حکومت نے پورٹ پر روکی گئی پرانی گاڑیاں چھوڑنے کا عندیہ دیدیا

وزارت تجارت نے ایف بی آرسے فہرست طلب کرلی،10 فیصد اضافی سرچارج لیا جائیگا،ذرائع


Ehtisham Mufti January 25, 2014
پھنسی ہوئی1000 گاڑیوں کی کلیئرنس چند روز میں شروع ہو جائے گی، موٹر ڈیلرزایسوسی ایشن۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے ستمبر2013 سے کراچی کی بندرگاہوں پر روکی گئی ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کو10 فیصد اضافی سرچارج کی ادائیگی پر ون ٹائم کلیئرنس کی اجازت دینے کا عندیہ دیدیا ہے۔

ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ اس ضمن میں وزارت تجارت نے چیئرمین ایف بی آر سے بندرگاہوں پر کلیئرنس کی منتظر ری کنڈیشنڈکاروں کی فہرست بھی طلب کر لی ہے۔ وزارت تجارت کی جانب سے چیئرمین ایف بی آر کو بھیجے گئے خط میں کہا گیاکہ ایف بی آر بندرگاہوں پرموجود ایسی درآمدی پرانی کاروں کی مکمل فہرست تیار کرے جن کو مینوفیکچرنگ ٹائم سے متعلق حد کے برخلاف پاکستان لایا گیا تاکہ طویل دورانیے سے روکی گئی درآمدی گاڑیوں کی کلیئرنس سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے۔ خط میں کہاگیاکہ آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد ودیگر نے وزارت تجارت سے رابطہ کرکے بتایا کہ کسٹم حکام نے سال 2009میں تیار ہونے والی گاڑیوں کی کلیئرنس سے انکار کردیا ہے لہٰذا وفاق اب درآمدکنندگان کو تحفظ دینے کے لیے روکی گئی استعمال شدہ کاروں پر مقررہ کسٹم ڈیوٹی وچارجز کے علاوہ10فیصد اضافی سرچارج وصول کرنے کے بعد ریلیز کرنے کے احکام جاری کرے،یہ کاریں سمندر پار پاکستانیوں کے نام پر پرسنل بیگیج اسکیم کے تحت درآمد کی گئی ہیں، وزارت تجارت نے گزشتہ سال فروری میں بھی 3سال 8 ماہ سے زائد پرانی گاڑیوں کو کلیئر کرنے کی اجازت دی تھی اور ان پر5 فیصد سرچارج وصول کیا تھا۔

 photo 2_zps9e063f53.jpg

ذرائع نے بتایا کہ فی الوقت کراچی کی بندرگاہوں پر1000 استعمال شدہ کاریں 3ماہ سے کسٹمز کلیئرنس کی منتظر ہیں جن پر کروڑوں روپے مالیت کے ڈیمریج وڈیٹنشن چارجز عائد ہوگئے ہیں۔ ایک متاثرہ درآمدکنندہ نے بتایا کہ وہ طویل دورانیے کے بعد پاکستان منتقل ہوا اور اس نے ایک استعمال شدہ گاڑی جاپان سے درآمد کی لیکن بدقسمتی سے اس کار کی مینوفیکچرنگ تاریخ امپورٹ پالیسی سے 3 ماہ زائد ہے جس کی وجہ سے وہ 3 ماہ سے محکمہ کسٹمز کے دھکے کھا رہا ہے۔ آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے10 فیصد اضافی سرچارج کے ساتھ کلیئرنس کے احکام جاری ہونے کے بعد بندرگاہوں پر پھنسی ہوئی1000 گاڑیوں کی کلیئرنس چند روز میں شروع ہوجائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی سیکریٹری تجارت قاسم نیاز اور چیئرمین ایف بی آر نے اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے قومی مفاد میں فیصلہ کیا ہے جو لائق تحسین ہے۔

مقبول خبریں