افغانستان اور پاکستان کی قومی سلامتی

افغانستان کی تمام سیاسی قیادت کا صرف یہی کہنا ہے کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں


Editorial July 19, 2021
اتحادی افواج افغانستان چھوڑ کرجارہی ہیں تو بھارت نے ڈبل گیم شروع کردی ہے فوٹو: فائل

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ پاک، افغان سرحد پر پاک فوج کے ریگولر دستے تعینات اور غیرقانونی کراسنگ پوائنٹس سیل کر دیے گئے ہیں۔

افغانستان کی صورتحال کے باعث پاکستان میں دہشت گردوں کے سلیپر سیلز دوبارہ فعال ہونے کا خدشہ ہے۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی کڑیاں افغانستان سے ملتی ہیں کیونکہ افغانستان کی حالیہ صورتحال کے باعث وہاں پر دہشت گرد شدید دباؤ میں ہیں، ہم افغانستان میں امن عمل کے ضامن نہیں، افغانستان کے شراکت دار ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ افغانستان کی خراب صورتحال کا براہ راست شکار سب سے پہلے پاکستان ہوتا ہے ،افغانستان میں امن وامان کے حوالے سے صورتحال انتہائی نازک موڑمیں داخل ہوچکی ہے ، پاک فوج کے ترجمان نے واضح الفاظ میں اسی حقیقت کی نشاندہی کی ہے۔

پاکستان نے حالیہ کچھ عرصے سے اس خطے کے لیے اپنی پالیسی میں تبدیلی جیو اسٹرٹیجک کی جگہ جیو اکنامک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان وسطی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی چاہتا ہے لیکن افغانستان میں افراتفری اس کے یہ اہداف مشکل بنارہی ہے اور مستقبل قریب میں سامان کی آمدورفت ممکن نہیں رہے گی اور علاقائی تجارت سے پاکستان فائدہ نہیں اٹھاسکے گا۔پاکستانی پالیسی سازوں کے لیے غالباً بڑے سوال یہی ہیں کہ ان تمام منفی اثرات سے وہ اپنے آپ کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

افغانستان کی موجودہ صورتحال کو دیکھیں تو ملک کے ایک بڑے حصے پر افغان طالبان قابض ہوچکے ہیں، صرف کابل بچا ہوا ہے وہ بھی کتنے دن تک؟افغان فوج ایک علامتی فوج ہی محسوس ہوتی ہے، امریکا کی فوج ہی افغانستان میں معاملات کو سنبھالا دے کر بیٹھی ہو ئی تھی لیکن ایک بڑی تعداد میں فوجی افغانستان میں رکھنے کے با وجود جب امریکا بھی کچھ نہیں کر سکا تو افغان فوج سے یہ توقعات رکھنا کہ وہ امریکی انخلا کے بعد سیکیورٹی معاملات کو سنبھال لے گی خام خیالی سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نہ اشرف غنی حکومت چھوڑنے کے لیے تیار ہیں اور نہ طالبان ہی کوئی ایسی رعایت دینے کے لیے تیار ہیں،جو ان کی تحریک اور نظریے سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔ وہ بڑے واضح الفاظ میں کہتے ہیں کہ انھیں 'امارت اسلامیہ افغانستان' بنانی ہے۔ گوافغان طالبان نے امریکیوں سے معاہدے میں وعدہ کیا ہے کہ وہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

ایسے میں ٹی ٹی پی کے خاموش رہنے کے امکانات زیادہ ہیں لیکن اگر ٹی ٹی پی افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرکے پاکستان میں دوبارہ متحرک ہوتی ہے تو پاکستان بلاشبہ طالبان حکومت سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرے گا۔ ایسے میں افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا امکان حد درجے کم ہے، وہ دباؤ اور بات چیت کے ذریعے انھیں خاموش رہنے پر شاید آمادہ کرلیں، یہ ایک رائے ہوسکتی ہے جب کہ ایک اور حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا کہ افغان طالبان کے جیسے پورے افغانستان پر اقتدار قائم ہوجائے گا تو پاکستانی طالبان کو افغان سرزمین سے دوبارہ استعمال کیا جائے گا ۔

یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے افغانستان کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے علاوہ کسی بھی ملک نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اتنی جدوجہد نہیں کی۔ افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا غیر منصفانہ ہے۔ وزیراعظم نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان امن میں شراکت دار ہے۔

افغانستان میں بدامنی جاری ہے، صوبہ تخار میں 12 ہزار خاندان بے گھر ہوچکے ہیں، اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جنوری سے اب تک 2لاکھ 70 ہزار افغان نقل مکانی پر مجبورہوئے ہیں، جس کے بعد بے گھر افراد کی تعداد 35 لاکھ تک پہنچ گئی ہے ۔اس وقت افغانستان میں خانہ جنگی کے خدشات سراٹھا رہے ہیں، خانہ جنگی ہوئی توپانچ سے سات لاکھ افغان مہاجرین پاکستان آسکتے ہیں تاہم مہاجرین کو ایرانی طرز پر بارڈر کے قریب کیمپوں میں رکھا جائے گا جب کہ ٹی ٹی پی اور پاکستان دشمن لوگ مہاجرین کی شکل میں آسکتے ہیں لہٰذا انھیں روکنا ضروری ہے۔

اس حوالے سے پہلے کی غلطیوں کو دہرانے سے اجتناب کرتے ہوئے مہاجرین کو سرحدی علاقوں میں بسانے کی تجویز صائب ہے لیکن ماضی کے تجربات کی روشنی میں اس پر عملدرآمد کے خدشات شاید بے وجہ نہ ہوں۔

دنیا میں مہاجرین کی میزبانی کا جو معروف طریقہ ہے اور ہمسایہ ملکوں نے اس حوالے سے قبل ازیں جو طریقہ کار اختیار کیے رکھا ان اصولوں کو اپنانا پاکستان اور اس کے عوام کے مفاد میں ہے اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ اس وقت بھی مہاجرین کے طور پر آنے والے لاکھوں افراد پاکستانی شہریوں کی طرح نہ صرف شہروں میں رہ رہے ہیں بلکہ بغیر ٹیکس دیے کاروبار بھی کر رہے ہیں، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں بھی مقامی افراد کے مساوی ہی گردانے جاتے ہیں اگر مزید سات لاکھ جو کہ ایک تخمینہ ہے اس کا دوگنا بھی آسکتے ہیں اس لیے کہ افغانستان کا تقریباً ہر دوسرے شہری کا پاکستان اور بیرون ملک منتقل ہونے کی جتن میں ہونے کی اطلاعات ہیں۔

بہر حال اس سے قطع نظر ماضی کے تجربات کے پیش نظر نہ صرف آنے والے متوقع مہاجرین کومحدود کیا جائے بلکہ موجودہ شہروں میں مقیم مہاجرین کو بھی سرحدی علاقوں میں منتقل کیا جائے۔ افغان گروہوں کو خانہ جنگی اور لڑائی چھیڑ کر افغانیوں کو مہاجرین بننے پرمجبور کرنے کے بجائے باہم مفاہمت سے انتقال اقتدار اور حکومت کاکوئی فارمولہ وضع کرنا چاہیے تاکہ ان کا ملک بھی مستحکم اور پرامن رہے اور ہمسایہ ممالک کو بھی مسائل کا سامنا نہ ہو۔ بہتر ہو گا کہ مہاجرین کی آمد سے قبل ہی اس امر کا دونوں پڑوسی ممالک فیصلہ کریں کہ ان لوگوں کو افغانستان کی حدود ہی میں رکھنے کا بندوبست کیا جائے اور عالمی اداروں سے اس حوالے سے امداد و معاونت لی جائے تو زیادہ موزوں ہوگا۔میڈیا کے مطابق دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔

افغان وفد کی قیادت عبد اللہ عبداللہ کررہے ہیں جب کہ سابق صدر حامد کرزئی بھی موجود ہیں طالبان وفد کی سربراہی نائب امیر ملا عبدالغنی برادر کررہے ہیں،مذاکرات کے دوران عبد اللہ عبداللہ نے کہا کہ افغانستان انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے، ملک میں جاری تصادم کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔

افغانستان کی تمام سیاسی قیادت کا صرف یہی کہنا ہے کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں، سیاسی حل کے تلاش کے لیے فریقین کو لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر نے کہا کہ انٹرا افغان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باوجود امید قائم رکھنی چاہیے، اپنے ذاتی مفادات کو چھوڑ کر مرکزی اور آزاد اسلامی نظام کے قیام کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔آخر بات وہی ہے کہ افغان طالبا ن طاقت کے بل بوتے پر اپنا اقتدار دوبارہ قائم کرنا چاہتے ہیں اور برطانیہ اس حوالے سے ان کی حمایت کا اعلان بھی کرچکا ہے۔

اب جب کہ اتحادی افواج افغانستان چھوڑ کرجارہی ہیں تو بھارت نے ڈبل گیم شروع کردی ہے۔ ایک طرف طالبان سے مذاکرات اور دوسری طرف اشرف غنی حکومت کو طالبان کے ہی خلاف اسلحہ فراہم کررہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کے C-17 جنگی سازوسامان لے کر جانے والے طیاروں کو افغانستان میں دیکھا گیا اور ذرایع کے مطابق بھارت نے بھاری گولہ بارود ان جنگی جہازوں کے ذریعے افغانستان منتقل کیا ہے۔ پاکستان پہلے ہی یہ حقائق منظرعام پر لا چکا ہے کہ بھارت پاکستان میں کیسے اور کہاں کہاں سے دہشت گردی کرواتا ہے۔

افغانستان میں بھارتی سفارت خانے اور قونصل خانوں کے کون کون سے افسر دہشت گردوں کو فنڈنگ کرتے اور انھیں کس طریقے سے جدید اسلحہ سپلائی کرتے ہیں،فنڈز کس طرح ٹرانسفر ہوتے ہیں، بلوچستان میں دہشت گردی کے ان گنت واقعات ہو چکے ہیں، جن کے بارے میں حکام نے صاف طور پر بتایا کہ ان میں بھارت ملوث ہے اور اس کے ثبوت بھی موجود ہیں، ایسے ثبوتوں کے ڈوزیئر عالمی طاقتوں اور عالمی اداروں کو بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے لیے بلوچستان کا انتخاب کیوں کیا گیا ہے؟ اور دشمن اس علاقے سے کون سے فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ان تمام سوالوں کے جواب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے خود دیے ہیں۔ اخبارات کا جائزہ لیں۔ بھارتی شدت پسند رہنماؤں کے بیان پڑھیں اور تو اور نریندر مودی کی تقاریر پڑھیں تو وہ بالکل واضح طور پر بلوچستان کا ذکر کرتے ہوئے ملتے ہیں۔بنگلہ دیش کے بنانے میں بھارت کا کردار اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے حوالے سے ان کی تقاریر نے کسی تحقیق کی ضرورت باقی نہیں چھوڑی۔ آرمی پبلک اسکول پشاور میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائی باقاعدہ سرحد پار سے کنٹرول کی جارہی تھی۔

عالمی قوتیں دہشت گردی کے پے در پے واقعات کی آڑ میں پاکستان کے جوہری پروگرام کو ختم کرانا چاہتی ہیں تاکہ بھارت اور اسرائیل ایک مضبوط قوت بن کر اُبھریں جب کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام ہی اس کی سلامتی کی ضمانت ہے۔

حرف آخر عالمی طاقتیں پاکستان کو غیر مستحکم اس لیے کرنا چاہتی ہیں کہ ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان خطے کی صورتحال کو بدل کر رکھ دے گا اور عالمی سیاسی ایجنڈے کو عملاً ناکام بنا دے گا، لہٰذا افغانستان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے قومی سلامتی کے امور کو اولین ترجیح ، وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے ، پالیسی سازوں کو ہوشیاراور چونکا رہنے کی ضرورت ہے، ذرا سی غفلت یا لاپرواہی پاکستان کے لیے مسائل ومشکلات پیدا کرسکتی ہے ۔

مقبول خبریں