پاکستان بائیوٹیک فصلیں کاشت کرنیوالے 57 ممالک میں شامل

بڑھتی آبادی، پھیلتے شہراور پانی و بجلی بحران قومی ترقی میں بڑی رکاوٹیں ہیں، بائیوٹیکنالوجسٹس


INP January 20, 2014
بڑھتی آبادی، پھیلتے شہراور پانی و بجلی بحران قومی ترقی میں بڑی رکاوٹیں ہیں، بائیوٹیکنالوجسٹس۔ فوٹو: رائٹرز/ فائل

پاکستان بائیو ٹیک فصلوں کی تجارتی پیمانے پر کاشت کو اختیار کرنے والے دنیا کے 57ممالک میں شامل ہوگیا۔

بائیوٹیک فصلوں کو کم پانی،کم کھاد اور کم کیڑے مار دوائوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں فوڈ اور فیڈ سیکیورٹی کے لیے بائیو ٹیکنالوجی اور بائیو سیفٹی پر نیشنل ڈائیلاگ اور انسٹیٹیوشنل بائیو سیفٹی کمیٹی کے ارکان کی استعداد بڑھانے اورمیڈیا پریکٹشنرزکے لیے ورکشاپ کا انعقاد ہوا جس میں پاکستان اور دوسرے ممالک کے سرکردہ بائیو ٹیکنالوجسٹس نے شرکت کی۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے چھ سب سے زیادہ آبادی والے ملکوں میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے خوراک کے عدم تحفظ اور امیر اور کم وسائل رکھنے والے غریب کاشت کاروںکے درمیان فصل کی پیداوار میں ایک بڑے خلا سمیت پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے۔

اس کے علاوہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا دبائو، پھیلتے ہوئے شہراور پانی و بجلی کا بحران قومی ترقی کی راہ میں حا ئل بڑی رکاوٹیں ہیں۔ 2050 تک پاکستان کی آبادی 250 ملین ہو جائے گی۔ اس حقیقت کے باوجود کہ پاکستان57 میں سے ان تین اسلامی ملکوں میں شامل ہے جنھوں نے بائیو ٹیک فصلوںکی تجارتی پیمانے پر کاشت کو اختیار کر لیا ہے۔ پاکستان میںخوراک کی قیمتیں اب بھی سب سے زیادہ ہیں۔ زراعت قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ پاکستان کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جو سب سے زیادہ کپاس، مکئی، چاول،اورcitrus وغیرہ پیدا کرتے ہیں۔تاہم ان کی فی ایکڑ پیداوار اور کوالٹی عالمی معیار کے مطابق نہیں ہے۔ چنانچہ یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ سائنسی بنیاد پر زرعی طور طریقے اختیار کیے جائیں تاکہ خوراک، فائبر اور چارے کی مسلسل بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کیا جا سکے۔

 photo 3_zps78f903f1.jpg

زرعی پیداواریت کو بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی خصوصی صلاحیت کی حامل ہے۔تاہم بائیو ٹیکنالوجی اختیار کرنے سائنسی اور پائیدار بنیادوں پر اس کے استعمال کے لیے ہمیں مربوط پالیسیوں اور عمل درآمد کی ایک واضح حکمت عملی کی ضرورت ہے۔بائیو ٹیک فصلوں کو کم پانی،کم کھاد اور کم کیڑے مار دوائوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ان سے زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ملک میں زرعی بائیو ٹیکنالوجی کا تیزی سے اطلاق اورقومی سطح پرریگولیٹری سسٹم کا مناسب طریقے سے کام کرنا انتہائی ضروری ہے۔یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ ممتاز بائیو ٹیک سائنسدانوں کو ریگولیٹری ڈھانچے کا حصہ بنایا جائے۔ زراعت کی بہتر طریقے سے ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے اطلاق کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے اپنی بائیو سیفٹی گائیڈ لائنز اور قواعد تیار کر لیے ہیں۔

ان ضابطوں کو پاکستان انوائرمنٹ پروٹیکشن ایکٹ میں شامل کیا جا چکا ہے۔مجوزہ ورکشاپ ان فوری نوعیت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے تفصیلی انداز میں قومی مباحثہ شروع کرنے کی ایک کوشش ہے۔ پاکستان اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے ممتاز بائیو ٹیکنالوجسٹس کی آرا ان سفارشات کی بنیاد بنیں گی جن کو ماہرین کے مابین صلاح مشورے کے طویل عمل کے بعدحتمی شکل دی جائے گی اور بعد میں یہ عمل درآمد کے لیے حکومت کو پیش کی جائیں گی۔