آئی ایم ایف کے خصوصی فنڈ کا اجراء

پاکستان کو آئی ایم ایف کے اس فیصلے سے 2 ارب 80کروڑ ڈالر ملنے کے امکان ہے۔


Editorial August 05, 2021
پاکستان کو آئی ایم ایف کے اس فیصلے سے 2 ارب 80کروڑ ڈالر ملنے کے امکان ہے۔ (فوٹو، فائل)

آئی ایم ایف نے کورونا وائرس کے تناظر میں عالمی معاشی سرگرمیوں میں معاونت کرنے کے لیے 650 ارب ڈالر کے خصوصی فنڈ کے اجرا (ایس ڈی آرز)کی منظوری دے دی ہے۔

وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے اس فیصلے سے 2 ارب 80کروڑ ڈالر ملنے کے امکان ہے،تاہم اس حوالے سے آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیہ میں بتایا گیا ہے لپ اسپیشل ڈارائنگ رائٹس کی منظوری ادارے کے بورڈ آف گورنرز نے دی، اس کا مقصد کورونا وائرس سے متاثرہ عالمی معیشتوں کو اقتصادی و معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے سرمایہ فراہم کرنا ہے۔

اعلامیہ کے مطابق اس موقع پر آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ ادارے کی جانب سے اپنی تاریخ میں اسپیشل ڈرائنگ رائٹس کی سب سے بڑی تخصیص ہے جو بے مثال بحران کی شکار عالمی معیشت کے لیے سود مند ثابت ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ان فنڈز کی تقسیم تمام ارکان کو فائدہ پہنچائے گی ، ذخائر کی طویل مدتی عالمی ضرورت کو حل کرے گی، اعتماد پیدا کرے گی اور عالمی معیشت کے لچک اور استحکام کو فروغ دے گی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ 23 اگست کو موثر ہو جائے گا، نئے ایس ڈی آرزآئی ایم ایف کے رکن ممالک کو فنڈ میں ان کے موجودہ کوٹے کے تناسب سے فراہم کیے جائیں گے، ایک ہی وقت میں تقریباً 275 ارب ڈالر کم آمدنی والے ملکوں سمیت ابھرتی ہوئی مارکیٹوں اور ترقی پذیر ممالک کو دستیاب ہوں گے۔

آئی ایم ایف عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا نگہبان ہے' کورونا کی عالمی وباء نے سرمایہ داری اور منڈی کی معیشت سے جڑے ملکوں کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مغربی یورپ' جاپان اور جنوبی کوریا جیسی ترقی یافتہ ملک کی معیشت بھی ڈانوا ڈول ہوئی ہے' دنیا کے ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک تو معیشت کا پہیہ جام ہو گیا ہے۔ بے روز گار انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ پاکستان میں دنیا کے غریب ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے' یہاں بھی بے روز گاری کی شرح بہت زیادہ بڑھ چکی ہے' مہنگائی بے قابو ہو کر روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہے۔

میڈیا میں آنے والی ایک خبر کے مطابق نئے مالی سال کے پہلے ماہ تجارتی خسارہ 3 ارب 5 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ ایک نجی ادارے کی ریسرچ رپورٹ کے مطابق جولائی میں برآمدات کے مقابلے میں زیادہ درآمدات کی وجہ سے تجارتی خسارے میں 81فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ جولائی میں درآمدات کی مالیت 5 ارب 41 کروڑ ڈالر رہیں جب کہ گزشتہ سال جولائی میں درمدات 3 ارب 69 کروڑ ڈالر تھیں اسطرح گزشتہ سال جولائی کے مقابلے میں رواں مالی سال جولائی کے مقابلے میں درآمدات میں 47 فیصد کا اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق جولائی میں برآمدات کی مالیت 2 ارب 35 کروڑ ڈالر رہی، اس طرح تجارتی خسارہ 3 ارب 5 کروڑ ڈالر رہا جب کہ گزشتہ مالی سال جولائی میں تجارتی خسارہ 1 ارب 69 کروڑ ڈالر تھا اس طرح سے رواں سال جولائی میں ملکی تجارتی خسارے میں 1 ارب 37 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ معیشت پر اندرونی اور بیرونی قرضوں کا بوجھ بھی غیرمعمولی طور پر بڑھ گیا ہے اور یہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

ایسے حالات میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے اپنے رکن ممالک کی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے خصوصی فنڈ کا اجرا کر کے دراصل کیپل ازم اور اس نظام سے جڑے ممالک کی معیشت کو بچانے کے لیے ایسا کیا ہے۔ اس خصوصی فنڈز سے پاکستان کو بھی حصہ بقدر جثہ مل جائے گا۔ پاکستان کی حکمران اشرافیہ اس فنڈ سے کیا سلوک کرتی ہے۔ روایت کے مطابق تو رولنگ کلاس نے عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کو اللوں تللوں میں ہی اڑایا ہے تاہم اب چونکہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم اقتدار میں ہے' اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس رقم کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔

پاکستان کی صورت حال کچھ یوں ہے کہ ملک میں کورونا وباء کی چوتھی لہر مسلسل اونچی ہو رہی ہے۔ میڈیا نے منگل کے روز کی جو صورتحال بیان کی ہے' اس میں این سی او سی کے اعدادوشمار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ملک میں مجموعی کورونا مریضوں 10لاکھ 43 ہزار 277 جن سے نو لاکھ44 ہزار375 شفایاب ہو چکے ہیں۔

اب تک 23 ہزار 529 اموات ہو چکی ہیں۔ اگلے روز سندھ میں36، پنجاب 16، خیبر پختونخوا9، اسلام آباد ایک، آزاد کشمیر میں5 اموات ہوئیں۔ وفاقی وزیر اور این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے ٹوئٹر پیغام میں بتایا ہے کہ ملک میں ایک روزمیں 10 لاکھ افراد کی ویکسی نیشن کا ہدف حاصل کرلیا ہے۔ انھوں نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ گزشتہ روز 10 لاکھ 72 ہزار172 افراد کی ویکسی نیشن کی گئی۔

پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، اسلام آباد میں ریکارڈ ویکسینیشن ہوئی۔ پشاور اور راولپنڈی 35، فیصل آباد میں 28 فیصد آبادی کو ویکسین لگ چکی۔ لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا میں27 فیصد آبادی کی ویکسی نیشن ہو چکی۔ کراچی26، حیدرآباد کی 25 فیصدآبادی کی ویکسینیشن ہوچکی۔

اسلام آباد کی 50 فیصد آبادی کو ویکسین کی ایک خوراک لگائی جا چکی۔ اب تک ملک میں تین کروڑ 19 لاکھ29 ہزار581 افراد کی ویکسی نیشن ہوچکی ہے۔ این سی اوسی نے موڈرنا ویکسین کے حوالے سے نئی گائیڈ لائنز جاری کردی ہیں جن کے مطابق موڈرنا ویکسین عام شہریوںکو لگائی جا سکتی ہے۔

موڈرنا 16 سال سے زائد عمر طالب علموں کو لگائی جا سکتی ہے جب کہ حاملہ خواتین بھی لگواسکتی ہیں۔ اے پی پی کے مطابق سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کورونا کا شکار ہوگئے ہیں۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ مثبت آنے پر انھیں قرنطینہ کیا گیا ہے۔اداکارہ اْشنا شاہ بھی ویکسین لگوانے کے باوجود متاثر ہو گئیں۔

انسٹا گرام پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ دونوں ڈوزز لگواچکی ہوں۔ ویکسین نہ لگی ہوتی تو کیا حالت ہوتی۔ ادھر چین سے20لاکھ ویکسین کا تحفہ پاکستان پہنچ گیاہے۔این سی او سی کے فیصلے کے پیش نظر پنجاب کے چار اضلاع لاہور ،راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان اور آزادکشمیر کے اضلاع میرپور اور مظفر آبادمیں 3 سے31اگست تک نئی پابندیوں کا نفاذ ہو گیا ہے۔پنجاب اور آزادکشمیرحکومتوں کے نوٹیفکیشنز کے مطابق تمام کاروباری مراکز رات8 بجے تک کھلیں گے۔

ہفتہ اور اتوار چھٹی میں تمام کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں گی۔ ان ڈور ڈائننگ پر پابندی اور آٹ ڈورڈائننگ ایس اوپیزکے ساتھ 10بجے تک ہوگی۔ان ڈور شادی کی تقریبات پر پابندی ہوگی ۔ آؤٹ ڈورتقریبات کی400افرادکی گنجائش کے ساتھ 10بجے تک اجازت ہوگی۔ تمام انٹرٹینمنٹ مراکزمکمل بندرہیں گے۔

اجتماعات پرمکمل پابندی عائدہوگی۔ دفاتر میں 50فیصد حاضری، پبلک ٹرانسپورٹ کو50فیصدگنجائش کے ساتھ چلنے کی اجازت ہوگی۔ مسافر ٹرین سروس کل گنجائش کے70فیصدمسافروں کے ساتھ جاری رہے گی ۔اسلام آباد سے خبر نگار خصوصی کے مطابق سندھ کے طلباء کے لیے8اگست کو ہونے والا لاء ایڈمیشن ٹیسٹ موخر کر دیا گیا ہے۔

کورونا پھیلاؤ کے پیش نظر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم اجلاس آج طلب کر لیا گیا ہے۔ سندھ میں بغیر شناختی کارڈ والے بالغ افراد کی ویکسینیشن بھی شروع کر دی گئی ہے۔ کراچی میں ایکسپو سینٹر سمیت مزید 11 ویکسی نیشن سینٹرز 24 گھنٹے فعال ہونے کے بعد مراکز پر عوام کا رش ٹوٹ گیا۔ تاہم شہر کے متعدد سینٹرز میں سائنو ویک ویکسین ختم ہوگئی ہے جس کے باعث دوسری ڈوز لگوانے کے لیے آنے والے شہری بغیر ویکسی نیشن گھر واپس لوٹنے پر مجبور ہو گئے۔

سندھ حکومت کے ترجمان بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ کراچی میں لاک ڈاؤن گیم چینجر ثابت ہوا ہے۔ ایک روز میں تقریبا سوا دو لاکھ شہریوں نے ویکسین لگوائی ہے۔ محکمہ داخلہ سندھ نے عاشورہ محرم،ایام عزا اور مجالس کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کردیا ہے۔

مجالس میں شرکت کے لیے کوروناویکسی نیشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ مجالس،جلوسوں کے مقامات پر خصوصی ویکسی نیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے ۔ بغیر ماسک شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔ مجالس کے لیے آن لائن سیشن کو ترجیح دی جائے۔ کمشنرزاور ڈپٹی کمشنرز کو مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے۔

یہ تو تھی کورونا وباء کی صورت حال اور اس سے نمٹنے کے لیے سرکار کے اقدامات کی کہانی۔ معیشت کو زمین پر آ کر دیکھا جائے تو ملک میں اس وقت سوائے پراپرٹی بزنس کے کوئی اور کاروبار ترقی کرتا نظر نہیں آ رہا۔ مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں رونقیں ماند پڑ چکی ہیں۔

دوسری طرف ریاستی ملازمین جو اسطلاحاً خود کو پبلک سرونٹ کہلاتے ہیں ' ان کی تنخواہیں اور مراعات ترقی کے سفر پر رواں دواں ہیں جب کہ اپنے تئیں عوام کے منتخب نمائندے بھی کسی سے کم نہیں۔ وہ بھی اپنی تنخواہیں اورمراعات کو ترقی دینے میں مصروف ہیں۔

مقبول خبریں