پاک ازبک تعلقات اور خطے کے حقائق
دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور دوطرفہ روابط کے مزید فروغ سے خطے میں ترقی و خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی
پاکستان اور ازبکستان نے دوطرفہ شراکت داری قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے فوٹو: انٹرنیٹ
پاکستان اور ازبکستان نے دوطرفہ شراکت داری قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے ، اس ضمن میں جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان اور ازبک صدر شوکت مرزایوف نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت دونوں ملک سیاست، تجارت اور اقتصادی تعاون بشمول انرجی، کمیونیکیشن، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینگے۔
وزیر اعظم عمران خان کے دورہ کے حوالے سے جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے عالمی اور علاقائی معاملات بشمول کورونا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے اور تمام شعبوں میں تعاون کو مزید آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
ذرایع کا کہنا ہے کہ دونوں ملک مشترکہ مذہبی ، ثقافتی اور تاریخی تعلقات سے جڑے ہوئے ہیں جو مزید مستحکم کیے جائیں گے۔ دونوں لیڈروں نے تعلقات کی موجودہ رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا اور دونوں ملکوں و قوموں کے مفاد میں باہمی اسٹرٹیجک پارٹنرشپ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔ اس موقع پر اس بات کو نوٹ کیا گیا کہ پاکستان1991 میں ازبکستان کو بطور آزاد مملکت تسلیم کرنے والا پہلا ملک تھا۔ دونوں لیڈروں نے ازبکستان کی آزادی کی 30 ویں سالگرہ کو تُزک و احتشام سے منانے پر اتفاق کیا۔
دونوں ملک دوطرفہ تعاون کے علاوہ عالمی امور پر یکساں مؤقف اختیار کرنے کے لیے ایک دوسرے سے رابطہ رکھیں گے، اس کے لیے موجودہ سیاسی اور اقتصادی میکانزم بشمول وزرائے خارجہ کی سطح پر مشاورت کو استعمال کیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی پارلیمانی وفود کی سطح پر تبادلوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ پاکستان کی طرف سے گزشتہ ماہ ازبکستان کے پارلیمانی وفد کے دورہ اسلام آباد کو سراہا گیا، ازبکستان کی طرف سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے دورہ ازبکستان کی تصدیق کی گئی۔
وزیر اعظم عمران خان نے دونوں ملکوں کے درمیان طے شدہ انگیجمنٹ کے علاوہ مختلف شعبوں میں تعاون اور عوامی سطح پر رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے سماجی انصاف ، سب کے لیے تعلیم ، امن ، خوشحالی اور اقتصادی ترقی پر مبنی نئے پاکستان کے وژن کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ دونوں ملکوں نے عالمی سطح پر دوطرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے UN, SCO, OIC, ECO اور دیگر عالمی فورمز پر حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں ملک انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے اور اسلامو فوبیا کی روک تھام کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرینگے۔
ازبک صدر نے افغانستان میں امن کے لیے پاکستانی کوششوں کی تعریف کی ۔ انھوں نے ترمذ، مزار شریف، کابل اور پشاور کے درمیان ریلوے لائن بچھانے کے منصوبے کا خاص طور پر ذکر کیا۔ گزشتہ روز (15جولائی) کو منعقد کی گئی پاک ازبک ٹریڈ انوسٹمنٹ کانفرنس کے نتائج کو انتہائی سراہا گیا۔ پاکستان ازبکستان کو افغانستان کے راستے اپنی کراچی، بن قاسم اور گوادر بندرگاہوں تک رسائی دے گا۔
دونوں لیڈروں نے پاک چین اقتصادی راہداری کی اہمیت کو تسلیم کیا جس کے ذریعے وسطی ایشیا تک رابطوں کو فرو غ دیا جائے گا۔ بعد ازاں وزیر اعظم عمران خان نے ازبک صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، ہم ازبکستان کے ساتھ مضبوط تجارتی شراکت داری قائم کرنا چاہتے ہیں، پاکستان ازبکستان کے راستے وسطی ایشیا اور ازبکستان پاکستان کے راستے مشرق وسطی اور افریقہ تک تجارتی رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
پاکستان اور ازبکستان مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر پر مشترکہ فلم بنائیں گے، افغانستان کو خانہ جنگی سے بچانے اور مسئلہ کے پرامن سیاسی حل کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں، پہلے مرحلے میں پاک افغان وزرائے خارجہ ملاقات کریں گے پھر سربراہان کی سطح پر بات ہو گی، ازبکستان کے صدر نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے خواہاں ہیں، قبل ازیں تاشقند میں پاکستان ازبکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا پاکستان اور ازبکستان کے صدیوں پرانے تاریخی، ثقافتی اور روحانی تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور دوطرفہ روابط کے مزید فروغ سے خطے میں ترقی و خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ افغانستان کے راستے ریلوے منصوبہ پاکستان اور ازبکستان دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سیاسی مبصرین نے دورے کو مفید اور خطے کے تناظر میں کلیدی امکانات سے بھرپور قرار دیا۔
تاہم سیاسی خدشات اور تبدیلیوں کے حوالہ سے دونوں ملکوں نے افغان صورتحال کے ہمہ جہتی معاملات کا جائزہ لیا۔ مگر افغانستان کے حالات و واقعات کے ساتھ ساتھ ملکی اقتصادی اور سماجی صورتحال سے بھی وزیر اعظم کو مکمل آگاہی حاصل ہوئی، ان میں توانائی بحران اور نیب کے حوالہ سے میڈیا میں بیانات سے پیدا شدہ ابہام اور بین الوزارتی معاملات میں تناؤ کی نشاندہی ہوتی ہے، نیب اور وزیر خزانہ میں سخت بیانات کا تبادلہ ہوتا رہا، ملکی اقتصادی اداروں کے سربراہوں میں تناؤ نیک شگون نہیں ہے، اداروں میں خیرسگالی اور ادارہ جاتی تعلقات کار میں دراڑ کا پڑ جانا ہمیشہ نقصان دہ ہوتا ہے۔
اختیارات کی جنگ میں انارکی کو روکنا ناگزیر ہے، عوام ریلیف دینے والے اداروں میں اختیارات ، پالیسیوں، مسابقت، سول بیورو کریسی میں پیدا شدہ خوف کی افواہوں پر سخت مضطرب ہیں، وزیر اعظم کو فوری اقدام کرنا ہوگا، معاملات بہت سنگین ہیں، بہت تدبر اور صائب اقدامات کی ضرورت دو چند ہوگئی ہے، وزیر خزانہ شوکت ترین اور نیب حکام کے مابین سخت بیان بازی کا نوٹس لیا جائے، غلط فہمیوں کا جلد ازالہ ہونا چاہیے، اگرچہ نیب نے وزیر خزانہ کی اس رائے سے اختلاف کیا ہے کہ نیب کے ڈر کی وجہ سے سرکاری ملازمین بہترین کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پا رہے، لیکن بیوروکریسی کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ نے درست صورتحال کی نشاندہی کی ہے۔ سول سروس کے ذرایع کا کہنا ہے کہ بیوروکریسی نیب کی کارروائیوں کی وجہ سے خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہے۔
حتیٰ کہ بیوروکریسی کو وزیر اعظم اور آرمی چیف سے رابطہ کرنا پڑا ادھر سیکریٹریز کمیٹی نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ نیب ہراساں کرنے کی پالیسی بند کرے۔ بیوروکریسی نے سیکریٹریز کمیٹی کے ذریعے باضابطہ طور پر نیب پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ادارے کے بیوروکریٹس کے خلاف اقدامات ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہیں۔ نیب جس انداز سے کام کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اس کے برعکس، سیکریٹریز کمیٹی نے حکومت کو 2019 میں بتایا تھا کہ فوری اقدام کرکے نیب کو روکا جائے اس سے قبل کہ بیورو مستقل طور پر سول سروس کے کام کرنے کے انداز کو مفلوج کر دے۔
یہ انتباہ الم ناک ہے، واضح رہے وزیر اعظم بھی نیب قانون بدلنے کا عندیا دے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ خوف کی وجہ سے نجی شعبے کے باصلاحیت سی ای اوز سرکاری اداروں میں نہیں آتے، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اداروں کی سطح پر اعلیٰ حکام اور وزرا کو بیان بازی سے گریز کرنے کی ہدایت ملنی چاہیے، عوام کو بے پناہ تناؤ اور بے یقینی کا سامنا ہے، محاذ آرائی، توہین آمیز بیانات سے کوئی شعبہ محفوظ نہیں، ایک افسوسناک سیاسی بے لگامی کا ماحول ہے جس میں کوئی اس بات کا خیال نہیں کرتا کہ حکمرانی کے تقاضے پارلیمینٹیرینز سے حسن اخلاق اور شائستہ لہجے کی توقع رکھتے ہیں، دوسری طرف مہنگائی کا جن بھی بے قابو ہے۔ حکومت بیروزگاری، غربت اور مہنگائی ایشو سے لاتعلق ہوگئی ہے۔
وفاقی حکومت نے عید قربان سے قبل ہی مہنگائی کے مارے عوام پر بڑا پٹرول بم گراتے ہوئے پٹرول کی فی لٹر قیمت میں5 روپے 40 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 2.54 روپے لٹر کا اضافہ کر دیا ہے، ایل پی جی کی قیمت میں بھی 5 روپے فی کلو اضافہ کر دیا گیا ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے پر حکومت کے پاس تیل کی قیمتیں بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کے لیے مطلوبہ اضافہ نہیں کیا، لیکن عوام حکومتی وضاحتوں سے مطمئن نہیں ہوں گے۔
مہنگائی کے خاتمے کی پالیسیوں سے عوام اور صارفین کو واضح ضمانت ملنی چاہیے، حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کا سلسلہ روک دے، یہ اونٹ کی کمر پر آخری تنکا نہ ثابت ہو جائے، شہریوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کو ہے، عوام اس صورتحال کے خلاف پھٹ پڑے تو بڑے مسائل پیدا ہونگے۔ تجزیہ کار بھی خبردار کر رہے ہیں کہ ارباب اختیار نہ تو زمینی حقائق کا ادراک کرنے میں سنجیدہ ہیں، ادارہ جاتی سطح پر سسٹم کی تطہیر ، کرپشن کے احتساب کو یقینی بنایا جائے، لیکن وزرا محاذ آرائی، بلیم گیم اور کردار کشی میں نئے نئے سکینڈلز ایجاد کرنے میں مصروف ہیں، انصاف کی ضرورت ہے ، اقتصادی صورتحال اور مہنگائی و غربت کی روک تھام نہ ہوئی تو انتشار سب کچھ بہا لے جائے گا۔
کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئیگا، لہٰذا حکمراں اس طرف فوری توجہ دیں، یہ وقت کی للکار ہے۔ ترجمانوں کی روایتی وضاحتیں اس لاوے کو نہیں روک سکیں گے جو اندر ہی اندر پک رہا ہے، غریب طبقہ کی فریاد کوئی سننے کے لیے تیار نہیں، جس کے باعث جمہوری عمل کو واقعی سخت خطرات لاحق ہیں۔ ارباب اختیار سسٹم کی خرابی اور اپنے رویوں میں اعتدال اور توازن پیدا کریں، ورنہ لگتا ہے وقت ایک بڑے سانحہ کی پرورش کا منتظر ہے۔