عالمی امن اور خوشحالی

ایک آدمی صرف اپنے بارے میں سوچتاہے، ایک شخص اپنی فیملی کے بارے میں سوچتاہے، ایک شخص اپنی گلی، اپنے...


Zaheer Akhter Bedari January 20, 2014
[email protected]

ایک آدمی صرف اپنے بارے میں سوچتاہے، ایک شخص اپنی فیملی کے بارے میں سوچتاہے، ایک شخص اپنی گلی، اپنے محلے کے بارے میں بھی سوچتاہے، ایک شخص اپنے شہر تک غور و فکر کرتاہے، ایک شخص کا دائرہ فکر ملک تک وسیع ہوتاہے، ایک شخص کا وژن آفاقی ہوتاہے، انفرادی مفاد سے لے کر عالمی مفادات تک غور و فکر سے انسان کی عقل و دانش کا تعین ہوتاہے۔ آج سے سو سال پہلے چونکہ اطلاعات کے ذرایع بہت محدود اور وقت طلب تھے سو دنیا کی مختلف قوموں اور ملک کے درمیان فاصلے بہت طویل تھے۔ اس محدود علم و آگہی کی وجہ سے انسانی فکر بھی محدود دائروں ہی میں گردش کرتی تھی۔ بیسویں صدی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ناقابل یقین انقلاب نے دنیا کو ایک گاؤں میں بدل کر رکھ دیا، اس انقلاب کی وجہ سے انسانی فکر کا دائرہ بھی فرد کی ذات سے آگے بڑھتا ہوا عالمی سطح تک پہنچ گیا، لیکن آج بھی عالمی سطح تک غور و فکر کا سلسلہ بہت محدود ہے۔ اس کی ایک وجہ حب الوطنی اور قومی مفادات کے وہ فلسفے ہیں جو انسان کو ان دونوں حدود سے باہر نکلنے نہیں دیتے۔ دوسری وجہ نظریاتی قیود ہیں جو حب الوطنی اور قومی مفادات کی سرحدوں پر ڈنڈا تھامے کھڑے رہتی ہیں ۔ کسی کو اس سے آگے جانے نہیں دیتیں۔ ایسے کھڑے پہروں میں اگر کوئی شخص ان ساری حدوں کو کراس کرکے آفاقی وژن کی بلندیوں پر کھڑا ہوجا تاہے تو وہ بلندیاں کوہ طور بن جاتی ہیں۔

یہ اگرچہ صوفیانہ فلسفے ہیں لیکن دنیا کے بھیانک منظر نامے نے اہل فکر کو مجبور کردیاہے کہ وہ ذات کے پتھر سے بلند ہوکر انسانیت کی بلندیوں کی طرف پرواز کریں، انسان کی معلوم تاریخ میں بے شمار معروف دانشور اور فلسفی گزرے ہیں لیکن ان کی عقل و دانش بھی محدود دائروں میں ہی سفر کرتی رہی اور وہ ان مسائل پر سنجیدگی سے غور و فکر نہ کریںگے جو کرۂ ارض پر بسنے والے اربوں انسانوں کی زندگی کو جہنم بنائے ہوئے ہیں۔ ان مسائل میں دو مسئلے ایسے ہیں جو انسان کی جہنم زار زندگی کو جنت بنانے کے لیے شرط اول بنے ہوئے ہیں۔ ایک مسئلہ ''امن'' کا ہے دوسرا مسئلہ ''خوشحالی'' کا۔ آج تک دنیا میں جتنے بھی فلسفی اور جتنے بھی فلسفے متعارف ہوئے ہیں وہ ان دو بڑے مسائل کی نشاندہی تو کرتے رہے ہیں لیکن ان کے دو ٹوک حل پیش نہیں کرسکے۔ آج بھی دنیا کی مختلف قومیں ان دو بڑے مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنے سروں پر مختلف فکر و فلسفوں کے ٹوکرے اٹھائے پھررہے ہیں لیکن ان کے پاس بھی ان دو مسئلوں امن اور خوشحالی کا کوئی واضح حل موجود نہیں۔ ہم پہلے مسئلہ ''امن'' کو لے لیتے ہیں کہ آج کی دنیا میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک امن نام کی کسی چیز کا وجود نہیں ملتا ہر طرف نفرتیں، عصبیتیں، تقسیم در تقسیم جنگوں، ہتھیاروں کی تیاری و تجارت جیسی نعمتیں بکھری پڑی ہیں۔ یہ نعمتیں نہ وعظ و نصیحت سے دور ہوسکتی ہیں نہ ان پر کسی انتظامی طریقہ کار سے قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے کسی ایسے جاندار نظریے اور فلسفے کی ضرورت ہے جو نفرتوں، تعصبات، جنگوں کے مارے ہوئے عوام میں ایک فکری انقلاب برپا کردے۔

دنیا میں امن اور شانتی کا کلچر پیدا کرنے کے لیے بے شمار حصوں میں تقسیم انسانوں کو کسی ایک ایسے نکتے پر متفق ہونا پڑے گا جو منطقی بھی ہو، قابل عمل بھی ہو اور وہ نکتہ ہے ''دنیا کے سارے انسان ایک ہی جد امجد آدم کی اولاد ہیں'' ہم نے اپنے ایک پچھلے کالم میں ''آخری سوال'' کے عنوان سے اسی نکتے پر بحث کی تھی کہ عالمی امن کے لیے اس ایک نکتے پر اتفاق کے بغیر امن کی خواہش خیال است و محال است و جنوں کے علاوہ کچھ نہیں۔ بد قسمتی یہ ہے کہ دنیا کے ہر مذہب کے پیروں کاروں کا یہی دعویٰ ہے کہ ان کا مذہب امن اور محبت کا داعی ہے لیکن آپ کسی مندر میں چلے جائیں، کسی مسجد میں چلے جائیں، کسی گرجا میں چلے جائیں، کسی ٹمپل میں چلے جائیں، کسی گوردوارے میں میں چلے جائیں، کسی آتش کدے میں چلے جائیں وہاں آپ کو براہ راست یا بالواسطہ آگ لگانے والے ایسے اﷲ والے ملیں گے جو اپنی فکر، اپنے دین دھرم کے نام پر عوام کے ذہنوں کو نفرتوں سے بھردیتے ہیں اور یہ نفرتیں جب ان آتش فشانوں سے باہر نکلتی ہیں تو ان کا لاوا کہیں صلیبی جنگوں کی شکل اختیار کرلیتاہے، کہیں1947 میں پہنچ کر 22 لاکھ انسانوں کو جلاکر خاک کردیتاہے، کہیں فلسطین میں جاتاہے اور کہیں کشمیر اور جب یہ اپنی تپش میں انتہا کو پہنچ جاتاہے تو القاعدہ اور طالبان بن کر اسی طرح بہنے لگتاہے جس طرح آتش فشاں پہاڑوں کی چوٹیوں سے نکل کر نیچے کی طرف بہنے لگتاہے اور بلا امتیاز مذہب و ملت ہر اس چیز کو جلادیتاہے جو اس کی راہ میں آتا ہے۔ آج ساری دنیا میں نظر آنے والی مذہبی انتہا پسندی ایسا ہی لاوا بن گئی ہے جس کی نہ آنکھیں ہوتی ہیں نہ کان۔ مذہبی انتہا پسندی کے بڑے پہاڑ کے ساتھ جو قوم ملک رنگ، نسل، زبان اور قومیتوں کے چھوٹے چھوٹے آتش فشاں کھڑے ہیں یہ عالمی امن اور عالمی محبت، عالمی یکجہتی پر لاوے کی طرح گررہے ہیں۔

میں نے مذہبی ایکتا کے حوالے سے ایک افسانہ ''ایکتا'' ہی کے نام سے لکھا ہے جس میں ممبئی میں مذہبی یکجہتی پر ہونے والے ایک سیمینار میں دھواں دھار تقریروں کے ساتھ دین دھرم کے حوالوں سے بٹے ہوئے انسانوں کے دوغلے پن کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس سیمینار میں شرکت کے بعد جب اس میں شریک ایک پاکستانی دانشور ممبئی دیکھنے نکلتاہے تو اس کا رکشہ ایک جلوس کی وجہ سے رکھ جاتاہے اور یہ جلوس شہر کی ان طوائفوں کا ہوتاہے جس میں ہندو مسلمان سکھ عیسائی ہی نہیں بلکہ مختلف قوموں اور ملکوں کی طوائفیں شامل ہوتی ہیں اور ان کا مطالبہ ہوتاہے ''سیاست دان ہم پر رحم کریں ہماری یکجہتی ہماری محبت کو تباہ نہ کریں'' تحقیق پر پتہ چلتاہے کہ ایک مسلمان نے ایک ہندو کو کسی طوائف کے گھر میں قتل کردیا تھا۔ دونوں ہی اوباش اور شراب کے نشے میں دھت تھے نہ قتل کرنے والے کو یہ پتہ تھا کہ اس نے کس کو اور کیوں قتل کیا ہے نہ قتل ہونے والے کو یہ پتہ تھا کہ اسے کون اور کیوں قتل کردیا ہے۔ لیکن ایک گروہ اس قتل کو بہانہ بناکر چکلے میں فرقہ وارانہ آگ بھڑکانا چاہتاتھا اور یہ جلوس اس کے خلاف تھا۔ جس میں ہر مذہب اور قوم سے تعلق رکھنے والی طوائفیں شامل تھیں اور اپنی ''پیشہ ورانہ'' یکجہتی کو مذہب کی بھینٹ چڑھنے نہیں دینا چاہتی تھیں۔

عالمی امن کے بعد عالمی خوش حالی دنیا کا دوسرا برا مسئلہ ہے جو دنیا کے 7ارب انسانوں کی زندگی کو جہنم بنائے ہوئے ہے اور عالمی طبقاتی استحصال کی نذر ہوگئی ہے۔ طبقاتی استحصال کے خلاف بلا شبہ بڑے بڑے فلسفے بڑے بڑے نظریے وجود میں آئے، بڑی بڑی تحریکیں چلیں، بڑے بڑے انقلاب آئے لیکن عالمی خوش حالی، عالمی طبقاتی استحصال کے نیچے دبی رہی اور دبی ہوئی ہے۔ طبقاتی استحصال کسی نہ کسی شکل میں تاریخ کے ہر دور میں جاری رہا، لیکن سرمایہ دارانہ دور میں اس استحصال نے جو بد ترین بلکہ بھیانک شکل اختیار کرلی ہے انسانی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، پسماندہ ملک تو اس حوالے سے معاشی استحصال کی ایسی بد ترین صورت حال سے دو چار ہیں کہ 1789کا فرانس بھی ان کے سامنے ماند پڑجاتاہے۔

خود مغربی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ہر سال لاکھوں انسان بھوک کی وجہ سے مرجاتے ہیں، لاکھوں بچے دودھ کے نہ ملنے کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لاکھوں خواتین زچگی کی سہولتیں حاصل نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، پسماندہ ملکوں میں 40فیصد سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزاررہی ہے۔ غریب ملکوں کی غریب بستیاں پینے کے صاف پانی اور سیوریج کی سہولتوں سے محروم گندگی کے جوہڑوں میں بدلی ہوئی ہیں۔ دو وقت کی روٹی سے محروم عوام انفرادی اور اجتماعی خودکشیاں کررہے ہیں، لاکھوں انسان علاج کی سہولتوں سے محروم ہیں، ابتدائی تعلیم تک سے محرومی کی وجہ جیل اور جرائم میں اضافہ ہورہاہے۔ روزگار سے محروم عوام دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ رہے ہیں۔ علم کی کمی بلکہ محرومی کی وجہ سے رنگ، نسل، فرقوں کے تعصبات اور نفرتیں ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ بنی ہوئی ہیں۔ قومی دولت کا 80فیصد حصہ 2فیصد مراعات یافتہ طبقے کی میراث بنا ہوا ہے۔ 20فیصد قومی دولت میں 98فیصد عوام اگر گزر کررہے ہوں تو اس قسم کی بھیانک صورت حال معاشروں کا لازمی نتیجہ بن جاتی ہے۔

عوام کی اجتماعی خوش حالی پر دو فیصد ایلیٹ سانپ بن کر بیٹھا ہوا ہے۔ دنیا کے عیاش حکمران اور سرمایہ دارانہ نظام کے دلدل غربت کم کرنے کے نام پر جو کانفرنس کرتے ہیں اس پر کروڑوں ڈالر خرچ ہوجاتے ہیں اور غربت نہ صرف اپنی جگہ برقرار رہتی ہے بلکہ اس میں روز بروز اضافہ ہوتا رہتاہے۔ ہر پسماندہ ملک کے حکمران طبقات قومی دولت کے علاوہ قوم کی ترقی کے نام پر ملنے والے کروڑوں بلکہ اربوں ڈالر انتہائی بے شرمی سے ہڑپ کرجاتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام جسے ہم منڈی کی معیشت کی عرفیت بھی دیتے ہیں اصل میں ہیرا منڈی بنا ہوا ہے۔ دنیا میں پھیلے ہوئے غربت اور امارت کے اس کھیل کو ختم کرنے کے لیے آپ لاکھ جتن کرلیں یہ کھیل کبھی ختم نہیں ہوگا۔ اب اصلاحات کے نام پر لاکھ کوششیں کریں کچھ نہیں ہوگا۔ اس کا واحد اور منطقی حل یہ ہے کہ ''لا محدود نجی ملکیت کے حق کو اس قدر محدود کردیا جائے کہ سرمائے کا ''شکار چند ہاتھوں میں نہ ہوسکے'' یہی عالمی خوش حالی کا واحد راستہ ہے اور سارے انسانوں کے درمیان رشتہ انسانیت کو مستحکم اور مضبوط بنانا عالمی امن کی ناگزیر ضرورت ہے۔

مقبول خبریں