مانیٹری پالیسی اور شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ

مالیاتی پالیسی ضرورت کے تحت بنائی اور لاگو کی جاتی ہے۔


Editorial July 29, 2021
حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو مالیاتی پالیسی کوئی مستقل پالیسی نہیں ہوتی۔ فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آیندہ 2 ماہ کے لیے شرح سود 7 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران ،گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 10 سال میں کم ترین سطح پرہے،کوویڈ کے دوران کیے گئے اقدامات کے باعث معاشی اعداد بہتر ہوئے ہیں۔ جون میں مہنگائی کی شرح 8.9 فیصد رہی، برآمدات رواں سال بہتر ہوئیں، ترسیلات زر میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

آسان الفاظ میں سمجھنا ہوتو لب لباب کچھ یوں ہے کہ مالیاتی(مانیٹری) پالیسی کے ذریعے مرکزی بینک ملک میں شرح سود پر اثر انداز ہونے اور معیشت میں پیسے کے ارتکاز کو یقینی بنانے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتا ہے، جن کا مقصد قیمتوں اور مالیاتی منڈیوں میں استحکام برقرار رکھنا ہوتا ہے۔

جب کہ حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو مالیاتی پالیسی کوئی مستقل پالیسی نہیں ہوتی، نہ ہی اس سے کسی ملک کی معیشت پر کوئی دور رس اثرات پڑتے ہیں بلکہ یہ ایک عارضی قدم ہوتا ہے، مالیاتی پالیسی ضرورت کے تحت بنائی اور لاگو کی جاتی ہے۔مالیاتی پالیسیاں میں شرح سود کم رکھنے کے فوائد کافی زیادہ ہیں لیکن دوسری جانب ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی جو تقریبا نو فی صد ظاہر کی جارہی ہے ، جب کہ آزادانہ ذرائع کے مطابق یہ شرح کہیں زیادہ ہے۔

مہنگائی کی شرح میں بہت تیزی سے اضافے سے براہ راست عام آدمی متاثر ہورہا ہے، جس کی وجہ سے غریب عوام دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔ ایک جانب کورونا وائرس نے ملک کی معیشت کا بیڑا غرق کردیا ہے تو دوسری طرف مختلف مافیاؤں نے اشیائے خورونوش اور روز مرہ استعمال کی اشیا کو نا جائز طور پر ذخیرہ کر کے مصنوعی بحران پیدا کر د یا ہے۔ اس صورتحال میں عوام کی قوت خریدبھی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور ملک میں آٹے،چینی،گھی،تیل،سبزیوں،گوشت اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتو ں میں بھی حد سے زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔

ہمارے ملک میں زیادہ تر لوگ پہلے ہی محدود آمدنی میں گزارا کررہے تھے ان میں سے بھی بہت سے کورونا کی وجہ سے بے روزگار ہوگئے ہیں اور اب انھیں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کبھی چینی اورکبھی آٹے کا بحران پیدا کرکے ان اشیا کی قیمتوں کوبڑھادیا جاتا ہے تو کبھی بجلی،گیس اور پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر نے لگ جاتی ہیں جس سے غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور مہنگائی سے بے حال لوگوں کی خودکشیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ چاہے کوئی بھی اشیائے ضروریہ کی اسمگلنگ یا ناجائز ذخیرہ اندوزی وغیرہ میں ملوث ہو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ جب تک قانون کی مکمل عملداری نہیں ہوگی اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جائیں گے تب تک معاشرے سے مہنگائی،غربت،بے روزگاری، لاقانونیت اور جرائم کا خاتمہ نہیں کیا جاسکے گا، مانیٹری پالیسی کے مندرجات عام آدمی کو مطمئن کرنے سے قاصر ہیں، اس بارے میں حکومت کو مثبت اورمربوط لائحہ عمل تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں