی نہ تو خواہش کی تھی، نہ دو پارٹی سسٹم کے ذریعے سیاست کو یرغمال بنانے کا کوئی عہد کیا تھا، عوام جمہوری اقدار پر یقین رکھتے ہیں اور سیاستدانوں سے بھی قوم ایک جمہوری اور قابل قدر سیاسی و سماجی نظام کی داغ بیل ڈالنے کی توقع رکھتی ہے مزید براں ایک فیض رساں جمہوری کلچر کی نشو و نما اور عوام کو آسودہ و خوشحال دیکھنا چاہتی ہے، لہٰذا سیاسی و جمہوری قوتیں عوام کو مزید کسی مشکل میں نہ ڈالیں۔

کوئی ملک اس قسم کی صورتحال میں ہوشربا ترقی اور خیالی بریک تھرو نہیں کر سکتا لیکن حتمی تجزیے میں عوام کو ماسوائے الزام تراشی، کشیدگی اور مخالفانہ بیان بازی کے حقیقی پیش رفت اور خیرسگالی و سیاسی دور اندیشی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی، ملک کو ایک وسیع المشرب سیاسی آفاقیت نصیب ہونی چاہیے، لیکن رائج الوقت کشیدگی اور بحث و تکرار کی بھی ایک ڈیڈ لائن لازمی ہے ورنہ یہ سیاسی دیوانگی سیاست کے طالب علموں کو انتشار خیالی کا شکار بنا دے گی۔ ملک کو ٹاکرے، تصادم اور بے یقینی سے بچانے میں پیش قدمی کیجیے۔

ادھر وفاقی وزراء نے کہا کہ غربت میں کمی کے لیے غریب اور مستحق افراد کو براہ راست مالی معاونت اور گھر فراہم کیے جائیں گے، پی ایس ڈی پی میں38 فیصد کا اضافہ کیا جائے گا، بجٹ میں زراعت، برآمدی شعبے، آئی ٹی اور انڈسٹری کو سہولیات دی جائیں گی،4 سے 6ملین افراد کو گھر، قرضے، ہیلتھ کارڈ اور ہر خاندان کے ایک فرد کو فنی تعلیم فراہم کی جائے گی، ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ریٹیل اور دیگر شعبوں تک ٹیکس کا دائرہ بڑھائیں گے۔ گردشی قرضے میں اضافہ روکنے کی کوشش کرینگے۔

حماد اظہر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے بجٹ سیمینار میں غلط اعداد و شمار پیش کرکے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے۔ (ن) لیگ کی معاشی ٹیم ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب چھوڑ کے گئی تھی۔ موڈیز اور ففٹ جیسے عالمی اداروں نے ان کے دور میں پاکستان کی معیشت کی درجہ بندی کم کر دی تھی اور یہ خود اس وقت کہتے تھے کہ نئی حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا۔ جب مسلم لیگ (ن) کا دور ختم ہوا تو ہمیں10ارب ڈالر قرضے واپس کرنا پڑ رہے تھے۔ کرنٹ اکاؤنٹ اب سرپلس ہے، بڑی صنعتوں کی شرح نمو9 فیصد ہے اور یہ14فیصد تک جا سکتی ہے، ٹیکس کا ہدف پورا ہو رہا ہے، ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، مہنگائی پوری دنیا میں ہے، ہم بھی اس کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) نے پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیوں کو ناکام اور کارکردگی کو انتہائی مایوس کن قرار دیدیا، (ن) لیگ کے صدر شہباز شریف نے آیندہ بجٹ سے متعلق حکومت کے اعداد و شمار کو الفاظ کا گورکھ دھندہ قرار دیدیا۔

شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سنگین حالات حکومت کی بدترین کارکردگی کی وجہ سے پیدا ہوئے، حکومت اچھا کام کرتی تو تعریف بھی کرتے،50 لاکھ گھر بنانے کا دعویٰ کرنیوالے6ماہ میں ایک گھر بنانے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے، مسلم لیگ(ن)کے زیراہتمام پری بجٹ سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیوں اور کارکردگی کا مختصر جائزہ لیا گیا اور موجودہ حکومت کی تین سالہ کارکردگی پر کڑی تنقید کی،

پارٹی کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تین برسوں میں مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی، بے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے،3برسوں میں کتنے کروڑ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔

سینئر رہنما احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے چار سال میں11ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبے نصب کیے، (ن) لیگ نے2ہزار کلو میٹر تک کی موٹروے5سال میں بنائی عمران خان جیسے اناڑیوں کو لا کر ملک پر مسلط کر دیا جاتا ہے تو نقصان کرتے ہیں، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پی ٹی آئی نے معیشت سے کھلواڑ کیا ہے۔

سپرپم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے اسٹیٹ بینک کی انتظامیہ پر برہم ہوتے ہوئے ریمارکس دیے کہ افسران نے دیگر ملازمین کے بجائے اپنی تنخواہیں بڑھا دیں، اسٹیٹ بینک کی پوری انتظامیہ کو فارغ کرنا چاہیے تھا، اسٹیٹ بینک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا، اتنا بڑا نقصان بینک انتظامیہ کی نااہلی سے ہوا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس طرح کے معاملات سامنے آتے ہیں تو تکلیف ہوتی ہے، کتنی شرم کی بات ہے کہ بڑے بڑے افسران تنخواہیں لے کر اداروں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے برہم ہوتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اتنے بڑے نقصان کے بعد آپ کے کسی افسر کو اثر ہی نہیں ہوا ہوگا۔

ملازمین کے وکیل نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ اسٹیٹ بینک کے وکیل نے تو متعلقہ دستاویزات ہی نہیں لگائیں۔ چیف جسٹس نے اسٹیٹ بینک کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جیسے سینئر وکیل سے ہم یہ امید نہیں کرتے تھے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ شفافیت، میرٹ اور انصاف کے تقاضے جمہوری عمل کی روح ہوتے ہیں، سماجی محاذ پر جذباتی ٹھہراؤ سے کام لینا ناگزیر ہے، معاشرتی مسائل، سیاسی ٹکراؤ اور سخت اختلاف رائے کو رقابت میں ڈھالنا سیاسی بصیرت نہیں، سیاسی دانشمندی ملکی سیاست کا اولین ورثہ ہے، سیاسی انحطاط کا راستہ روکیے، سیاسی تلواریں نیام سے باہر نہ نکلیں، اسی میں ملک کا فائدہ ہے۔ یہی راستہ جمہوری ہے۔

مقبول خبریں