سندھ و کراچی کے مسائل ایک تجزیہ

سیاست کاالمیہ ہے کہ سندھ میں سماجی،سیاسی اورانتظامی مسائل پرتناؤکی وحشیانہ صورتحال نے ایک عجیب منظرنامہ تشکیل دیا ہے۔


Editorial June 23, 2021
سیاست کاالمیہ ہے کہ سندھ میں سماجی،سیاسی اورانتظامی مسائل پرتناؤکی وحشیانہ صورتحال نے ایک عجیب منظرنامہ تشکیل دیا ہے۔ فوٹو: فائل

صوبہ سندھ کے سدا بہار تاریخی حسن اور دلکشی کو مورخین نے دلنشین انداز میں بیان کیا ہے لیکن اہل سندھ کے باسیوں اور اس کے رہنے والوں کی طبیعت، وضعداری اور خوش خلقی و مہمان نوازی کو شاہ لطیف بھٹائی نے جن لفظوں سے سنوارا ہے، اسے اہل سندھ کی شخصیت کی مکمل تجسیم ہی کہنا چاہیے، شاہ صاحب کہتے ہیں ''سب لوگ خوبصورت نہیں ہوتے، جیسے ہر پرندہ کونج نہیں یہ تو قدرت کی دین ہے کہ کسی آدمی میں بہار جیسی مہک آ جائے۔''

لیکن یہ سیاست کا المیہ ہے کہ سندھ میں سماجی، سیاسی اور انتظامی مسائل پر تناؤ کی وحشیانہ صورتحال نے ایک عجیب منظرنامہ تشکیل دیا ہے، سیاسی تقسیم اور فکری خلیج گہری ہو گئی ہے، سیاستدان سندھ اور اس کے میگا سٹی کراچی کے شہری مسائل پر مکمل اتفاق رائے پیدا کرنے کے بجائے مناظرہ اور ایک بے نتیجہ خلفشار میں الجھے ہوئے ہیں، ایک طرف مراد علی شاہ کی محاصرے میں آئی ہوئی سندھ حکومت ہے جسے وفاق کی نمایندہ سیاسی طاقتیں سارے مسائل کا گڑھ سمجھتی ہیں۔

ان کی طرف انگلیاں اٹھ رہی ہیں، تنقید، نکتہ چینی اور طنز و طعنوں کے سیاسی ترکش سے نکلے ہوئے تیروں کا رخ سندھ حکومت کی طرف ہے ، بعض فہمیدہ اور سنجیدہ سیاست دانوں اور سیاسی مدبروں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت پر ان معنوں میں اصولی تنقید ، احتساب اور جوابدہی کا جواز بنتا ہے کہ ایسی تمام تر تنقید پارلیمنٹ کے اندر صوبہ کی اپوزیشن سیاسی جماعتیں کرتیں، حزب اختلاف کا جمہوری حق تھا کہ وہ حکومت کے ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ کو فرد جرم سناتی، ان سے ماضی کی حکومتی کارکردگی پر سوالات ہوتے، لیکن سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سب عوام کے تحت الشعور میں ایک پلاننگ کے ساتھ ہو رہا ہے۔

اس بے بنیاد تاثر سے سیاسی فضا بھی پراگندگی کا شکار ہو رہی ہے، وفاق اور سندھ کے درمیان غلط فہمیوں پر تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، پانی کی تقسیم کے مسائل نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، ارسا کی کوششیں بھی بے اثر ثابت ہوئی ہیں، حکومتی افراد سندھ حکومت کی ناکامیوں کی داستان کو ایک سوچی سمجھی مہم ، ایجنڈا یا طے شدہ سیاسی اہداف کی روشنی میں وفاقی پیش قدمی سے جوڑتے ہیں، صورتحال کچھ گمبھیر نظر آتی ہے، اسٹیک ہولڈرز کا انداز نظر بھی سندھ، وفاق اور دیگر سیاسی حلیفوں اور اتحادیوں کے سیاسی تجزیوں سے مختلف نہیں، جو غیر جانبدار اور معروضی فکر رکھنے والے ہیں ان کی رائے بھی زمینی حقائق سے جڑی ہوئی ہے، ان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت سے ناراض سیاسی جماعتیں جن میں پی ٹی آئی۔

ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ن)، جماعت اسلامی اور دیگر قوم پرست سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ کی ذمے داری ہے کہ وہ حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیتی، حکومت کو چارج شیٹ پیش کرتی، پی ٹی آئی کا اسٹیک اس وقت زیادہ ہے، ایم کیو ایم کا سیاسی پس منظر اس ساری ڈیبیٹ میں نتیجہ خیز بھی ہو سکتا ہے کیونکہ ایم کیو ایم نے تیس سال تک کراچی اور سندھ کے بڑے شہری علاقوں میں بلا شرکت غیرے حکومت کی ہے۔

وہ عوام کو بتائیں کہ اگر پیپلز پارٹی نے تین دہائیوں تک کچھ بھی نہیں کیا، صرف لوٹ مار کی، تو وہ بھی اردو اسپیکنگ کی مین اسٹریم جماعت کی حیثیت میں حقائق پر روشنی ڈالے اور اپنے اہم منصوبوں اور کراچی، حیدرآباد، لطیف آباد، میرپورخاص، سکھر، لاڑکانہ اور سانگھڑ میں مکمل کیے گئے میگا پروجیکٹ کی تفصیلات بتائیں۔

صرف الزام تراشی، کردار کشی ، گالم گلوچ اور طنز و طعنوں سے سندھ یا کراچی کا سیاسی بھونچال کسی منطقی نتیجہ تک تو نہیں پہنچ سکتا، سیاسی تجزیہ کاروں کی یہ بھی صائب رائے ہے کہ پیپلز پارٹی نے جتنا عرصہ اقتدار میں گزارا ہے اس میں کچھ اچھے کام بھی ہوئے یا نہیں، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کسی کے کہنے پر آئینی حقوق پر سودے بازی کے لیے تیار نہیں، صوبوں کے معاشی حقوق وفاق سے چھین لیں گے، جب تک حقوق نہیں ملتے ترقی نہ ہونے کا طعنہ بھی برداشت نہیں کریں گے۔

لوگ مانیں یا نہ مانیں لیکن صوبہ سندھ میں کام ہوا ہے، اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کی ذمے داریاں بڑھیں مگر نیا این ایف سی نہیں دیا گیا، گجر نالہ پر لوگ خوشی سے نہیں رہ رہے ہیں، انصاف فراہم کرنے والے ادارے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

سندھ میں کٹھ پتلی بھی آکر تنقید کرتے ہیں، کسی کو بانی متحدہ والی سیاست کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کو سندھ اسمبلی آڈیٹوریم میں شہید بینظیر بھٹو کی 68 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ مشکل معاشی حالات میں ہمارے لوگوں کو بے روزگار کیا جا رہا ہے، ہم نے اپنے دور میں کسی سے نوکری نہیں چھینی، پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت اس ظلم کا حل نکالنے کی کوشش کرے گی۔

حکمرانوں کے اہداف میں کراچی کی مرکزی حیثیت ہے اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا مگر اس حقیقت پر بھی نظر ڈالنی چاہیے کہ کراچی میں اربن ترقی صرف پیپلز پارٹی تک محدود نہیں، عروس البلاد کراچی کے مسائل کا پینڈورا باکس کھلنے کی بس دیر ہے ، کون سی وفاقی صوبائی یا مقامی حکومت ہے جسے احتساب کے لیے نہیں بلایا جاسکتا، کراچی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ساٹھ کے عشرے میں کراچی مشہور مصنف شوکت صدیقی کے ناول '' خدا کی بستی'' کے مشابہ تھا، جس میں آگے جاکر جامعہ کراچی شہر سے گیارہ میل دور تھی۔

کراچی کی قدیم بستی لیاری تھی، اسے پیپلز پارٹی کے دور میں گھر گھر پینے کے پانی کی سہولت، سیوریج اور ڈرینیج لائنیں ملیں، فٹبال کے دو بہترین انٹرنیشنل فٹبالر مولابخش گوٹائی اور عبدالجبار کو ترکی کی قومی فٹبال ٹیم پاکستان سے ترکی کی قومی ٹیم کے لیے منتخب کرکے لے گئی۔

ان دو کھلاڑیوں نے چھ ماہ تک ترکی کی قومی ٹیم میں پاکستان کی نمایندگی کی، سعودی عرب، ایران، یو اے ای ، مسقط اور شارجہ کی فٹبال اور کرکٹ ٹیموں کی تعمیر اور تربیت میں کراچی کے کرکٹ اور فٹبال منتظمین نے اپنی خدمات پیش کیں، اربن ماہرین کراچی کو کسی ایک سیاسی جماعت کا شہر نہیں کہتے تھے۔

ان کے نزدیک یہ شہر کے اندر کئی شہروں کا ایک بازار تھا، جس میں کئی تو کچی آبادیاں تھیں، لیکن اربن شہروں اور دیہات کی ترقی و توسیع کے لیے ماسڑپلانز، ماس ٹرانزٹ پلانز اور زر کثیر سے بہتی اسپورٹس کمپلیکس، شاندار جمنازیم، جامعات، اور ٹاؤنز تعمیر ہوتے ہیں، اگر سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو کراچی کو شہری کلچر اور بڑے تہذیبی شہر کے اعتبار سے جدید ترین میٹروپولس میں اہم مقام دیا جاسکتا تھا لیکن سیاست کی افراتفری، کشیدگی، محاذ آرائی ، کرپشن اور سیاسی تناؤ کا ایک متصادم مرکز بنا دیا۔

سندھ مسائل کی ایک دوسری انتہا پر ہے، حیدرآباد، لطیف آباد میرپور خاص، سانگھڑ، نواب شاہ اور تھر کا صحرا صرف بھوک، خشک سالی، معصوم بچوں، خواتین کی خودکشی اور خوش رنگ موروں کی اموات کا مسکن ہے، سندھ حکومت کو داخلی تناؤ ، چپقلش اور سیاسی تصادم سے بالاتر ہوکر سندھ کے شہری علاقوں میں اسکولوں، کالجز، کھیل کے میدانوں، جامعات اور روزگار کے لیے منصوبے بنانے چاہئیں، سندھ کے سارے بڑے شہروں کی ڈویژنل کھیلوں کی مختلف ٹیمیں تشکیل دینی چاہئیں، ملاکھڑا، عرف ''ملھ'' کو سرکاری میں لینا چاہیے، یہ سندھ کا مشہور کھیل ہے، باکسنگ کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔

بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ سندھ میں کٹھ پتلی بھی آکر تنقید کرتے ہیں، ہم کسی کو بانی متحدہ والی سیاست کی اجازت نہیں دیں گے، جو نیا پاکستان ہمارے سامنے بن رہا ہے اس میں عوام سے روٹی کپڑا اور مکان کے علاوہ جمہوری خواب بھی ہم سے چھینا جا رہا ہے، ایک کوشش اور سازش کی جا رہی ہے کہ انٹلیکچوئل کو دہشتگرد قرار دیدیا جائے۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے منشور پر عمل کرنیکی کوشش کر رہے ہیں، ہم ایسا پاکستان بنائیں جو عام آدمی تک اس کا حق پہنچائے۔ ایسا پاکستان بنائیں، جس میں عام آدمی تک روٹی، کپڑا، مکان پہنچے، ہم یہ طعنہ برداشت نہیں کریں گے کہ گورننس کا مسئلہ ہے۔

گورننس کا مسئلہ رہے گا جب تک آپ حقوق نہیں دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی جہاں پورے ملک سے لوگ روزگار کے لیے آتے ہیں جس سے پاکستان کی معیشت چلتی ہے، وعدہ کیا گیا کہ شہر کے لیے وفاق اور صوبہ مل کر کام کرے گا اور کراچی کو 10 کھرب روپے کا پیکیج ملے گا، میں بجٹ اجلاس میں موجود تھا مجھے کراچی کے لیے کوئی 10 کھرب روپے نظر نہیں آئے۔ سندھ کے حق روزگار پر حملے ہو رہے ہیں۔

جہاں تک غربت، ناخواندگی، آئی ٹی ، دستکاری، مصوری کا تعلق ہے سندھ کے بے شمار پینٹرز گمنامی کی موت مرگئے، موسیقی کا شعبہ زرخیز تھا، استاد منظور علی خان، سنگھار علی سلیم، ماسٹر جمن، استاد ابراہیم کا ایک زمانے میں طوطی بولتا تھا، سندھ کے ثقافتی ادارے استاد بلاول بیلجیم کے بینجو کے ریکارڈ ریڈیو حیدرآباد اور کراچی کے کمرشل پروگراموں کی آرکایؤ سے نکلوائیں تو اندازہ ہوگا کہ ایشیا کے کتنے نامور بینجو نواز کو کتنی ناقدری کے ساتھ جدید موسیقی نے بھلا دیا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی تصادم، بیان بازی، تکرار اور الزام تراشی سے گریز کا کلچر فروغ پائے، ملک کو چہار طرف ہولناک سیاسی چنگھاڑ کا سامنا ہے، معیشت کے استحکام کے ساتھ ساتھ بین الصوبائی سیاسی نغمگی اور فکری ہم آہنگی پر توجہ دی جائے، ورنہ ایسا نہ ہو کہ سیاستدان ہاتھ ملتے رہ جائیں، سیاسی تناؤ میں کمی وقت کی ضرورت ہے، کراچی کو سندھ سے الگ کرکے دیکھنے کی مہم جوئی مناسب سیاسی روش نہیں۔

مقبول خبریں