عوام کیا کریں

کورونا وائرس کا خدشہ پھر سے سراٹھانے کو ہے، مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کا شور برپا ہے۔


Editorial July 06, 2021
کورونا وائرس کا خدشہ پھر سے سراٹھانے کو ہے، مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کا شور برپا ہے۔ فوٹو: فائل

ملکی معیشت گلوبل ولیج کے درمیان لیکن بے درد دنیا دو انتہاؤں کے بیچ کھڑی ہے، پی ٹی آئی کا تین سالہ جمہوری دور حکومت فی الحال سیل حوادث سے گزر رہا ہے۔

کورونا وائرس کا خدشہ پھر سے سراٹھانے کو ہے، مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کا شور برپا ہے، بلوچستان میں اپوزیشن کے خلاف صوبائی حکومت نے ایف آئی آر واپس لے لی ہے، اپوزیشن کا دھرنا ختم ہوگیا ہے، ملکی سلامتی اور سیاسی صورتحال پر پارلیمانی کمیٹی کے دور رس نمایندہ اجلاس کے اثرات و مضمرات پر حکومت اور حزب اختلاف اور سیاست دانوں میں بحث ومباحثے جاری ہیں۔

شہر قائد میں دو ہفتے بعد سی این جی دستیاب ہوگئی ہے، لوڈ شیڈنگ اپنی تاریکیوں سمیت پھر لوٹ آئی ہے، وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ طلبا پریشان نہ ہوں، امتحانات ملتوی یا منسوخ نہیں ہوںگے، پاکستان پیپلز پارٹی آج پانچ جولائی کو جمہوریت کے سقوط اور بھٹو کے عدالتی قتل کا دن منا رہی ہے، میڈیا کے ایک سروے میں کہا گیا ہے کہ ہندوؤں کے خیال میں تقسیم ہند میں مسلمانوں سے تعلقات بہتر تھے، یہ مودی کے بھارت پر عوام کی فرد جرم بلکہ قتل نامہ ہے ، بھارت کیا سے کیا ہوگیا۔

حقیقت میں عالمی سطح پر حقائق نے بڑی کروٹ بدلی ہے، پاکستان میں دو پاکستان ہیں، ایک امیروں کا اور دوسرا غریبوں کا۔ امیر اور اشرافیہ کے پاکستان میں ڈالروں کی بارش ہو رہی ہے، ترسیلات زر کی خوشیاں ہیں، معیشت مستحکم ہوگئی ہے، بجٹ کے ٹریکل ڈاؤن پر شادیانے بجائے جارہے ہیں، اقتصادی اور مالیاتی حقائق پر عوام کا رد عمل حکومتی سوچ سے مختلف ہے، اہل ثروت اور امیر طبقات کے لیے حکومت اگلے پانچ سال بک کر چکی ہے، عمران خان اور ان کے رفقا کا کہنا ہے کہ عوام نے اپوزیشن کو مسترد کر دیا ہے، کشمکش میں شدت آ گئی ہے۔

سیاست کے تن مردہ میں جان پڑ گئی ہے، پی ڈی ایم نے جمود کی چادر اوڑھ لی تھی، گزشتہ روز اس نے جلسہ کیا، ہجوم اکٹھا ہوگیا، حکومت نے اس کا جواب دیا، سیاسی مبصرین کے مطابق اپوزیشن کا جلسہ کرنا اور حکومت کا جواب دینا مسئلہ کا حل نہیں، اپوزیشن کا تنقید کرنا، حکومتی کارکردگی کا احتساب کرنا اس کا جمہوری حق ہے لیکن اصل مسئلہ حکومت کی ڈلیورنس کا ہے، خلق خدا ریلیف مانگتی ہے، اسے مہنگائی، غربت اور بیروزگاری کے خاتمہ کے لیے عوام دوست پالیسیوں کے نتائج کا انتظار ہے۔

حکومت مخالف تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی سوئی ایک جگہ اٹکی ہوئی ہے، وہ این آر او نہ دینے اور احتساب کے موقف سے پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں، جب کہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت سے کس نے این آر او مانگا ہے، میڈیا میں اسی این آر او پر ڈیبیٹ ہو رہی ہے ، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو ملنے والے حکومتی این آر او کی سخت مخالفت کریں گے، اپوزیشن کی بیان بازی کا محور بھی تبدیل نہیں ہوا، اس کا موقف ہے کہ وزیر اعظم تو کشمیر کاز کے سفیر تھے وہ کلبھوشن کے وکیل بن گئے۔

اس پر ملکی سیاست کے کئی راؤنڈ مکمل ہوئے، سیاسی مبصرین افغانستان کی صورتحال پر فکر انگیز تجزیے پیش کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم امریکا کو اڈے نہ دینے پر بیان دے رہے ہیں جب کہ ماہرین سیاست اس پر سوال اٹھاتے ہیں کہ امریکا کی طرف سے تو کسی نے اڈے دینے کی فرمائش یا ڈیمانڈ نہیں کی ، جب کہ بعض ماہرین سیاست کا کہنا ہے کہ جن کو اپنے اڈے خالی کرنے ہوتے ہیں وہ بگرام بیس بھی کسی کو بتائے بغیر خالی کر جاتے ہیں۔

میڈیا کے جید تجزیہ کار افغانستان میں اٹھنے والی آندھی اور خانہ جنگی کے طوفان سے اہل وطن کو خبردار کر رہے ہیں لیکن زمینی حقائق سے آگاہ سفارت کار خطے میں جنگ کا میدان سجنے اور ایک بڑی خون ریزی سے انکار نہیں کرتے۔ بڑی فیصلہ کن طاقتیں سنگدلی کا ریکارڈ قائم کرتے خطے کے متاثرہ ملکوں کو مشاورت میں شریک ہی نہیں کرتیں، سیاست کے سینے میں واقعی دل نہیں ہوتا، ملکی سیاست انسان دوستی کی کسی بھی سطح پر جانچی نہیں جاسکتی، معاشی حالات کی سختیاں، غربت اور روزگار سے محرومی کے دکھ کیا ہوتے ہیں۔

ہمارے سیاست دانوں کو اس کا کوئی ادراک نہیں۔ وزیر اعظم چین کا اکثر ذکر کرتے ہیں ، انھیں اندازہ ہوگا کہ چین نے اپنے عوام کو معاشی آسودگی کے لیے جو قربانیاں دی ہیں اس کا احوال ہمارے سیاست دانوں نے صرف کتابوں میں پڑھا ہے کسی نے ماؤزے تنگ کی زندگی، ان کے افکار اور طویل سیاسی جدوجہد سے سیاسی شعور حاصل نہیں کیا۔ ہمارے سیاست دان عوام سے رشتہ جوڑیں گے تب ان پر سیاسی حقیقت کا کھل جا سم سم آہستہ آہستہ کھل جائے گا۔ سیاست کو انھی دکھوں سے آشنا کرنے کی ضرورت ہے، سیاست میں انسانیت کا اسلوب ، بلیم گیم سے نہیں آئے گا۔

ایک وابستگی بھی چاہیے جو ایک سیاسی کارکن کو عام آدمی سے قریب کر دیتی ہے۔ یہیں سے تبدیلی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اندرون ملک سیاست بھی خلفشار کے منظرنامہ سے جڑی ہوئی ہے، چوہے بلی کا کھیل جاری ہے ، مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں حکومت کرنے کا موقع ملا تو خیبر پختونخوا کو پنجاب سے آگے لے جائیں گے اور اسے بہترین صوبہ بنائیں گے۔ بی آر ٹی پراجیکٹ (ن) لیگ کو ملتا تو ہزار گنا بہتر بناتے اور لاہور کی میٹرو سروس سے پہلے مکمل کرلیتے۔ عمران خان نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے، عوام سے کہتا ہوں گھبراؤ اور اسے بھگاؤ۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے سوات میں پی ڈی ایم کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف نے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا لیکن آج ملک میں لوڈشیڈنگ سے عوام کا برا حال ہے ، لاہور میں تعینات چینی قونصل جنرل پنگ زنگ وو نے کہا ہے کہ پاکستان کو سامراجیت سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ، چین مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، دونوں ملکوں کے عوام میں بھی مضبوط تعلقات کی تحریک شروع ہوچکی۔

پاکستان کی خود مختاری، اس کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے ساتھ یہاں معاشی ترقی ، توانائی اور انفرااسٹرکچر کی تعمیر چین کی اولین ترجیحات میں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ میڈیا ریسرچ ( آئی آئی آرایم آر )کے زیر اہتمام کمیونسٹ پارٹی چائنہ کے قیام کے سو سال اور پاک چین تعلقات کے سفر کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اتوار کو نو منتخب ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو فون کرکے ان سے کشمیر، افغانستان اور فلسطین کے مسائل پر گفتگو کی۔

دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ پناہ گزینوں کی آمد پاکستان اور ایران دونوں کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔ تعلیم کے حوالے سے کورونا کی صورت حال نے تدریس کے عمل کو ہڑپ کر لیا، وہ تعلیم رخصت ہو گئی جو تہذیب نفس کا کام کرتی تھی، تعلیم کا کیا حشر نشر ہوگیا، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کراچی میں میٹرک کا پہلا پرچہ امتحان شروع ہونے کے چند منٹ بعد ہی آؤٹ ہوگیا، فزکس کا پیپر ساڑھے 9 بجے شروع ہوا اور 9 بجکر 34 منٹ پر فوٹو کاپی کی دکانوں پر دستیاب تھا۔

یہ حقیقت ہے کہ کورونا کے عذاب تو بے شمار تھے، لیکن جو نقصان قوم نے نئی نسل کے معماروں کا دیکھا ہے ،اس کی کہانی درد ناک بھی ہے اور کوئی ماہر تعلیم اس کی تاریخ نہ سن سکا ہے اور نہ اسے سننا اس کے لیے کسی دھچکے سے کم ہوگا، اگر آن لائن کی کہانی سننا ہو تو ان بچوں سے سنیے، جنھیں غربت، مہنگائی میں کہیں بھی انٹر نیٹ یا آن لائن سہولتوں سے استفادہ میں کوئی سہولت بہ آسانی ملی ہو، کورونا آیا، اس کے سات پریشر بھی مختلف النوع تھے۔

اب ویکسین کا پریشر بھی کم نہیں، عوام آج بھی اس مطالبہ پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ ویکسین اتنی ہی ضروری ہے تو خدارا گھر گھر پہنچنے میں کیا امر مانع ہے، اب تو لازم ہوگیا ہے کہ ویکسین گھر گھر یا سینٹر اتنی تعداد میں ہوں کہ آدمی گھر سے نکلے اور ویکسین لگا کے دوبارہ گھر یا دفتر پہنچ جائے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے اندرون شہر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے، منڈی عملہ اور تاجروں کا ویکسین لگانا لازمی قرار دے دیا ہے، ہینڈ سینیٹائزر، ماسک مہیا کرنیکی ہدایت کی گئی ہے۔

تاجروں کا شکوہ ہے کہ انتظامیہ نے ہزاروں روپے پلاٹ، جانوروں کی رجسٹریشن اور دیگر مدات میں لیے ہیں مگر پانی تک میسر نہیں، ہم قربانی کے جانوروں کو پانی پلاتے پلاتے تھک چکے ہیں، جرائم پیشہ، قاتل دندناتے پھرتے ہیں، شہر قائد میں الگ صوبہ اور گورنر راج کے ایک بار پھر نعرے لگ رہے ہیں۔ اس شہر آشوب پر مرزا غالب نے آج سے دو سو سال قبل جو انسانی مصائب، دکھ درد ، رقابت اور دائمی انسانی بے بسی کا جو حال شعروں میں بیان کیا ہے، وہ نذر قارئین ہے:

درد منت کشِ دوا نہ ہوا

میں نہ اچھا ہوا ، برا نہ ہوا

جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو

اک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا

کیا وہ نمرود کی خدائی تھی

بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا

مقبول خبریں