کراچی حصص مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے بعد تیزی غالب

انڈیکس 49 پوائنٹس کے اضافے سے 27 ہزار 64 ہوگیا، 39 کروڑ 99 لاکھ حصص کا لین دین


Business Reporter January 24, 2014
انڈیکس 49 پوائنٹس کے اضافے سے 27064 ہوگیا، 39 کروڑ 99 لاکھ حصص کا لین دین۔ فوٹو: آن لائن/فائل

KARACHI: مذہبی جماعتوں کی جانب سے جمعہ کو ہڑتال کی کال اور سانحہ مستونگ پرشہرمیں جاری دھرنوں کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کواتارچڑھائو کے بعد محدود پیمانے پر تیزی رونما ہوئی۔

کاروبار کا آغاز اگرچہ نمایاں تیزی سے ہوا اور مختلف شعبوںکی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے نتیجے میں ایک موقع پر189.43 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس27204 پوائنٹس کی نئی بلندترین سطح تک پہنچ گئی تھی لیکن کاروبار کے اختتام سے قبل سرمایہ کاری کے انخلا سے ایک موقع پر16.71 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی تاہم اختتامی لمحات میں بعض شعبوں کی کثیرالقومی کمپنیوں، سیمنٹ، بینکنگ اور ٹیکسٹائل سیکٹر میں خریداری کے باعث جاری مندی دوبارہ تیزی میں تبدیل ہوگئی، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں اور میوچل فنڈز کی جانب سے مجموعی طور پر 1کروڑ10لاکھ80 ہزار741 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری بھی کی گئی لیکن بعد ازاں مقامی کمپنیوں کی جانب سے35 لاکھ48 ہزار802 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے 8 لاکھ72 ہزار782 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے10 لاکھ86 ہزار 694 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے9 لاکھ76 ہزار433 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے45 لاکھ96 ہزار30 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔

 photo 2_zps5c89ae46.jpg

ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ جمعرات کوکاروبار کے ابتدا میں یہ تاثر عام تھا کہ مارکیٹ مزید کریکشن رونما ہوگی لیکن پھربعض شعبوں کی جانب سے اچانک خریداری رحجان بڑھنے سے تیزی کی بڑی لہر رونما ہوئی لیکن شہر میں جاری دھرنوں اور جمعرات کومذہبی جماعتوں کی جانب سے ہڑتال کی کال نے مارکیٹ کی سرگرمیوں کومتاثر کیا اور تیزی کو بھی محدود کر دیا جس کے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 49.22 پوائنٹس کے اضافے سے 27064.34 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 28.72 پوائنٹس کے اضافے سے19671 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 110.43 پوائنٹس کے اضافے سے 44776.80 ہوگیا، کاروباری حجم بدھ کی نسبت 4.41 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر39 کروڑ99 لاکھ31 ہزار 950 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار428 کمپنیوں کے حصص تک وسیع ہوا جن میں 227 کے بھائو میں اضافہ، 188 کے داموں میں کمی اور13 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔