پاکستان عالمی منظرنامہ امکانات و خدشات

حکومت نے 10ارب درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے جس کو دنیا سراہ رہی ہے۔


Editorial July 28, 2021
خدشات و خطرات اور اندیشہ ہائے دور دراز سے نمٹنے میں ہمارے جان نثاران وطن سرحدوں کی نگرانی پر مامور ہیں فوٹو: فائل

وزیر اعظم عمران خان نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں ووٹ کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف پر اعتماد کا اظہار کرنے پر آزاد کشمیر کے عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اپنے ٹوئٹ میں انھوں نے کہا کہ ہم احساس اور کامیاب پاکستان پروگراموں کے ذریعے لوگوں کو غربت کی دلدل سے نکالیں گے اور حکومت میں احتساب اور شفافیت قائم کریں گے۔

انھوں نے تحریک انصاف کے کامیاب ہونے والے تمام امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی فورمز پر کشمیر کے سفیر کے طور پر آواز اٹھاتے رہیں گے تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ اقوام متحدہ کے تحت استصواب رائے کے ذریعے کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دلوانے کے حوالے سے عالمی برادری اپنا وعدہ پورے کرے۔

یہ انتہائی خوش آیند امر ہے کہ آزاد کشمیر میں حکومت کی کامیابی صائب انتخابی حکمت عملی سے نتیجہ خیز ثابت ہوئی، اپوزیشن نے حکومتی فتح پر اپنا رد عمل دیا ہے، واضح رہے مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر مریم نواز شریف کہہ چکی ہیں کہ انھوں نے آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی تسلیم کریں گی۔

تاہم خطے کی حساسیت کے تناظر میں آزاد کشمیر کے انتخابی عمل کے ڈائنامک اثرات ومضمرات کا پاک بھارت تعلقات سمیت خطے اور مشرق وسطیٰ کے وسیع تر جیو پولیٹیکل سیاق وسباق میں بڑے گہرے اور دور رس اثرات و مضمرات ہونگے، اس ضمن میں مغربی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سفارت کاری اور زمینی حقائق کا جو منظر نامہ تیار کیا ہے، رفتار زمانہ اسی کے مطابق آگے بڑھی تو افغان صورتحال کا اونٹ بھی کسی کروٹ بیٹھ جائے گا۔

یہ صائب پیش رفت ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی مستقل بنیادوں پر نگرانی اور مناسب قیمتوں کو یقینی بنانے کے حوالے سے قائم سیل کو مزید فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ جائزہ اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ عوام کو اشیائے ضروریہ کی مناسب قیمت پر فراہمی اولین ترجیح ہے، تحصیل و ضلعی انتظامیہ اور مسابقتی کمیشن کے ذریعے اشیائے خورو نوش کی مناسب قیمتوں کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ غفلت کے مرتکب افسران، منافع خوروں اور مافیا کے خلاف بھرپور کارروائی کو یقینی بنائیں اور عوام کو سہولت فراہم کی جائے۔

اجلاس میں اسد عمر، خسرو بختیار، فرخ حبیب، شہباز گل نے شرکت کی جب کہ شوکت ترین، چیف سیکریٹری پنجاب اور بلوچستان ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ دریں اثنا اسلام آباد ایف نائن پارک میں موسم برسات کی شجرکاری مہم کے افتتاح پر خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ تمام پاکستانی اس مہم میں بھرپور حصہ لیں، حکومت نے 10ارب درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے جس کو دنیا سراہ رہی ہے۔ پاکستان ماحولیاتی تحفظ اور گلوبل وارمنگ کے منفی اثرات کم کرنے کے اقدامات میں دنیا کو لیڈ کر رہا ہے۔ دنیا میں درختوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان بھارت سمیت کئی ممالک سے پیچھے ہے۔

ماضی میں کسی حکومت نے اس طرف توجہ نہیں دی۔ جنگلات کا رقبہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے ضلعی انتظامیہ کے افسران کو ہدایت کی کہ گھروں، پارکس سمیت تمام خالی جگہوں پر درخت لگائیں۔ ہمارا فرض ہے کہ آنے والی نسلوں کے لیے اچھا اور بہتر ملک چھوڑ کر جائیں۔ ہمیں ورثے میں جو ملک ملا وہ ماحول کے لحاظ سے بہتر تھا۔ انگریزوں نے بھی یہاں شجر کاری کی تھی۔ سیاحت کے فروغ کے لیے اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان سیاحت کے اعتبار سے خطے میں سب سے زیادہ وسائل کا حامل ہے اور موجودہ حکومت ان وسائل سے مکمل استفادہ یقینی بنائے گی۔

وزیر اعظم نے بلوچستان میں سیاحت کے حوالے سے موجود علاقوں کی نشاندہی اور ان کی ترقی کی منصوبہ بندی جلد پیش کرنے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا کہ سرکاری ریسٹ ہاؤسز تک نہ صرف عوام کی رسائی یقینی بنائی جائے بلکہ ان کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے منصوبہ بندی پر جلد عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ تمام صوبوں میں سیاحتی مقامات کی جیو میپنگ کا کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔

وزیر اعظم کی زیر صدارت سندھ کی سیاسی صورتحال سے متعلق اجلاس ہوا جس میں آزاد کشمیر کے بعد صوبہ سندھ کو اگلا سیاسی ہدف بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سندھ سیاست کے سیاق وسباق میں اس اجلاس کی ایک اہمیت ہے۔ شہر قائد میں گزشتہ دو دنوں سے امن و امان کی صورتحال سخت تشویشناک رہی، سیاسی قائدین کو کراچی کی گھمبیر سیاسی اور معاشی صورتحال اور کورونا کی بے قابو لہر کے خطرات کے پیش نظر سوچنا چاہیے کہ شہر قائد بارود کے ڈھیر پر ہے، بے انتہا بصیرت، فہم وفراست کی ضرورت ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ ا سٹریٹجی کمیٹی کا چوتھا اجلاس اگلے ہفتے اسلام آباد میں ہوگا جب کہ عمران خان اگست سے سندھ کے دورے کریںگے۔ سندھ میں وفاقی حکومت کے سیاسی و انتظامی اثرات قائم کیے جائیں گے جب کہ سندھ میں اہم شخصیات کو پی ٹی آئی میں شرکت کی دعوت دی جائے گی، وزیر اعظم عمران خان سندھ کے دانشوروں، وکلا تنظیموں اور سول سوسائٹی سے بھی رابطے کرینگے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے عراق میں جنگی آپریشن ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ جوبائیڈن سے عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی، اس موقعے پر امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ عراق کے ساتھ تعلقات نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور عراق کے درمیان سیکیورٹی تعاون جاری رہے گا۔

داعش سے نمٹنے کے لیے عراقی فوج کی تربیت اور مدد جاری رکھیں گے۔ بائیڈن کا یہ بھی کہنا تھا کہ عراق میں اس سال کے آخر تک کوئی جنگی آپریشن نہیں کریں گے۔ امریکی انخلا کے بعد یہ صدر جوبائیڈن کا دوسرا اہم عالمی اقدام ہے جو جنگ عراق اور افغانستان کے حوالے سے امریکی خارجہ و عسکری پالیسی میں ایک پیراڈائم شفٹ کی عکاسی کرتا ہے، ابھی ان جنگوں کے وائنڈ اپ مضمرات کو دنیا مضطرب نگاہوں سے دیکھ رہی ہے، کیونکہ افغانستان کی صورت حال ابھی مائع جاتی کیفیت سے گزر رہی ہے۔

خدشات و خطرات اور اندیشہ ہائے دور دراز سے نمٹنے میں ہمارے جان نثاران وطن سرحدوں کی نگرانی پر مامور ہیں، پاکستان نے افغان نیشنل آرمی اور بارڈر پولیس کے 46 اہلکاروں کو رات 12.35 بجے افغان حکومت کے حوالے کر دیا، اس سے قبل پانچ افسروں سمیت ان 46 فوجیوں کو طالبان کی طرف سے گھیراؤ کے بعد کنڑ، چترال سرحد پر تعینات افغان کمانڈر کی مدد کے لیے درخواست کے بعد پاکستان نے پناہ دی تھی، تاہم ان فوجیوں ہی کی درخواست پر انھیں ان کے اسلحے اور ہتھیاروں کے ہمراہ افغان حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آیندہ بھی بوقت ضرورت اپنے افغان بھائیوں کی مدد جاری رکھی جائے گی، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ یہ افغان فوجی اتوار کی رات چترال میں واقع ارندو سیکٹر پہنچے ہیں۔ پاک فوج نے افغان حکام سے رابطے اور ضروری کارروائی کے بعد ان سپاہیوں اور افسروں کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دی اور انھیں فوجی روایات کے مطابق کھانا، رہائش اور ضروری طبی سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل یکم جولائی کو بھی 35 افغان سپاہیوں نے پاک فوج سے پناہ اور محفوظ راستے کی درخواست کی تھی اور انھیں پاکستان نے محفوظ راستہ دینے کے بعد افغان حکام کے حوالے کر دیا تھا۔ بی بی سی کے مطابق پاکستان میں پناہ لینے والے افغان فوجی افغانستان کے صوبہ کنڑ اور پاکستان کے ضلع چترال کے بارڈر پر تعینات تھے۔

چترال میں موجود سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ کنٹر میں طالبان نے اپنا دباؤ بڑھایا ہے اور گزشتہ کئی دونوں سے سرحد پر واقع بریکوٹ اور کالام کی افغان چوکیوں کی سپلائی لائن کو کاٹا ہوا ہے، ان چوکیوں پر موجود افغان اہلکاروں کو کئی روز سے راشن سمیت مختلف اشیا کی فراہمی رکی ہوئی تھی اور فوجیوں کو مشکلات کا سامنا تھا، افغان اہلکار عملاً گھیرے میں تھے۔

ان کو کوئی مدد نہیں مل رہی تھی جس کے بعد انھوں نے پاکستان سے مدد طلب کی۔ افغانستان اور بالخصوص افغان فوج میں پاکستان کے خلاف جتنی حساسیت ہے اس سے سب آگاہ ہیں۔ پاک فوج نے بلاشبہ اعلیٰ اخلاقی و عسکری پیشہ ورانہ ذہانت کا احسن مظاہرہ کیا۔

خطہ امکانات اور تہلکہ خیز خدشات سے لبریز ہے، ضرورت بے پناہ دور اندیشی، سیاسی بصیرت، قومی یک جہتی اور وطن کی داخلی و خارجی سلامتی کے تحفظ کی ہے، مایوس دشمن کسی بھی وقت عیاری، سازش اور گمراہ کن پروپیگنڈے سے ملکی سالمیت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، ہمیں ہمہ وقت مستعد و چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں