موسمیات اور غربت کا عالمی تناظر

جی سیون ممالک میں موسمیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے اتفاق ہوگیا۔


Editorial June 15, 2021
جی سیون ممالک میں موسمیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے اتفاق ہوگیا۔ فوٹو؛ گیٹی امیجز

جی سیون ممالک میں موسمیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے اتفاق ہوگیا۔ عالمی معیشتوں کے اتحاد نے غریب ممالک میں کاربن کا اخراج کم کرنے اور بڑھتے درجہ حرارت سے نمٹنے کے لیے سالانہ سو ارب ڈالرکے واجب الادا اخراجات کے وعدے پورے کرنے کا عندیہ دیا ہے، ان میں ترقی پذیر ممالک میں انفرااسٹرکچر منصوبوں کی مالی مدد تیز جب کہ قابل تجدید اور پائیدار ٹیکنالوجی کی جانب منتقلی کے منصوبے شامل ہیں۔

سربراہی اجلاس میں رہنماؤں کی جانب سے واضح دباؤ تھا کہ ترقی پذیر ممالک میں چین کے بڑھتے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کی کوششیں تیزکی جائیں۔ انھوں نے بیجنگ کے روڈ اینڈ بیلٹ کے مقابلے میں منصوبہ شروع کرنے پر غور کیا۔ اجلاس سے بعض گروپوں نے عدم اطمینان کا اظہارکیا ہے۔

برطانوی سماجی ادارے گرین پیس کے مطابق وزیر اعظم بورس جانسن نے جی سیون کی میزبانی کرکے پرانے وعدوں کو پھر یاد دلایا۔

برطانوی وزیر اعظم جانسن نے ایک بیان میں کہا بحیثیت جمہوری ممالک ہماری ذمے داری ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو صاف اور شفاف نظام کے ذریعے نشوونما کے ثمرات سے فائدہ اٹھانے میں مدد کریں، جی سیون کے پاس عالمی سبز صنعتی انقلاب برپا کرنے کا بے مثال موقع ہے، جس سے ہماری زندگی تبدیل ہونے کا امکان ہے۔

اجلاس میں غریب ممالک کو ایک ارب ڈالرکی کورونا ویکسین عطیہ کرنے پر اتفاق کیا گیا ، جس کے لیے نجی شعبے اور G-20 کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔

این این آئی کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے جی سیون ممالک کی طرف سے کورونا ویکسین فراہمی کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ صنعتی سطح پر ڈی کاربنائزیشن ایجنڈے کے لیے 2 ارب ڈالر خرچ کریں گے۔

اجلاس کے موقعے پر برطانیہ میں سیکڑوں افراد نے فلسطینیوں اورکشمیریوں سے اظہار یک جہتی مارچ کیا۔ تاہم چین نے جی سیون کو متنبہ کیا ہے کہ وہ دن ختم ہوگئے جب چھوٹے ممالک کے گروپ دنیا کی قسمت کے فیصلے کرتے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ان سات امیر ترین ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے، چین نے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبہ ہونے کا منصوبہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

چین نے اس الزام کو سرا سر جھوٹ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر بہتان قرار دیتے ہوئے کہا کہ چھوٹے ممالک کے وضع کردہ نام نہاد اصول نہیں بلکہ یہ اقوام متحدہ کے اصولوں پر مبنی بین الاقوامی آرڈر اور واحد عالمی نظام ہے۔

چین نے کہا کہ ہمارا ہمیشہ سے یقین رہا ہے کہ ممالک چھوٹے ہوں یا بڑے، کمزور ہوں یا طاقتور، امیر یا غریب، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ سب برابر ہیں اور دنیا کے معاملات باہمی مشاورت سے چلائے جانے چاہئیں، بلاشبہ چین کے موقف کے صائب اور منصفانہ ہونے پرکس کو اعتراض ہوسکتا ہے، چین نے اصولی بات کی ہے۔

اس بات کی گونج کورونا وائرس کے دوران دنیا نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتیریس نے سنائی تھی، ان کا شکوہ تھا کہ عالمی رہنماؤں کی مروت، ان کی انسان دوستی اور رحمدلی کا محور منتشر ہوگیا ہے، ان کی مرکزیت ختم ہو رہی ہے، وہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ آج بھی دنیا امیر وغریب میں تقسیم ہے، غربت کے شکار کروڑوں لوگ خیرات ، بھیک اور قرضے کے انتظار میں ہیں ، عالمی مساوات کہاں ہے۔

ایک بڑے فلسفی ول ڈیورانٹ نے کہا تھا کہ آج ہماری سب سے بڑی بدنصیبی یہ رہی ہے کہ ہم نے ایک مربوط زاویہ نگاہ کھو دیا ہے، انسانی زندگی بے معنی ہوگئی ہے اور آج جب کہ اس کے بھرپور ہونے کے بہت امکانات ہیں وہ تہی دامن نظر آتی ہے۔

دریں اثنا پاکستان بیورو آف اسٹیٹ اسٹکس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے۔ رواں مالی سال میں معاشی ترقی کی شرح 3.94 فیصد رہنے کی توقع ہے جو اگرچہ تسلی بخش نہیں تاہم گزشتہ سال کی شرح نمو (0.47 فیصد) کے پیش نظر بہتر ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی معیشت مبصرین اور تجزیہ کاروں کے اندازوں سے کہیں زیادہ لچکدار ہے۔ تاہم یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ملکی معیشت خطرے سے باہر آچکی ہے۔

رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران زرعی ترقی کی شرح 2.77 فیصد ، صنعت کی 3.57 فیصد ، خدمات 4.43 فیصد رہی، تاہم لارج اسکیل مینوفیکچرنگ شرح نمو میں 10فیصد کمی آئی۔ اسی طرح زرعی شعبے نے 4.65 کی شرح سے ترقی کی، تاہم کپاس جیسی اہم فصل کی پیداوار 22.8 فیصد کم ہوگئی۔ کپاس کی پیداوار میں کمی لمحۂ فکریہ ہے۔

ایک روشن پہلو یہ ہے کہ کئی برسوں کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس مثبت رہا۔ رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ میں 773 ملین ڈالرکا کرنٹ اکاؤنٹ پلس ریکارڈ کیا گیا۔ اس کی سب سے اہم تارکین وطن کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر ہیں۔ پہلے 10ماہ کے دوران برآمدات13.63 فیصد اضافے سے 20.90ارب ڈالر رہیں۔

مالی سال کے اختتام تک برآمدات کا تخمینہ25 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اگر یہ ہدف حاصل ہوجاتا ہے تو یہ ملکی تاریخ میں دوسرا موقع ہوگا۔ حکومت کو توقع ہے کہ آیندہ مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح نمو 5 فیصد اور مالی سال 2022-23میں 6 فیصد رہے گی جو عام انتخابات کا سال ہوگا۔ حکومت پائیدار ترقی کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ کو سرپلس یا پھر معمولی خسارے میں رکھنا چاہے گی۔

مزید برآں وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال کے بجٹ میں خاموشی کے ساتھ تنخواہ دار طبقے پر 10ارب روپے کے ٹیکسوں کا اضافی بوجھ لاد دیا ہے جب کہ اسٹاک ایکسچینج کمپنیوں کو بھاری منافع کمانے کے باوجود کیپٹل گین ٹیکس کی مد میں 2 ارب روپے کا ریلیف دے دیا گیا ہے۔

تنخواہ دار طبقے کے میڈیکل اخراجات، مختلف الاؤنسز اور ان کی بچتوں اور پراویڈنٹ و پنشن فنڈز پر ٹیکس عائد کردیا گیا ہے، تنخواہ دار طبقے پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے لیے فنانس بل 2021ء سے انکم ٹیکس آرڈیننس کے شیڈول دوم سے کم ازکم چھ شقوں کو ختم کردیا گیا ہے۔

ہفتے کو اکنامک سروے رپورٹ کے اجراء کے موقعے پر وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا تھا کہ آئی ایم ایف نے تنخواہ دار طبقے پر 150ارب روپے کے ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ وزیر خزانہ کی ان باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایف بی آر کی اعلیٰ بیوروکریسی نے فنانس بل میں قانونی تبدیلیاں کرتے وقت انھیں اعتماد میں نہیں لیا۔

حکومت نئے بجٹ میں موبائل فون کالوں اور انٹرنیٹ ڈیٹا پر لگائے گئے 100ارب روپے کے ٹیکس واپس لینے کا بھی اعلان کرچکی ہے۔ فنانس بل 2021 سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو میڈیکل اخراجات کی ادائیگی سے متعلق آرڈیننس کی شق 139 کو ختم کردیا ہے۔

ایسا 1.82ارب روپے کی اضافی وصولیوں کے لیے کیا گیا ہے۔ یہ رقم 2 ارب روپے کے اس نقصان سے کم ہے جو حکومت نے اسٹاک مارکیٹ کی سیکیورٹیز پر کیپٹل گین ٹیکس کی رعایت دے کرکیا ہے۔ نئے بجٹ میں ایسی کمپنیاں جو بھاری منافع کما رہی ہیں کے لیے کیپٹل گین ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کرکے ساڑھے12فیصد کردی گئی ہے۔

معروف ٹیکس ماہر ڈاکٹر اکرام الحق نے بتایا کہ فنانس بل سے شق 139ختم ہونے کا مطلب ہے کہ حکومت تنخواہ دار طبقے کو میڈیکل اخراجات کی ادائیگی یا ہاسپیٹلائزیشن کی سہولت ختم کرنا چاہتی ہے۔ ہارٹ سرجری جیسے مہنگے علاج کی سہولت واپس لینے کا مطلب ہوگا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ 57 فیصد بڑھا دیا ہے۔ حکومت نے مالی سال کے 183 یا ا س سے زائد دنوں تک سمندروں میں رہنے والے یا بحری جہازوں پر کام کرنے والے پاکستانیوں سے بھی ٹیکس چھوٹ کی سہولت واپس لے لی ہے۔

اس سے حکومت کو 67 ملین کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔ اس کا مقصد بھی تنخواہ دار طبقے سے 7 ارب روپے اضافی نکالنا ہے۔ کسی اخباری ملازم کو نیوز پیپر ایمپلائز ایکٹ 1973 کے تیسرے ویج ایوارڈ کے تحت ملنے والے لوکل ٹریولنگ الاؤنس پر بھی ٹیکس عائد ہوگا۔

حکومت نے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کے ملازمین کو دوران ڈیوٹی دیے جانے والے مفت یا رعایتی کھانے کی سہولت کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے شق (53A)کو ختم کردیا ہے۔ اس کے بعد تعلیمی اداروں کے ملازمین کو فیسوں اور اسپتالوں میں کام کرنے والے ملازمین کو مفت یا رعایتی علاج کی سہولت پر بھی ٹیکس دینا پڑے گا۔ اس سے حکومت اضافی 135 ملین ریونیو اکٹھا کرنا چاہتی ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان افغانستان دوطرفہ مذاکرات کے افتتاحی سیشن سے خطاب کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور دنیا کا نظریہ اب تبدیل ہوچکا ہے، امن سب کی خواہش ہے، افغانستان میں امن خطے کے مستقبل کے لیے اہم ہے، پاکستان پرامن، خوشحال اور خودمختار افغانستان کا خواہاں ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے، افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ، امریکا سمجھتا ہے کہ خطے کے مسائل کا حل پاکستان کی مدد سے ممکن ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جنگ اور مفاہمت ایک ساتھ نہیں چل سکتے، آج افغانستان بدل چکا ہے، افغانستان کا مسئلہ سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوسکتا ہے۔ افغانستان کے قومی سلامتی مشیر کے بیان نے مایوس کیا ، ایسے بیانات امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔ افغانستان کی قیادت اور دیگر پاکستان پر اعتماد کریں اور ماضی بھول کر آگے بڑھیں۔

پاکستان نے افغانستان میں پیدا شدہ صورتحال کے حوالے سے عالمی قوتوں کو ایک اہم تناظر سے آگاہ کیا ہے، افغانستان ایک پیچیدہ صورتحال اور ہولناک اسٹرٹیجیکل تناظر میں الجھتا جارہا ہے، مبصرین کا خیال ہے کہ خطے کو نئی صورتحال کا سامنا ہے، امریکا، انخلا کے بعد کے منظرنامے کو امن کے کس سیاق وسباق کی فراہمی سے منسلک کرنے کی حکمت عملی سے کام لے گا ۔

مبصرین اس پر ایک اجتماعی بریک تھرو چاہتے ہیں، پاکستان کو افغان حالات پر بجا طور پر تشویش ہے، خانہ جنگی کا خطرہ ہے، اضطراب میں اضافہ ہو رہا ہے، عالمی برادری اس کا فوری ادراک کرے اور افغان ایشو کو سلجھانے کے لیے پاکستان کے انداز نظر کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ خطے میں امن کی مثبت کوششیں جلد نتیجہ خیز ہونی چاہئیں، امن و صلح کی اجتماعی کوششوں کی اشد ضرورت ہے، اسی میں سب کا مفاد ہے۔

مقبول خبریں