دہشت گردی کا خاتمہ پاکستان اور چین کا عزم

چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی طاقت کے مقابلے میں امریکا، بھارت کی پشت پناہی کررہا ہے۔


Editorial July 26, 2021
چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی طاقت کے مقابلے میں امریکا، بھارت کی پشت پناہی کررہا ہے۔ فوٹو : فائل

پاکستان اور چین نے داسو واقعہ کو دہشت گردی تسلیم کرتے ہوئے ، اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مشترکہ تحقیقات کے ذریعے اس کیس کی تہہ تک پہنچا جائے گا اور ذمے داروں کو مثالی سزا دی جائے گی۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ چین کے دوران صوبہ سیچوان کے دارالحکومت چین گڈو میں چینی ہم منصب وانگ ای سے مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ میں اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے ان پر کام جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ سی پیک سماجی واقتصادی ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے ، سی پیک منصوبوں سے لوگوں کو روزگار کے مواقعے میسر آئیں گے اور ان کا معیار زندگی بلند ہوگا۔ مذاکرات میں دوطرفہ اسٹرٹیجک تعاون، اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون کے ساتھ ساتھ کورونا وبا سے نمٹنے اور افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ چین اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں داسو واقعہ کے باوجود پاکستان اور چین کے درمیان روابط کی پختگی کا اعادہ کیا گیا ہے۔کئی حلقوں میں اس واقعہ کو پاک چین دوستی میں اختلاف اور رخنے کے طور پر پیش کیا گیا جب کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔

چندروز قبل پیش آنیوالے دہشت گردی کے اس واقعے کے بعد چینی حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان مخالف قوتوں کو جان لینا چاہیے کہ چینی اہلکاروں پر حملہ آوروں کا شمار چین کے دشمنوں میں ہوگا، اس بیان کے بعد تو چین نے پاکستان کا ایک بار پھر دوست ہونے کا حق ادا کردیا اور اب مشترکہ اعلامیہ نے یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ پاکستان اور چین دوستی ایک مستقل عمل کا نام ہے۔

ماہرین اورتجزیہ نگاروں کے مطابق یہ حملہ بلوچستان میں مقیم دہشت گرد یا تحریک طالبان پاکستان کی کارروائی ہو سکتی ہے۔ بھارت کا اس معاملے میں ملوث ہونے کا بھی امکان ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارت پاکستان کے ہر ترقیاتی منصوبے کے خلاف ہے بالخصوص سی پیک کے۔ اسی بنا پر دشمنی کی حد تک پہنچی ناگواری کا بھارت نے نہ صرف اظہار کیا بلکہ امریکا کو اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے پر اکسایا بھی۔ چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی طاقت کے مقابلے میں امریکا ، بھارت کی پشت پناہی کررہا ہے ۔اسی شہ پر بھارت جہاں پا کستانی سرحدوں پر در اندازی کررہا ہے۔

وہاں چین کو بھی چیلنج کرتا رہتا ہے ،ایک طرف پاکستان افغانستان میں قیامِ امن کے لیے کام کر رہا ہے تو دوسری طرف بھارت پاکستان کا امن تباہ کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ پاکستان نے بھارت کی طرف سے دہشت گردی کو ریاستی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے اور بھارت کی طرف سے دہشت گردوں کی مالی معاونت کا معاملہ دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔

پاکستان بھارتی سازشوں کے توڑ کے لیے کام کر رہا ہے۔ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی کوششوں میں مصروف ہے۔افغانستان میں بھارتی قونصل خانے دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

بھارت اپنے قونصل خانوں کی آڑ میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کر رہا ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' اور افغانستان کی ''این ڈی ایس'' کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے خطے کا امن خطرے میں ہے۔ دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیاں پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کے لیے سازشوں میں مصروف ہیں۔بھارت اربوں روپے پاکستان میں امن و امان کو تباہ کرنے لیے خرچ کر رہا ہے۔

بھارت کی طرف سے دہشت گردوں کی سرپرستی اور مالی معاونت کے واضح ثبوتوں کو دیکھتے ہوئے دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے بھارت کے ساتھ دہشت گردوں کے سرپرست کی حیثیت سے سخت برتاؤ کرنا نہایت ضروری ہے۔ بھارت کی ایسی کارروائیوں کو نظر انداز کرنا، دنیا کے امن کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

پاک چین مشترکہ اعلامیہ میں افغانستان کی صورتحال پر بھی تفصیلی غور کیا گیا کیونکہ افغانستان میں بدامنی اور عدم استحکام سارے خطے خاص طور پرافغانستان کے ہمسایوں کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے۔ پاکستان ان میں سرفہرست ہے کہ اس کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحد مشترک ہے۔

اس صورت حال کے تدارک کے لیے پاکستان نے پاک افغان سرحدی انتظام پر توجہ دی ہے لیکن سرحدی انتظام کے جو اقدامات کیے جا رہے ہیں افغانستان کی طرف سے ان کی مزاحمت کی جا رہی ہے۔ چین کو بھی افغانستان میں بدامنی پر تشویش ہے اور روس کو بھی کہ افغانستان سے مسلح گروہ وسط ایشیائی ریاستوں کے راستے روس میں داخل ہو سکیں گے۔

افغانستان کے ہمسایوں میں افغانستان میں عدم استحکام کی صورت حال پر تشویش لازمی امر ہے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوتے پاکستان، چین اور روس کی مشترکہ کوشش کے آغاز کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان خطے میں دہشت گردی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور اس کا اثر پاکستان پر بھی ہو رہا ہے افغانستان کے راستے بھارتی اور دیگر دہشت گرد پاکستان میں شروع سی پیک جیسے منصوبوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

افغانستان کو پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے۔ افغانستان میں دیرپا امن قائم کرنا پاکستان کی خواہش ہے۔ افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو عالمی برادری تسلیم کررہی ہے۔افغانستان میں استحکام اور انسانی حقوق کی پامالیوں سے باز آنا تمام فریقین کے لیے امن کا حتمی مقصد ہونا چاہیے۔

افغانستان کے ساتھ قریبی تعاون پر مبنی تعلقات استوار کرنا پاکستان خارجہ پالیسی کی اعلیٰ ترجیح ہے اور ہمارے ''پر امن محلے'' کے وژن کا ایک اہم جز ہے۔پاکستان نے ہمیشہ امن عمل سے وابستگی کی تصدیق کی ہے۔ یہاں خطے کا امن بگاڑنے والا بھارت ہے، جس نے اپنی خفیہ ایجنسی را کو دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے لیے سرگرم عمل کیا ہے تاکہ وہ امن عمل کو پٹری سے اتار سکے۔پاکستان عام افغانوں کی زندگیاں بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کررہا ہے تاکہ وہ اپنے معاشرے کا ایک اہم حصہ بن سکیں۔

اس تنا ظر میں پاکستان اور چین مزید قریب آ گئے ہیں،دونوں اطراف سے اس عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ نئے دور میں مشترکہ مستقبل رکھنے والی کمیونٹی کی تشکیل کے لیے سدا بہار پاک چین اسٹرٹیجک کوآپریٹو پارٹنر شپ سے مزید مضبوط کیاجائے گا۔ چین اور پاکستان کی جانب سے افغانستان میں امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کا خیرمقدم بھی اسی لازوال رشتے کا واضح ثبوت ہے۔

سی پیک استعماری قوتوں کو مسلسل کھٹک رہا ہے اور وہ اسے سبوتاژکرنے کے لیے سر گرم عمل ہیں کیونکہ دشمن جانتا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف پاکستانی عوام کے لیے ترقی و خوشحالی کے دروازے کھلیں گے بلکہ چین کی معیشت کے لیے بھی وسعت پذیری کے مزید امکانات پیدا ہوں گے۔ پاکستان کی سول اور فوجی قیادت پرامید ہیں کہ سی پیک پاک چین دوستی میں ایک سنگ میل ثابت ہو گا اور دونوں ممالک کو اس منصوبے کی تکمیل سے بے انتہا معاشی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کو ایسے دشمن ملک( بھارت) کا سامنا ہے جو تعصب ،تکبر اور رعونت کے آخری درجے پر ہے اوراس کا دفاعی بجٹ پاکستان کے کل بجٹ کے برابر ہے۔ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنانے میں چین پوری معاونت کرتا ہے۔2020 میںدونوں ممالک نے 9 روزہ مشترکہ بحری مشقیں'' آپریشن سی گارڈینز''منعقد کیں جن میں خصوصی فورسز،جنگی جہاز، فضائی ہتھیار،نیز پہلی بار لائیو فائرنگ کی مشقوں میں آبدوزوں کا استعمال بھی کیا گیا۔

پاکستان کے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل شاہین کی کامیابی سے تیاری میں بھی چینی معاونت کلیدی اہمیت کی حامل رہی۔ حالیہ چند برسوں کے دوران چین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کا رخ موڑ دیا ہے اور چین کی متعدد کمپنیاں پاکستان میں مختلف سیکٹرز میں کام کر رہی ہیں۔

بیجنگ کی ہمیشہ سے کوشش ہے کہ پاکستان کو ترقی یافتہ قوموں کی صف میں لا کھڑا کرے،اس حوالے سے معاشی، توانائی اوردفاع سمیت تمام شعبوں میں شانہ بشانہ کام کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔پا کستان سے طیارہ سازی میں تعاون سے لے کر تجارتی اور ثقافتی شعبوں میں وفود کے تبادلوں تک دونوں ممالک کے مابین قربتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

سی پیک کی حیثیت ایک گیم چینجرکی ہے،یہ صرف معاشی خوشحالی کا منصوبہ نہیں، بلکہ اس کے ذریعے پاکستان اورچین خطے میں باہمی تعلقات کا ایک نیا ویژن متعارف کرا رہے ہیں، دراصل یہ اقتصادی مفادات کے اشتراک کا منصوبہ ہے۔ اِس میں ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے بھی امکانات کی ایک پوری دنیا ہے۔ درحقیقتCPEC ایک مستحکم انفرااسٹرکچر کی تشکیل کا منصوبہ ہے جو نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مزید متوجہ کرسکے گا ،بلکہ علاقائی ترقی اور خوشحالی کا بھی ضامن ہوگا۔

پاکستان اور چین کی دوستی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ آزمائش کی ہر گھڑی پر پورا اتری ہے۔ دونوں ممالک کی بے لوث اور مخلصانہ دوستی کو ہمالیہ سے بلند،سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی قرار دیا جاتا ہے۔

پاکستان نے چین کو اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی فورمز کا رکن بننے میں مدد فراہم کرنے کے علاوہ چین کے امریکا سمیت اسلامی دنیا کے ساتھ رابطوں کے قیام اور تعلقات کے فروغ کے لیے اہم خدمات انجام دی ہیں، جسے چین کی جانب سے ہمیشہ سراہا گیا ہے۔ چین نے بھی اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز پر پاکستان کی بھرپور حمایت سے ایک سچے دوست کا عملی ثبوت دیا ہے۔

پاکستان کو ہمیشہ سے چین کی سفارت کاری میں ترجیح حاصل رہی ہے ، چین پاکستان کے بنیادی مفادات اور اہم خدشات سے متعلق امور پر پاکستان کی بھرپور حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم اصول ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ ہے اور تمام عالمی معاملات اور تنازعات پر دونوں ممالک ایک ہی رائے کا اظہار کرتے آئے ہیں۔

حرف آخر پاکستان اور چین کے تعلقات بگاڑنے کی بھارتی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو گی، کیونکہ چین ہمارا قابلِ بھروسہ دوست ملک ہے، یہ دوستی ہر دور میں اور ہر آزمائش میں مزید پختہ ہوئی ہے ۔

مقبول خبریں