ایچ ای سی اپنے ہی منصوبے سے لاعلم، انڈر گریجویٹ پالیسی میں توسیع اور ایسوسی ایٹ ڈگری کے نفاذ کی ضد

صفدر رضوی  پير 26 جولائ 2021
کالجوں میں2 سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری ہی کرائی جاسکتی ہے، ترجمان ایچ ای سی، قائم مقام چیئرمین کا رابطے سے گریز(فائل فوٹو)

کالجوں میں2 سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری ہی کرائی جاسکتی ہے، ترجمان ایچ ای سی، قائم مقام چیئرمین کا رابطے سے گریز(فائل فوٹو)

 کراچی: اعلیٰ تعلیمی کمیشن آف پاکستان کی اپنی ہی پالیسی کے مندرجات سے لاعلمی کا انکشاف ہواہے۔

ایچ ای سی نے نئی انڈرگریجویٹ پالیسی کے نفاذ میں ایک سال کی توسیع کرتے ہوئے جامعات کویہ موقع فراہم کردیاہے کہ اگرچاہیں تو وہ سال 2022کے وسط تک انڈرگریجویٹ پالیسی کا نفاذ روک سکتی ہیں تاہم اسی پالیسی کے ایک حصے 2سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری کے فوری نفاذ کے سلسلے میں الرٹ بھی جاری کردیا ہے۔

ایچ ای سی میں موجود پرانی انتظامیہ کی باقیات کے دباؤمیں آکر اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے ملک بھرکے طلبا کوروایتی بی اے،بی ایس سی اوربی کام پروگرام میں داخلوں سے بھی روک رکھا ہے اورایک الرٹ جاری کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ اگرمذکورہ پروگرام میں داخلے لیے گئے توایچ ای سی ان اسناد کی تصدیق نہیں کرے گا بلکہ طالب علم کو اس سے وابستہ اخراجات ونقصانات برداشت کرنا ہوں گے۔

مذکورہ روایتی پروگرام کوغیرمستند بھی قراردیاگیاہے اورکہاہے کہ جامعات الحاق شدہ کالجوں میں دوسالہ ایسوسی ایٹ ڈگری شروع کریں جس کے سبب ملک بھرکے لاکھوں طلبہ،کالجوں کی انتظامیہ اورانھیں الحاق دینے والی جامعات کے درمیان شدید ابہام و بے چینی پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب ایچ ای سی نے اپنے کمیشن اراکین کا ایک اجلاس بدھ 28 جولائی کو طلب کررکھا ہے۔ امکان ہے کہ اس پالیسی کے ابہام کے حوالے سے بھی اس اجلاس میں بات کی جائے گی۔

قابل ذکرامریہ ہے کہ ایچ ای سی نے جس نئی انڈرگریجویٹ پالیسی کے نفاذ میں آئندہ ایک برس تک توسیع کانوٹیفکیشن15جولائی کو جاری کیا ہے دوسالہ ایسوسی ایٹ ڈگری اسی پالیسی کاایک حصہ ہے جس سے واضح ہوتاہے کہ اگرنئی انڈرگریجویٹ پالیسی کوموخرکیاجائے یاپھراس کے نفاذ کے حوالے سے دی گئی مدت میں توسیع کی جائے تو حتمی طورپر دوسالہ ایسوسی ایٹ ڈگری کے نفاذ میں بھی توسیع ہوجائے گی۔

واضح رہے کہ ایچ ای سی کی جانب سے ایک جانب انڈرگریجویٹ پالیسی کے نفاذ میں توسیع جبکہ دوسری جانب کالجوں میں روایتی دوسالہ گریجویشن پروگرام سے روکنے کے لیے الرٹ جاری کرنے سے پیداہونے والی ابہامی صورتحال پر جب ’’ایکسپریس‘‘نے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی ترجمان عائشہ اکرام سے رابطہ کیا تو ان کاکہناتھاکہ کالجوں میں محض دوسالہ ایسوسی ایٹ ڈگری ہی کرائی جاسکتی ہے۔

تاہم جب ’’ایکسپریس‘‘نے استفسار کیاکہ ایچ ای سی کی ہدایت آنے سے قبل سندھ کے کالجوں میں توکہیں بھی چارسالہ ڈگری پروگرام شروع نہیں ہوا تھا بلکہ روایتی دوسالہ گریجوکیشن پروگرام ہی جاری تھاکالجوں میں تاحال ایسوسی ایٹ ڈگری آفرنہیں ہوئی جبکہ مذکورہ ڈگری توخود انڈرگریجویٹ پالیسی کاحصہ ہے جس پر ان کاکہناتھاکہ وہ اس حوالے سے آگاہ نہیں ہیں اگرسوال لکھ کربھیج دیاجائے تووہ متعلقہ حکام سے پوچھ کرموقف دے سکتی ہیں۔

یہی سوال جب انھیں لکھ کربھیجا گیا توعائشہ اکرام کاجواب موصول ہواکہ کالج دوسالہ ایسوسی ایٹ ڈگری ہی آفرکرسکتے ہیں ، بی اے پروگرام کوایچ ای سی تسلیم نہیں کرے گا۔ اس جواب پرجب ان سے مزیدپوچھاگیاکہ اگرکوئی یونیورسٹی ایچ ای سی کے نوٹیفکیشن کے ضمن میں انڈرگریجویٹ پالیسی کوفی الحال نہیں اپنائے تووہ کالجوں میں کیا آفرکرے جس پر ان کا پھر وہی جواب موصول ہواکہ ایسوسی ایٹ ڈگری اورکچھ بھی نہیں۔

ترجمان اعلیٰ تعلیمی کمیشن آف پاکستان کی جانب سے معاملے پر واضح جواب نہ دینے کے بعد ’’ایکسپریس‘‘ نے ایچ ای سی کے قائم مقام چیئرمین احمد فاروق بزئی سے بھی مسلسل رابطے کی کوشش کی تاہم وہ رابطے سے گریزکرتے رہے۔

بتایاجارہاہے کہ موجودہ قائم مقام چیئرمین فاروق بزئی کووزیراعظم پاکستان کی جانب سے چیئرمین ایچ ای سی کامنصب تو دیا جاچکا ہے تاہم وہ بھی سابق انتظامیہ کی باقیات کے دباؤ میں کام کررہے ہیں جس کے سبب انڈرگریجویٹ پالیسی کے نفاذ میں توسیع کے نوٹیفکیشن کے باوجود وہ کالجوں میں داخلوں کے سلسلے میں کوئی مستقل راہ حل نہیں دے پارہے۔

یادرہے کہ رواں ماہ 2جولائی کوملک بھرکے وائس چانسلراورایچ ای سی کی ایگزیکٹیوڈائریکٹرشائستہ سہیل کے مابین اس حوالے سے ایک تفصیلی اجلاس بھی منعقدہواتھا جس میں وائس چانسلرزکی اکثریت نے جامعات اور کالجوں میں انڈر گریجویٹ پالیسی کے نفاذ میں توسیع کی سفارش کی تھی اور اجلاس میں ایچ ای سی نے یہ عندیہ بھی دیاتھاکہ کمیشن سے بات کرکے جلد پروگرام میں توسیع کی جاسکتی ہے جس کے بعد 15جولائی کواس کانوٹیفکیشن توجاری ہوگیاتاہم اب ایچ ای سی اس پالیسی کے مندرجات کے حوالے سے خود ابہام اور الجھن میں نظرآتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔