گاڑیاں ضبط کر کے قانون توڑنے والوں پر مقدمے کیے جائیں پاما

بے ایمان امپورٹرز ایک کھیپ میں ہزار پرانی گاڑیاں خلاف قانون منگواکرتمام حدود پارکرچکے،مینوفیکچررز ایسوسی ایشن


Business Reporter January 25, 2014
پالیسی میں چھوٹ سے تاجروں کوخوش کرنے کے اقدامات صنعت تباہ کردیں گے،ڈی جی۔ فوٹو: فائل

پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے مقررہ حد سے زیادہ پرانی گاڑیوں کی درآمد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے درآمدی پالیسی سے انحراف کو صارف اور معیشت دونوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق متعلقہ اداروں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ مینوفیکچرنگ اور ٹریڈنگ ایک ساتھ نہیں چل سکتے، استعمال شدہ گاڑیوں کی پالیسی میں بڑی چھوٹ کے ذریعے تاجروں کو خوش کرنے کے لیے بارہا اٹھائے گئے اقدام مقامی صنعت کو تباہ کر دیں گے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ سال کے نصف اوّل میں ان گاڑیوں کی درآمدات کی تعداد5ہزار512 تھی جبکہ نصف آخر میں یہ تعداد 11ہزار314تک پہنچ گئی جس کی بظاہر اور کوئی وجہ نہیں سوائے یہ کہ تاجر اس سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں، اگرچہ ایک ہزار سے زائد ایسی گاڑیوں کو بندرگاہ پر روک لیا گیا ہے جو قانونًا جائز حد سے زیادہ پرانی ہیں لیکن ایسی غیرقانونی گاڑیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جن کو ماضی میں بِلا کسی کارروائی کے چھوڑ دیا گیا ہو۔

 photo 3_zps75ec9c7c.jpg

ڈائریکٹر جنرل پاما کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلیے مخصوص اسکیموں کے ناجائز استعمال کے مسئلے کو مقامی صنعت منظرعام پر لاتی رہی ہے لیکن بد قسمتی سے ایسے بے ایمان درآمد کنندگان کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا جو بلا کسی روک ٹوک اپنی غیر قانونی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب وہ قانون کی صریح خلاف ورزی کرکے ایک کھیپ میں ایک ہزار پرانی گاڑیوں کی درآمد کر کے تمام حدود پار کر چکے ہیں، ایسی تمام غیر قانونی گاڑیوں کو ضبط کر کے قانون کی توہین کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات دائر کیے جانے چاہئیں۔ ڈی جی پاما نے کہاکہ قانون کی خلاف ورزی میں کی جانے والی ان درآمدات پر صنعت کو گہری تشویش لاحق ہے اور جائز حد سے زیادہ پرانی گاڑیوں کی منظوری نہ دینے کے اقدام پر صنعت ایف بی آر اور کسٹمز اتھارٹیز کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔