غیر قانونی لٹریچر کی ضبطی
اگر بلوچستان میں بعض نوجوان مایوسی کا شکار ہیں اور ان میں سے کچھ آزاد بلوچستان کا نعرہ لگا رہے ہیں
اخباری اطلاع کے مطابق عطا شاد ڈگری کالج تربت میں ملک دشمن لٹریچر تقسیم ہو رہا تھا۔ قانون نافذ کرنے والی ایک ایجنسی نے ازخود کارروائی کرتے ہوئے یہ لٹریچر برآمد کیا، کچھ طالب علموں کو حراست میں لے لیا گیا۔ پی ایس او آزاد جو طلبا کی ایک تنظیم ہے، کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نام نہاد ممنوع کتابیں اور رسائل خضدار، تربت، کوئٹہ اور کراچی میں کھلے عام دستیاب ہیں۔ حکومت بلوچستان کو قانون نافذ کرنے والی ایجنسی کے اہلکاروں کی کارروائی پر تشویش ہے۔ حکومت کے ترجمان جان بلیدی کا کہنا ہے کہ گلوبلائزیشن کے اس دور میں کسی کتاب یا رسائل کو ممنوع قرار دے کر ضبط کرنا مضحکہ خیز قدم ہے۔ بلوچستان کے منتخب نمایندے خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کی کارروائیوں کی توثیق نہیں کرتے مگر منتخب حکومت کی اجازت کے بغیر کسی ایجنسی کو کارروائی کا قانونی جواز ہرگز نہیں ہے۔ ممنوعہ لٹریچر ایک قدیم سیاسی اصطلاح ہے، مقتدرانہ ریاست کے مستحکم ہونے کے ساتھ ممنوعہ لٹریچر کی اصطلاح بھی رائج العام ہو گئی۔
عمومی طور پر بادشاہتوں کے خاتمے کے لیے اس قسم کا لٹریچر استعمال ہوتا تھا۔ جب 1857ء میں ہندوستانی فوجیوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کے خلاف بغاوت کی تو اس بغاوت کے پس پردہ انگریزوں کے مظالم سے متعلق شایع ہونے والی خبریں تھیں، جنھوں نے لوگوں کے ذہنوں کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ممبئی حکومت نے اس مواد کو ملک دشمن قرار دیا تھا۔ اس بغاوت سے پہلے نواب لوہارو اور ان کے ملازم کے خلاف ایک انگریز کے قتل کے مقدمے کی روداد دہلی کے بعض اردو اخبارات میں تفصیل سے شایع ہوئی تھی۔ اگرچہ اخبارات کی اشاعت انتہائی محدود تھی مگر ہندوستانیوں کے ذہنوں میں ان خبروں نے چنگاری بھڑکا کر دی تھی۔ بندوق کے کارتوس میں گائے اور سور کی چربی کی موجودگی کی افواہوں پر مشتمل خبروں نے بھی اس بغاوت کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 20 ویں صدی میں جب ہندوستان کی آزادی کی تحریکیں چلیں، ان تحریکوں میں تحریک خلافت میں کانگریس، کمیونسٹ پارٹی اور ممنوع سیاسی گروپوں کی تحریکوں نے اہم کردار ادا کیا اور بھگت سنگھ مزاحمت کی ایسی ہی تحریک کی قیادت کرتے ہوئے زندہ جاوید ہوئے تو ان تحریکوں کو متحرک کرنے میں سیاسی لٹریچر کے علاوہ ادب اور شاعری نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔
پاکستان کے قیام کے بعد کمیونسٹ پارٹی اور انجمن ترقی پسند مصنفین پر پابندی عائد کر دی گئی، بنیادی انسانی حقوق سے متعلق تمام لٹریچر کو ملک دشمن قرار دے دیا گیا۔ اس ممنوعہ لٹریچر کی اشاعت کے الزام میں پاکستان ٹائمز، روزنامہ امروز اور ہفت روزہ لیل و نہار سمیت بے تحاشا اخبارات و رسائل پر پابندی لگا دی گئی۔ عظیم صحافیوں فیض احمد فیضؔ، سبط حسن، احمد ندیمؔ قاسمی اور مظہر علی خان سمیت سیکڑوں صحافیوں، ادیبوں اور شاعروں کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ صحافت کی تاریخ کی ورق گردانی سے سابق وزیر اعظم محمد علی بوگرا کی اپنی لبنانی سیکریٹری سے شادی کی خبروں کا واقعہ ملتا ہے۔ یہ خبر کراچی کے ایک اخبار ''مسلمان'' میں شایع ہوئی تھی۔ کراچی کی انتظامیہ نے اخبار کے ایڈیٹر سے جواب طلب کیے بغیر اخبار پر ملک دشمن خبر کی اشاعت کے الزام میں پابندی لگا دی تو مسلمان ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا، مگر 6 ماہ بعد بوگرا صاحب کی شادی کی خبر برطانیہ کے اخبارات میں شایع ہوئی۔ بلوچستان کے عظیم رہنما میر غوث بخش بزنجو کو ایوب خان کی حکومت نے ملک دشمن لٹریچر تقسیم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا اور کئی سال جیلوں میں بند رکھا۔ میر صاحب پر کرنسی نوٹ پر سیاسی نعرے لکھنے کا الزام تھا مگر یہ الزام کسی عدالت میں ثابت نہیں ہوا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں کمیونسٹ رہنما جام ساقی، پروفیسر جمال نقوی، ڈاکٹر جبار خٹک، سہیل سانگی، اعجاز وارثی، شبیر شر، بدر ابڑو، امر لعل اور نذیر عباسی شہید کے خلاف ملک دشمن لٹریچر تقسیم کرنے کے الزام میں مقدمہ درج ہوا۔
اس وقت کے آئی ایس آئی کے کرنل امتیاز بِلا کا کہنا تھا کہ تفتیش کے دوران نذیر عباسی دل کا دورہ پڑنے سے شہید ہو گئے۔ خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے عبدالستار ایدھی کو رات گئے سخی حسن قبرستان میں ان کی تدفین پر مجبور کیا۔ نذیر عباسی کے جسم پر زخموں کے نشانات تھے۔ جب خصوصی فوجی عدالت میں اس مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی تو استغاثہ نے سوشلزم سے متعلق رسالہ سرخ پرچم کی کاپیاں پیش کیں۔ ملزمان کے وکلا کا کہنا تھا کہ سوشلزم اور کمیونزم سیاسیات، معاشیات اور دوسرے سماجی علوم کے نصاب کا لازمی حصہ ہیں، جب یہ مضامین نصاب میں پڑھائے جا رہے ہیں تو ملک دشمن اور غیر قانونی لٹریچر فہرست میں کیسے شامل کیا جا سکتا تھا۔ اس مقدمے میں تحقیقاتی افسر (جو اے ایس آئی تھا) نے یہ بیان دیا کہ اس کی تعلیم تو انٹرمیڈیٹ ہے، اس نے سوشلزم کے بارے میں کچھ زیادہ پڑھا ہی نہیں ہے۔ یوں تحقیقاتی افسر کسی قسم کے لٹریچر کو سمجھ نہیں سکتا تو اس کو غیر قانونی کیسے قرار دے سکتا تھا۔ عدالت نے بنیادی ملزمان جام ساقی، پروفیسر جمال، سہیل سانگھی ، ڈاکٹر جبار خٹک اور بدر ابڑو وغیرہ کو بری کر دیا۔ شبیر شر ایڈووکیٹ اور کمال وارثی کو سزا دے دی گئی۔ سندھ ہائی کورٹ نے بعد میں سزا کو کالعدم قرار دے دیا۔ ملک دشمن مواد شایع کرنے اور اپنے پاس رکھنے کے الزام میں 8 کارکنوں کو بہیمانہ تشدد، نفسیاتی اذیتوں اور برسوں جیلوں میں مقید ہونے کی ناکردہ سزائیں برداشت کرنی پڑیں مگر کسی خصوصی فوجی عدالت میں بھی خفیہ تحقیقاتی عسکری ایجنسی کے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔
وزیر اعظم محمد خان جونیجو دور میں جنرل ضیاء الحق کا 10 سال سے زائد عرصے تک نافذ مارشل لاء ختم ہوا اور 1973ء کا آئین مکمل طور پر بحال ہوا، یوں مطلق العنان ریاست تاریخ کا حصہ بن گئی۔ حکومت کی مخالفت کو ہر شہری کے بنیادی حقوق میں شامل کیا گیا، اب نئے صوبے بنانے حتیٰ کہ اپنے صوبے کی آزادی کا مطالبہ بھی ملک دشمنی اور غداری کی فہرست سے خارج ہوا۔ مخالف اراکین اسمبلی حکومت کی تبدیلی کو اپنی آئینی ذمے داری قرار دینے لگے۔ پہلی دفعہ بے نظیر بھٹو حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں پیش ہوئی۔ حزب اختلاف نے پارلیمانی طاقت کے ذریعے بے نظیر بھٹو کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی مگر وفاقی حکومت نے سیاسی تدابیر سے یہ کوششیں ناکام بنا دیں اور جمہوری نظام کو مستحکم کر دیا۔ وفاقی حکومت پر تحقیق کرنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ متحدہ پاکستان میں عوامی لیگ نے جو 6 نکات پیش کیے تھے اس وقت کی حکومت نے انھیں ملک دشمن قرار دیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ عوامی لیگ کے قائد شیخ مجیب الرحمن کے خلاف اگرتلہ سازش کا مقدمہ 6 نکات کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔
جب جنرل یحییٰ خان نے مارچ 1971ء میں شیخ مجیب الرحمن کو گرفتار کر کے فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا تو اس مقدمے کی بنیاد 6 نکات پر عوامی لیگ کا انتخابی منشور تھا۔ مگر 2 سال قبل قومی اسمبلی نے صوبائی خودمختاری کو تحفظ دینے کے لیے آئین میں 18 ویں ترمیم منظور کی۔ 18 ویں ترمیم میں چاروں صوبوں کو 6 نکات سے زیادہ خودمختاری دی گئی ہے۔ گلوبلائزیشن کے دور میں جب ہر قسم کا مواد انٹرنیٹ پر موجود ہے، کسی کتاب یا رسالے کو ضبط کرنے کا مطلب ''احمقوں کی جنت'' میں رہنا ہے۔ پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کا سرد جنگ میں تعلیمی اداروں میں اہم کردار تھا۔ یہ ایجنسیاں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اساتذہ اور طلبا کو حاصل علمی آزادی کو سلب کرتی تھیں اور جمہوری نظام کو کمزور کرتی تھیں۔ اب اس نئے دور میں کالج اور یونیورسٹیاں اپنی تحقیق اور آزاد بحث و مباحثے کے ادارے کے ذریعے معاشرے کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی ہیں۔ اگر بلوچستان میں بعض نوجوان مایوسی کا شکار ہیں اور ان میں سے کچھ آزاد بلوچستان کا نعرہ لگا رہے ہیں تو انھیں انصاف ، تحفظ اور روزگار دے کر قومی ترقی کی دوڑ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔