معیشت سنبھالنے کے لیے صائب تدبیر کیجیے

ماہرین کے مطابق درآمدات کی مد میں ادائیگیوں کا دباؤ بڑھنے سے ڈالر کی طلب بڑھی ہے۔


Editorial August 04, 2021
ماہرین کے مطابق درآمدات کی مد میں ادائیگیوں کا دباؤ بڑھنے سے ڈالر کی طلب بڑھی ہے۔ فوٹو: فائل

ایک بار ڈالر مزید مہنگا ہوگیا، اگلے روز انٹربینک مارکیٹ میں اس کی قدر دس ماہ کی بلند سطح 163.67جب کہ اوپن مارکیٹ 164.20روپے ہوگئی ہے۔ماہرین کے مطابق درآمدات کی مد میں ادائیگیوں کا دباؤ بڑھنے سے ڈالر کی طلب بڑھی ہے۔ ڈالر کی قدر بڑھنے سے قرضوں کا حجم بڑھ گیا ہے ۔

پیٹرول مزید ایک روپے 71 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 119 روپے 80 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پی ٹی آئی حکومت کے تیسرے وفاقی بجٹ کے بعد مسلسل چوتھی بار اضافہ کیا گیا ہے ۔بجٹ کے آفٹرشاکس جاری ہیں،جب کہ حکومتی ترجمانوں کا کہنا تھا کہ عوام دوست بجٹ پیش کیا گیا ہے ۔

سچ تو یہ ہے کہ جب بھی ڈالر کی قیمت بڑھتی ہے ، توملک میں فوری مہنگائی کا طوفان آجاتا ہے، ملکی معیشت کو درپیش مشکلات میں کورونا وباء کی چوتھی لہر کے باعث مزید اضافہ ہورہا ہے، پاکستان کے معاشی انجن میں آٹھ اگست تک لاک ڈاؤن کی پابندیاں جاری ہیں ،جب کہ وفاقی حکومت نے بڑے شہروں میں نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے مارکیٹس کے اوقات رات دس سے کم کرکے آٹھ بجے تک کرنے اور کاروبار ہفتے میں دو روز بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،بلاشبہ نئی پابندیوں کے منفی اثرات ملکی معیشت پر براہ راست اثرانداز ہوں گے ۔

کورونا وائرس کی وباء کے باعث سرمایہ کاروں میں گھبراہٹ پائی جاتی ہے اور افواہوں نے جنم لیا ہے،جس کا بروقت رد بھی نہیں کیا جاسکا ہے۔

چند روز قبل وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ جولائی میں ملکی برآمدات سب سے زیادہ 2.3 ارب ڈالر رہیں جب کہ رواں سال برآمدات کا ہدف پورا کرلیں گے۔برآمدات میں 47 فیصد اضافہ ہوا اور پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر2 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔ جولائی میں کبھی اتنی زیادہ برآمدات نہیں ہوئیں، ہماری پالیسی صرف برآمدات ہیں۔

پاکستان میں موبائل فون کی تیاری شروع ہوگئی ہے جب کہ آیندہ پانچ سال میں ٹیکسٹائل صنعت پر انحصار کم ہوجائے گا۔حکومتی مشیر کے خوش کن دعوے اپنی جگہ درست بھی مان لیے جائیں لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ جب تک معیشت کی بنیادیں مضبوط نہیں ہوں گی، تو ڈالر کی طلب اور رسد میں فرق پڑتا رہے گا اور اس کی قیمت ہم ایک یا دوسری شکل میں ادا کرتے رہیں گے ۔

پاکستان میں مہنگائی کے ساتھ ڈالر کا بڑا تعلق تیل کی امپورٹ سے متعلق ہے، جب تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل سے اوپر تھیں تو کرنسی کی ویلیو میں ذرا سی کمی پاکستان میں پیداواری لاگت بڑھا دیتی تھی، اس وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے جس سے عوام کی زندگی متاثر ہو رہی ہے، ٹرانسپورٹرز نے کرائے بڑھا دیے ہیں، امپورٹ ہونے والی اشیاء تو اپنی جگہ عام استعمال کی چیزیں بھی مہنگی ہوگئی ہیں اور شنید یہ ہے کہ اس سال مہنگائی میں اضافے کی شرح دس فیصد سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

روپے کی قدر میں گراوٹ کا امپورٹر کو نقصان ہے، یوں امپورٹ کی ترغیب کم ہو گی اور گاہک مقامی اشیاء خریدنے پر مجبور ہو گا، مگر امپورٹ کو کم کرنے کی اس پالیسی کے تین بڑے نقصان یہ ہیں۔ایک یہ کہ مشینری کی امپورٹ بھی رک جاتی ہے کیونکہ وہ مہنگی پڑ رہی ہو گی۔ مشینری کی امپورٹ میں کمی کا مطلب طریقہ پیداوار روایتی اور کم جدت پسند ہو گا جس کا ملک کی ایکسپورٹ اور مسابقتی برتری کو نقصان ہے۔دوسرا یہ کہ باہر سے سرمایہ کار پاکستان نہیں آئیں گے کیونکہ وہ اپنے نفع کو جب اپنی کرنسی میں تبدیل کروائیں گے تو ان کے نفع کی شرح کم ہو جائے گی۔

تیسرا یہ کہ امپورٹ میں کمی کا لوگوں کے معیار زندگی پر بھی برا اثر پڑتا ہے کیونکہ انھیں چیزیں مہنگی اور ناقص کوالٹی کی ملتی ہیں۔ اس کا بزنس کمیونٹی کو بھی نقصان ہے کیونکہ انٹرنیشنل مارکیٹ سے مقابلہ نہ ہونے کے سبب وہ اپنی مسابقتی صلاحیتوں کو ترقی دینے کے بجائے روایت پسندی اور جمود کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ روپے کی قدر میں استحکام لانے کے لیے حکومت نے سمندر پار پاکستانیوں سے پیسہ لانے کے لیے مزید آسانیاں پیدا کرنی ہیں اور اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے کیونکہ پچھلے 5 سال میں ہماری برآمدات کی کمپنیاں بند ہوئی ہیں۔

حکومت کو روپے کی قدر مستحکم کرنے کے لیے اقدام اُٹھانا ہوں گے۔ یہی کام کرنے کے لیے آئی ایم ایف دباؤ ڈالتی رہی، اور عوام سے یہی کہا جاتا رہا کہ ہم روپے کی قدر کو نہیں گھٹا رہے، لیکن فوراََ ایسی کونسی چیزیں ہیں جو حکومت کے اختیار سے باہر نکل جاتی ہیں کہ ڈالر کی قدر بڑھ جاتی ہے اور ملک میں فوری مہنگائی کا طوفان آجاتا ہے۔

کیوں کر بیٹھے بٹھائے اربوں روپے کا قرضہ بڑھ گیا ہے۔ جب فیصلہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کا وقت آتا ہے، اُس وقت ساری کاروباری سرگرمیاں پستی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ 8اکتوبر دو ہزار اٹھارہ کو کچھ ایسا ہی دیکھنے میں آیاتھا، ایک فیصلہ کرنے کی دیر تھی۔ لمحوں میں روپیہ زمین بوس ہوا اور ڈالر فلک بوس۔ روپے کی قدر کم ہونے سے بیرونی قرضوں میں اضافہ ہوگیا۔ ڈالر کی وجہ سے ہی سونے کی قیمت بڑھی ہے ۔

حکومت کے لیے، معاشی بہتری کے لیے تمام سرکاری اداروں میں بیوروکریسی کی غیر ضروری مراعات ختم کرنا بھی ضروری ہے۔ ریاستی اداروں میں نوکری کرنے والے عوام کے ٹیکسوں پر عیاشی کیسے کر سکتے ہیں؟بیوروکریسی کے غیر ضروری اخراجات فوری کم کیے جائیں۔ افسران کو چھوٹی گاڑیاں دی جائیں، چاہے چیف سیکریٹری ہی کیوں نہ ہو۔ وزیراعظم، صدر، گورنرز،وزرائے اعلیٰ، اسپیکرز ، چیئرمین سینیٹ اور وفاقی و صوبائی وزراء اپنی محلات نما رہائش گاہیں خالی کرکے چھوٹی رہائش گاہوں میں قیام کریں، غیر ضروری پروٹوکول اسٹاف کو دیگر محکموں میں منتقل کردیا جائے۔

غریب ملک کے حکمرانوں کو قومی خزانے سے بھاری اخراجات نہیں کرنے چاہیں۔ بہرحال اب سب سے ضروری یہی نظر آتا ہے کہ ملکی کرنسی کو مستحکم کیا جائے ، ملک کے پالیسی ساز سنجیدگی سے مسائل کا حل تلاش کریں ۔ جہاں تک آئی ایم ایف کا تعلق تو وہ کہتا رہا کہ معیشت مستحکم ہو گئی ہے، حالانکہ ایسا کچھ نہیں تھا۔ 15مارچ کو آئی ایم ایف کی جو رپورٹ آئی ہے، اس میں مستقبل کی انتہائی بھیانک تصویر کھینچ دی گئی، بہرحال یہ کام تو حکومت کے اکنامک منیجرز کا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیسے ہنڈلنگ کرتے ہیں۔

زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ ملک میں اشیائے خورونوش اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سیمنٹ ، سریا کی قیمت میں بے جا حد تک اضافہ کردیا گیاہے۔ تمام اقسام کے سیمنٹ کی فی تھیلہ قیمت میں پندرہ سے بیس روپے تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ سریے کی قیمت تو گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ میں تیس سے چالیس روپے تک اضافہ ہو گیا ہے ۔ اس وقت تعمیراتی شعبے میں اینٹیں، سریا، بجری، سینیٹری فیٹنگز، ماربل اور سرامکس ٹائلز وغیرہ بہت مہنگے ہوئے ہیں، یوں تعمیراتی صنعت میں سست روی آسکتی ہے۔

دوسری جانب ادارہ شماریات نے ماہانہ مہنگائی کے اعدادوشمار جاری کر دیے، جولائی میں مہنگائی کی شرح 8.40 فیصد رہی۔حکومتی دعوؤں کے باجود مہنگائی برقرار، جولائی میں مہنگائی کی شرح میں 1.34 فیصد اضافہ ہوا، مجموعی شرح 8.40 تک پہنچ گئی۔ شہری علاقوں میں ٹماٹر 42.40 فیصد، پیاز 34.53 فیصد،خوردنی گھی 6.70 فیصد، خوردنی تیل 6.56 فیصد اور چینی 5.08 فیصد مہنگی ہوئی۔

ہمیں ہر قدم سوچ سمجھ کر اُٹھانا ہوگا اور یہ خیال رکھنا ہوگا کہ عوام کی ماند پڑتی خوشیاں مزید کم نہ ہو جائیں، ہمیں اس وقت عوام کو ریلیف دینے کی ضرورت ہے لیکن اس کے برعکس ہم صبح سے شام تک سیاسی ایشوز میں لگے ہوئے ہیں کہ سوالات کے جوابات دیے جائیں اور یہ ہمیشہ مس مینجمنٹ کی وجہ سے ہوتا ہے، ایسا ہرگزنہیں ہونا چاہیے۔

یہ کام کرنے اور کچھ کرگزرنے کا وقت ہے، اگر حکومت نے سارا دن ان سوالوں کے جوابات ہی دینے ہیں تو سوال یہ ہے کہ کام کس نے کرنا ہے؟جواب یہ ہے کہ حکومت کے پاس معاشی ماہرین کی ایک بہترین ٹیم موجود ہے ، معاشی اور اقتصادی ماہرین کو معیشت کی بحالی اور عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا ، اور ایسی پالیسیاں مرتب کرنا ہوں گی جس سے ملکی معیشت سنبھل جائے اور ملک کو درپیش مشکلات میں کمی ہوجائے ،یعنی معیشت کے لیے صائب تدابیر اور فہم وفراست کی ضرورت ہے ۔

مقبول خبریں