جی ایس پی پلس سے فائدے کے لئے 5 ارب کی ٹی یو ایف اسکیم پر زور

کالے قوانین ختم اورون ونڈوآپریشن سے ٹیکسٹائل برآمدات25 ارب ڈالر تک پہنچائی جا سکتی ہیں،ذرائع ٹیکسٹائل سیکٹر


Ehtisham Mufti January 26, 2014
ھارت نے ٹی یو ایف اسکیم کے تحت اپنی ٹیکسٹائل ویونگ اور پروسیسنگ انڈسٹری کی ترقی کے لیے 1 کھرب بھارتی روپے سے زائد مالیت کا فنڈ مختص کیا فوٹو: فائل

شعبہ ٹیکسٹائل نے جی ایس پی پلس کے درجے سے بھرپوراستفادے کے لیے بھارت کی طرز پرٹی یو ایف اسکیم متحرک کرکے ابتدائی طور پر5 ارب روپے کی رقم مختص کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

انڈسٹری کے باخبرذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ پاکستان میں بھی بھارت کی طرز پر ٹی یو ایف اسکیم کو متحرک، رائج لیبرقوانین میں چندکالے قوانین ختم اور وفاقی وصوبائی لیبرڈپارٹمنٹس کے نظام کو شفاف بناکرون ونڈو آپریشن شروع کیا جائے تو پاکستان سے صرف ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات 25 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ بھارت نے ٹی یو ایف اسکیم کے تحت اپنی ٹیکسٹائل ویونگ اور پروسیسنگ انڈسٹری کی ترقی کے لیے 1 کھرب بھارتی روپے سے زائد مالیت کا فنڈ مختص کیا جبکہ استعمال شدہ شٹل لیس لومزکی درآمد پرقرضوں کی شرح سود میں2 فیصد اور نئی شٹل لیس لومز کی درآمد پر سود میں6 فیصدکی رعایت دی، بھارت میںٹی یو ایف اسکیم کے تحت ٹیکسٹائل صنعتوں میں مجموعی سرمایہ کاری کا 15 فیصد انکے اخراجات میں معاونت اور30 فیصد فنڈنگ مارجن منی کی مد میںفراہم کی جارہی ہے۔

 photo 5_zps3f36a278.jpg

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان میں بھی سال2009 میں ٹی یو ایف اسکیم متعارف کی گئی تھی لیکن اس اسکیم کے لیے انتہائی محدود فنڈ مختص کیا گیا تھا جو صرف ٹیکسٹائل اسپننگ سیکٹر کی ترقی پر استعمال کیے گئے اور فی الوقت ٹی یو ایف اسکیم نہ صرف غیرمتحرک ہے بلکہ اس میں فنڈ بھی صفر ہے۔ اس ضمن نے ٹاول مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین افتخار ملک نے بتایا کہ پاکستان میں فی الوقت 162 لیبر قوانین رائج ہیں جبکہ یورپین یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد پاکستانی برآمدکنندہ انڈسٹری پر27 کنونشنز پر عمل درآمد لازم قراردیا گیا ہے لیکن ان کنونشنز پر عمل درآمد اس وقت تک ممکن نہیں کہ جب تک لیبرقوانین کو آسان بناکرتمام لیبر ڈپارٹمنٹس میں تعیناتی اور آپریشنل سسٹم کوشفاف نہ بنایا جائے اور مشترکہ طور پرون ونڈوآپریشن شروع نہ کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں رائج لیبرقوانین صرف اور صرف صنعتی شعبے میں خوف وہراس کا باعث ہیں، اگر کالے قوانین کو ختم کرکے شفاف اور قابل قبول نظام متعارف کرایا جائے تو پاکستان کے شعبہ ٹیکسٹائل میں نہ صرف سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ نئی صنعتوں کا قیام اور برآمدات میں تیز رفتاری کے ساتھ اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فی الوقت مقامی ٹیکسٹائل انڈسٹری جی ایس پی پلس سے بھرپور استفادے کیلیے اپنی پیداواری استعداد بڑھانے کی حکمت عملی وضع کررہی ہے لیکن ملک میں جاری توانائی بحران بالخصوص گیس کی لوڈشیڈنگ جیسے عوامل پیداواری استعداد بڑھانے کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔

مقبول خبریں