ترکی کا مشہورِ زمانہ سیریل ’’آسی‘‘ اب ایکسپریس انٹرٹینمینٹ پر

’’ایکسپریس انٹرٹینمینٹ‘‘ پر اردو زبان میں


Cultural Reporter September 09, 2012
ترکی میں بننے والا مشہور ِ زمانہ سیریل ’’ آسی‘‘اب پاکستان میں ہر جمعے کی رات 10 بجے اردو زبان میں ’’ایکسپریس انٹرٹینمینٹ‘‘ پر دکھایا جا رہا ہے۔ فوٹو : ایکسپریس

ISLAMABAD: پاکستان میں ٹی وی چینلز کی بھیڑ میں ''ایکسپریس انٹرٹینمینٹ'' نے بہت کم عرصے میں اپنا نام اور مقام بنایا۔

تیزی سے ترقی کرتی انٹرٹینمینٹ انڈسٹری میں اپنے ناظرین کی تعداد میں اضافہ کیا۔ یہ ٹی وی چینل ناظرین کی دل چسپی اور انھیں تفریح فراہم کرنے کی غرض سے کئی کام یاب پروگرامز، خصوصاً ڈرامے پیش کرچکا ہے اور اب یہ ٹی وی چینل ''آسی'' پیش کر رہا ہے جو ایک ترکی ڈرامے کی اردو ڈبنگ ہے۔

ترکی میں بننے والی مشہور ِ زمانہ سیریل '' آسی'' جو ترکی ٹیلی ویژن چینل، کینل D پر نشر ہوئی تھی، اب پاکستان میں ہر جمعے کی رات 10 بجے اردو زبان میں ''ایکسپریس انٹرٹینمینٹ'' پر دکھائی جا رہی ہے۔

''آسی '' کا دورانیہ 40 منٹ ہے جب کہ یہ سیریل 80 سے زاید اقساط پر مبنی ہو گی۔ اس سیریل کی کام یابی اور مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسے عربی، فارسی، یونانی، صومالی، انگریزی اور روسی زبان کے علاوہ دیگر کئی زبانوں میں ڈبنگ کر کے ٹی وی پر نشر کیا جاچکا ہے۔

''آسی'' کو تقریباً 60 ممالک میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے اور یہ مشرقِ وسطیٰ میں اب تک سب سے زیادہ دیکھی جانے والی سیریل ہے۔ ''آسی'' پاکستانی مارکیٹ میں سب سے پہلے خریدی جانے والی ترکی سیریل ہے۔

اس سیریل کے ذریعے ناظرین ترکی کے حسین شہرانطاکیہ کے دل کش اور خوب صورت مناظر دیکھ سکیں گے۔ اس سیریل کے مرکزی کردار ''آسی'' اور ''دیمیر'' ہیں اور کہانی ان دونوں کے ساتھ ان کے خاندانوں کے گرد گھومتی ہے۔ آئیے اس سیریل کی کہانی پر نظر ڈالتے ہیں۔

آغا فیملی تین نسلوں سے زراعت کے میدان میںایک نمایاں مقام رکھتی ہے اور انِ کے نزدیک فارم ہائوس کو نہ صرف قائم و دائم رکھنا بلکہ اسے بہترین انداز میں چلانا ہی زندگی کا بنیادی مقصد ہے۔ فارم ہائوس کے مالک احسان آغا اور ان کی بیٹی آسی اسیِ فارم ہائوس میں رہتے ہیں اور ان کا معاش بھی اسی سے وابستہ ہے۔

برسوں پہلے دیمیر کی امی )ایمن( اور خالہ)سہیلا(آغا صاحب کے فارم ہائوس پر ملازمت کرتی تھیں اور ایک دن اپنے حالات سے تنگ آکر دیمیر کی ماں یعنی ایمن نے دریائے آسی میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی تھی۔

کئی برس گزر جانے کے بعد دیمیر ایک کام یاب اور مال دار بزنس مین بن کر انطاکیہ لوٹتا ہے۔ ایک روز دیمیر آسی کو ڈوبنے سے بچاتا ہے اور اُسے بچاتے وقت بھی دیمیرکے وجود میں گزرے دنوں کے اُن حا لات کی تلخی موجود ہے جن کی وجہ سے دیمیر کی والدہ نے اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا چراغ گُل کر دیا تھا۔

سیریل کے دوران آغا اور دیمیر کے گھر والوں کے درمیان ماضی کے کچھ او رشتے بھی مسلسل سامنے آتے رہتے ہیں۔ دیمیر کی خالہ سہیلا کے انطاکیہ لوٹنے پرکئی پرانے راز وں سے بھی پردہ اٹھتا ہے۔ اس طرح کہانی آگے بڑھتی ہے اور اس میں کئی موڑ آتے ہیں جو ناظرین کی توجہ اور دل چسپی کا باعث بنیں گے۔

''آسی'' اپنے جان دار اسکرپٹ اور اداکاروں کی شان دار پرفامینس کی وجہ سے انٹرٹیمینٹ انڈسٹری کے ناقدین نظر میں آئی اور اسے بے حد پزیرائی ملی ۔ 60 ممالک میں شان دار ریٹنگ کی وجہ سے 51 ویں مونٹی کارلو ٹیلی ویژن فیسٹیول میں بہترین سوپ اوپرا کے لیے نام زد کیا گیا جب کہ آسی کا کردار ادا کرنے والی ترکی اداکارہ طوبیٰ کو بہترین اداکاری پر ایلے اسٹائل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

سیریل میں دیگر اداکاروں نے بھی اپنی پرفارمینس سے ناظرین کی توجہ حاصل کی اور اس ڈرامے کی کام یابی میں اہم کردار ادا کیا۔

''ایکسپریس انٹرٹینمینٹ''نے اپنے ناظرین کے لیے اس مشہور اور مقبول ترین سیریل کا انتخاب کیا ہے جسے پاکستان میں انٹرٹینمینٹ کی دنیا کے ناقدوں نے حوصلہ افزاء رجحان قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اردو زبان میں پیش کی جانے والی یہ سیریل کروڑوں ناظرین کی توجہ حاصل کر لے گی۔

مقبول خبریں