عوام کے صبر کا پیمانہ۔۔۔

عوام اپنا حق حکمرانی ان جمہوری بادشاہوں کو عطا کرتے ہیں جو جھوٹ بولتے ہیں جھوٹے وعدے کرتے ہیں۔۔۔


Zaheer Akhter Bedari January 24, 2014
[email protected]

لاہور: حکومتوں کی ناکامی، حکومتوں کی بدنامی حکومتوں کی عوام میں رسوائی حکومتوں کی عوام میں غیر مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ حکام بالاکی نااہلیاں اورغیرذمے داریاں ہوتی ہیں۔ عوام کسی حکومت سے رہنے کے لیے کلفٹن یا ڈیفنس میں کوئی گھر نہیں مانگتے، عوام سفر کے لیے کوئی بی ایم ڈبلیو نہیں مانگتے، عوام اپنی حفاظت کے لیے نہ کوئی بلٹ پروف گاڑی مانگتے ہیں نہ مسلح گارڈ۔ عوام اپنے بچوں کے لیے آکسفورڈ میں حصول تعلیم کے مواقع مانگتے ہیں نہ عوام کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں لنچ اور ڈنر کرنا چاہتے ہیں نہ کسی شاپنگ مال میں چار چھ لاکھ کی شاپنگ کرنا چاہتے ہیں ، نہ عید قربان پر آٹھ دس لاکھ کے جانور کی قربانی کے لیے رقم کے طلب گار ہیں۔ عوام پہننے کے لیے نہ تیس پینتیس ہزار کا سوٹ مانگتے ہیں نہ چار چھ ہزار کے جوتے مانگتے ہیں عوام اپنے بچوں کی شادیاں نہ کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں کرنا چاہتے ہیں نہ پچیس پچاس لاکھ شادی پر خرچ کرنا چاہتے ہیں۔

عوام رہنے کے لیے دو کمروں کا مکان سفر کے لیے سیٹ بائی سیٹ بسیں یا منی بسیں بچوں کے لیے صاف ستھرے جدید اسکول کھانے کے لیے پیٹ بھر روٹی پہننے کے لیے دو جوڑے کپڑے ایک جوتی خرچ کے لیے جیب میں سو پچاس روپے عیدین پر ایک جوڑا نئے کپڑے شادی بیاہ پر ون ڈش کی اہلیت دہشت گردی ٹارگٹ کلنگ سے تحفظ دال سبزی تیل گھی آٹا چاول گوشت وغیرہ کی ایسی قیمتیں چاہتے ہیں جو ان کی پہنچ کے اندر ہوں لیکن جب انھیں زندگی اور زندہ رہنے کی یہ بنیادی سہولتیں بھی حاصل نہ ہوں تو۔۔۔؟ وہ یا تو صبر کرتے ہیں یا پھر بغاوت کرتے ہیں۔ اس ساری صورت حال کی ذمے داری ہر حکومت کے اعلیٰ حکام پر عائد ہوتی ہے وہی حکومتوں کو عوام میں مقبول یا رسوا کرتے ہیں۔

صورت حال کیا ہے؟ عوام کی بستیوں میں پینے کا صاف پانی نہیں عوام کی بستیوں میں سیوریج سسٹم نہیں ہر طرف گندگی گندے پانی کی بہتات ہے مکھیاں ہیں مچھر ہیں ڈینگی ہے۔ عوام کی بستیوں میں حصول تعلیم سے محروم بچوں کے لڑائی جھگڑے ہیں ۔گالم گلوچ ہیں میاں بیوی میں تلخ کلامیاں ہیں جو معاشی بدحالی کا نتیجہ ہیں۔ ناشتے میں پاپے چائے یا باسی روٹی اور دال ہے لنچ میں آلو کی بھجیا اور ایک روٹی ہے ڈنر میں فاقہ یا روکھی سوکھی روٹی ہے۔ کام پر جانے کے لیے بسوں منی بسوں میں جانوروں کی طرح سفر کرنے کی سہولتیں ہیں۔ کام کی جگہ پر افسران یا مالکان کی جھڑکیاں گالیاں اور تحقیر آمیز رویے ہیں۔ گھروں سے نکلتے وقت ذہن میں یہ خوف اور وسوسہ ہے کہ کیا ہم خیریت سے گھر واپس آئیں گے بھی یا راستے میں کسی ٹارگٹ کلر کی اندھی گولیوں کا شکار ہوجائیں گے۔ شوہر کی واپسی کے لیے بیوی بچے دست بہ دعا ہیں۔ بھائیوں کی خیریت سے واپسی کے لیے بہنوں کی آنکھوں میں غیر یقینیت کی پرچھائیں اور آنسو ہیں اور ہونٹوں پر دعائیں ہیں۔ لوگ نماز کے لیے مسجدوں امام بارگاہوں مندروں گرجاؤں میں جانے سے خوفزدہ ہیں کہ یہ ساری عبادت گاہیں قتل گاہوں میں بدل گئی ہیں۔ ہر بستی ہر محلے ہر علاقے میں لاشیں ہیں بین ہے آہ و زاریاں ہیں نوحے ہیں دھاڑیں ہیں آنسو ہیں۔ عوام کو تحفظ فراہم کرنے والے پولیس اور رینجرز کے سپاہی خود غیر محفوظ ہیں اور دہشت گردوں کی اندھی گولیوں خودکش حملوں بارودی گاڑیوں سے خوفزدہ ہیں۔

ٹارگٹ کلر دہشت گرد جرائم پیشہ افراد بے خوف و خطر شہر بھر میں دھڑلے سے گھوم پھر رہے ہیں۔ شہری اپنی بستیوں میں ہر روز نئے اور خوفناک چہروں کو آتے دیکھ رہے ہیں۔ خفیہ ایجنسیاں محو خواب ہیں شہر میں کسی بہت بڑے خون خرابے کی تیاریاں نظر آرہی ہیں۔ بینک لوٹے جا رہے ہیں ڈاکے پڑ رہے ہیں بے گناہ شہری مارے اور لوٹے جا رہے ہیں لوگ اغوا ہو رہے ہیں، اغوا برائے تاوان کا کاروبار عروج پر ہے۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز پر اربوں روپوں کی کرپشن کی خبریں ہیں۔ عام آدمی کی جیب خالی ہے پیٹ خالی ہے حکمراں ملک میں امن کے لیے دہشت گردوں سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہے ہیں اور دہشت گرد مذاکرات سے ہی انکاری ہیں۔

عوام اپنی بنیادی ضرورتوں کی چیزیں کیوں مانگ رہے ہیں کس سے مانگ رہے ہیں؟ دینے والے کون ہیں؟ جب تک ان سوالوں کے جواب نہیں مل جاتے لین دین کے یہ فلسفے سمجھ میں نہیں آسکتے۔ عوام کھیتوں میں ہر قسم کے اجناس پیدا کرتے ہیں، عوام ملوں کارخانوں میں ہر قسم کی اشیائے صرف اشیائے تعیش پیدا کرتے ہیں لیکن ان اشیا سے وہ محروم رہتے ہیں وہ ساری اشیا عوام پیدا کرتے ہیں جو بازاروں شاپنگ پلازوں شاپنگ مال میں ملتی ہیں ایک کسان گندم چاول دالیں پیدا کرتا ہے جن سے طرح طرح کے لذیذ کھانے تیار ہوتے ہیں لیکن وہ یہ لذیذ کھانے نہیں حاصل کرسکتا وہ صرف روٹی مانگتا ہے۔ مزدور کاٹن اور ٹیکسٹائل ملز میں ایک سے ایک خوبصورت ہزاروں ڈیزائن کے کپڑے ریشم و کم خواب بناتا ہے لیکن اسے لٹھے کی قمیض شلوار بھی دستیاب نہیں ہوتے مزدور بی ایم ڈبلیو ٹویوٹا کرولا ہنڈا سوکس آلٹو وغیرہ بناتے ہیں لیکن بسوں کی چھتوں اور دروازوں پر لٹک کر سفر کرتے ہیں۔

ہوائی جہاز بنانے والے بھی مزدور اور اس کے بھائی بند ہی ہوتے ہیں لیکن ہوائی جہاز میں سفر کرنے کی انھیں زندگی بھر سہولت حاصل نہیں ہوتی ۔ مزدور ہی اے سی بناتے ہیں لیکن گرمیوں میں انھیں بجلی ملتی ہے نہ بجلی کے پنکھے ملتے ہیں۔ مزدور ہی کارخانوں میں ریفریجریٹر اور ڈیپ فریزر بناتے ہیں لیکن ان کے گھر اپنے بنائے ہوئے ریفریجریٹروں اور ڈیپ فریزروں سے محروم ہوتے ہیں مزدور ہی ایک سے ایک خوبصورت بیڈ سیٹ بناتے ہیں لیکن خود ننگے فرش پر سوتے ہیں مزدور ہی قیمتی کارپٹ اور خوبصورت قالین بناتے ہیں لیکن ان کے گھر ڈرائنگ روم ہی سے محروم ہوتے ہیں۔ مزدور ہی نئے نئے قسم کے خوبصورت ڈائننگ ٹیبل اور کرسیاں بناتے ہیں لیکن خود فرش پر بیٹھ کر کھاتے ہیں راج مستری ہی کلفٹن ڈیفنس اور بڑے بڑے محلات بناتے ہیں لیکن خود جھونپڑیوں اور کچے مکانوں میں رہتے ہیں۔ کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ بنانے والے بھی مزدور ہی ہوتے ہیں لیکن وہ نہ کمپیوٹر خرید سکتے ہیں نہ لیپ ٹاپ۔ مزدور ہر قسم کی اشیائے تعیش بناتے ہیں لیکن خود اپنی بنیادی ضرورتوں سے محروم رہتے ہیں ایسا کیوں؟

ایسا اس لیے کہ عوام اپنا حق حکمرانی ان جمہوری بادشاہوں کو عطا کرتے ہیں جو جھوٹ بولتے ہیں جھوٹے وعدے کرتے ہیں خود عیش عشرت کی زندگی گزارتے ہیں اور عوام کو بھوک افلاس بے روزگاری مہنگائی بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ ٹارگٹ کلنگ دہشت گردی کے حوالے کرکے عوام سے یہ کہتے ہیں کہ ''ہمارے پاس کوئی الٰہ دین کا چراغ نہیں کہ ہم پلک جھپکتے میں تمہارے مسائل حل کردیں، یہ مسائل ہم نے پیدا نہیں کیے ہمیں ورثے میں ملے ہیں'' ان بے شرمانہ توجیہات میں اپنی نااہلی اپنی بدعنوانیوں اپنی بے ایمانیوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ سب اس لیے ہوتا ہے اور ہو رہا ہے کہ عوام اپنے آپ کو مالک ہونے کے باوجود غلام سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حکمران مصنوعی طور پر عوام کے خادم اور غلام ہوتے ہیں اور انھیں خادم اور غلام کے طور پر ہی رہنا چاہیے لیکن جمہوریت انھیں خادم کے بجائے مخدوم غلام کے بجائے آقا غلام کے بجائے مالک بنا دیتی ہے۔ جمہوریت کی ساری عمارت عوام کے ووٹ کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے لیکن ووٹ کے یہ مالک عوام جمہوریت کی بنیادوں میں دفن کردیے جاتے ہیں۔ ایسا کیوں؟

آج آٹا 50 روپے، دالیں 120-100 روپے، چاول 150-30 روپے، سبزیاں 100-80 روپے، گھی تیل 180-170 روپے، گوشت 450-400 روپے، چینی 60 روپے، مرغی 400 روپے کلو مل رہی ہے۔ ایک کلو پر 220 روپے کا یہ اضافہ پولٹری فارم کے مالکان اور ریٹیلرز کر رہے ہیں یہی حال دوسری اشیائے صرف کی قیمتوں کا ہے۔ کیونکہ کوئی پوچھنے والا نہیں عوام کے مصنوعی خادم اور غلام حکمران کی توجہ کا مرکز زیادہ سے زیادہ عرصے تک اقتدار سے چمٹے رہنا زیادہ سے زیادہ دولت اکٹھی کرنا سرکاری دوروں کو تجارتی دورے بنانا ہے۔ عوام بڑے صابر ہیں ہر ظلم ہر جبر کو آمنا صدقنا کہہ کر جھیل رہے ہیں۔ حکمرانوں کی نااہلیاں حکمرانوں کی بدعنوانیاں اب اس حد کو چھو رہی ہیں کہ عوام کے صبر کے پیمانے کو چھلکنے سے روکنا شاید کسی کے بس کی بات نہ رہے اور اگر ایک بار یہ پیمانہ چھلک گیا تو پھر ہمارا ملک یا تو 1789 کے فرانس کی طرف چلا جائے گا یا پھر مشرق وسطیٰ کے بے سمت انقلابات کی طرف پھر ظالموں بدعنوانوں جھوٹوں وعدہ فروشوں کے لیے کیا کوئی جائے پناہ رہے گی؟

مقبول خبریں