یوم استحصال

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے 2 برس، ملک بھر میں یومِ استحصال منایا جارہا ہے۔


Editorial August 06, 2021
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے 2 برس، ملک بھر میں یومِ استحصال منایا جارہا ہے۔ فوٹو: فائل

آزاد کشمیر' پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے جمعرات کے روز یوم سیاہ منایا جس کا مقصد 2019ء میں اس دن بھارتی حکومت کی طرف سے کیے گئے غیر قانونی اقدامات کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا تھا، مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں شام آٹھ سے ساڑھے آٹھ بجے تک بلیک آؤٹ کیاگیا' جوکل جماعتی حریت کانفرنس کی طرف سے جاری احتجاجی کیلنڈر کے تحت اس دن سے شروع ہونے والے عشرہ مزاحمت کاحصہ ہے۔

ادھر سارے پاکستان میں یوم استحصال کشمیر منایا گیا'، یہ وہ دن ہے جب دو سال پہلے بھارت کی مودی حکومت نے کشمیریوں کو خصوصی حیثیت دینے والی آئینی شقوں 370 اور 35 اے ختم کر کے ظلم ڈھائے، صدر ، وزیراعظم سمیت اہم شخصیات کے خصوصی پیغامات جاری کیے جائیں گے ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اس دن کی مناسبت سے خصوصی اشاعت و نشریات کا اہتمام کیا گیا'کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیر اہتمام بھارتی ہائی کمشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یوم استحصال پر اپنے پیغام میں کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعہ کا منصفانہ اور پرامن حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے، آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اگرچہ اپنی تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہے ہیں لیکن ان کا عزم اور حوصلہ بلند ہے اور وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ آزمائش، ظلم اور جبر کی یہ سیاہ رات جلد صبح آزادی میں بدلے گی۔

وزیراعظم عمران خان نے یوم استحصال پر اپنے پیغام میں کہا ہے مقبوضہ کشمیر میں غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات کو 2 سال ہو چکے ہیں۔ بھارت نے غیرقانونی تسلط برقرار رکھنے کے لیے فوجی محاصرہ کیا۔ بھارت نے کشمیریوں کے بنیادی حقوق پر پابندیاں عائد کر دیں۔ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ نے کہا ہے کہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کے باوجود کشمیری نہیں جھکے۔ بھارت کو 5 اگست کا اقدام واپس لینا پڑے گا۔ عالمی برادری نے 5 اگست کے اقدام کو مسترد کردیا ہے۔ بھارت کو تمام غیرقانونی اقدامات واپس لینا پڑیں گے۔

ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل ہونا چاہئے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ 5 اگست کے اقدام کے خلاف کشمیری متحد ہوگئے ہیں۔ بھارت کو 5 اگست کے اقدام پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔ بھارت کی کشمیر پالیسی ناکام ہوگئی ہے۔ آر ایس ایس اور ہندوتوا سوچ نے بھارت کو کمزور کردیا ہے۔

بھارت کشمیریوں کے حقوق پامال کرنا بند کرے۔ بھارت کے اندر بھی ہندوتوا سوچ کے خلاف آواز اٹھ رہی ہے۔ آج سیکولر بھارت کہیں دکھائی نہیں دے رہا۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں لیکن یہ کام کشمیریوں کی قربانی دینے کی قیمت پر نہیں ہوگا،عالمی برادری بھارت پر دباو ڈالے کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ انسانوں والا سلوک کرے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق تنازعہ حل کیے بغیر امن ممکن نہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم استحصال کشمیر پر کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے حل سے ہی خطے میں امن اور استحکام آ سکتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بدترین ریاستی جبر جاری ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا غیر انسانی محاصرہ جاری ہے، مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جا رہا ہے۔آرمی چیف نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، مقبوضہ کشمیر میں سلامتی کا بحران علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے 2 برس، ملک بھر میں یومِ استحصال منایا جارہا ہے یوم استحصال کشمیر کے سلسلے میں شاہ محمود قریشی کی قیادت میں دفتر خارجہ سے ریلی نکالی گئی، جس میں صدر مملکت عارف علوی، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری، شبلی فراز اور اعظم سواتی سمیت دیگر نے شرکت کی۔

آج سے دو برس پہلے بھارت کی حکومت نے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے دراصل کشمیریوں کے حق خودارادیت پر سب خون مارا۔ کشمیریوں نے اس یوم سیاہ کو یوم استحصال کے نام سے یاد کیا ہے اور جب تک بھارت کی حکومت اپنا یہ اقدام واپس نہیں لیتی کشمیری یوم استحصال مناتے رہیں گے۔مقبوضہ کشمیر محض انسانی حقوق کی پامالی کا مسئلہ نہیں ہے۔

یہ 90 لاکھ مسلمانوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ 3 دہائیوں میں عالمی برادری کا دوہرا معیار دیکھا گیا کہ مشرقی تیمور اور ساؤتھ سوڈان میں لوگوں کی رائے کے مطابق حق خودارادیت دیتے ہوئے ان کو علیحدہ مملکت دی گئی۔ لیکن عالمی برادری کشمیریوں کو ان کا حق نہیں دینا چاہتی جبکہ سب کو پتہ ہے کہ اقوام متحدہ میں بھارت خود گیا تھا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر آج تک عمل نہیں ہو سکا بلکہ وہ قراردادیں گل سڑ رہی ہیں۔مقبوضہ کشمیر کے عوام نے جرأت، استقامت اور لازوال قربانیوں کے تسلسل کو برقرار رکھاہے۔

ریاست جموں و کشمیر کا تنازع نیا نہیں ہے۔ پاکستان اور بھارت کے پالیسی ساز اس تنازع کی تاریخ اور اس کے نتائج سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے لے کر معاہدہ تاشقند'شملہ معاہدہ اور پھر اعلان لاہور تک کا سفر سب حقائق کو عیاں کیے ہوئے ہے۔بھارت میں ہندو انتہا پسندی کی لہر میں جیسے جیسے اضافہ ہوتا چلا گیا ' ویسے ویسے ہی بھارتی سیاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا ووٹ بنک بڑھنا شروع ہو گیا اور بلاآخر وہ اقتدار میں آنے میں کامیاب ہوئی۔بھارتی جنتا پارٹی میں واجپائی جیسی معتدل مزاج لیڈر شپ کا خاتمہ ہوا اور اس کی جگہ موجودہ وزیراعظم نریندر مودی ابھر کر سامنے آ گئے۔

اب نریندر مودی دوسری مدت کے لیے وزیراعظم بنے ہیں۔ بھارت کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ کانگریس پارٹی کے علاوہ کسی اور پارٹی نے مسلسل دو الیکشن جیتے اور ایک ہی شخص وزیراعظم بنا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی قیادت کے سیاسی عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ نریندر مودی اور ان کی ٹیم نے الیکشن مہم کے دوران ہی بالکل اس سے بھی پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ برسراقتدار آئے تو ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دیں گے۔بھارتیہ جنتا پارٹی الیکشن جیت گئی اور نریندر مودی دوسری بار وزیراعظم بن گئے۔

وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے اپنے انتخابی وعدے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اب اس اقدام کو دو برس ہو گئے ہیں۔ ان دو برسوں میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بھر چکا ہے۔بلاشبہ کشمیری اپنی آزادی کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں اور قربانیاں پیش کر رہے ہیں لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ مظلوم کشمیریوں کو عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کی سفارتی سطح پر ہر ممکن امداد کر رہا ہے۔

اگلے روز پاکستان میں احتجاجی اکٹھ ہوئے ' پاکستان کی چوٹی کی قیادت نے بھی کشمیریوں کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا کرنے سے بھارتی حکومت اپنے اقدامات کو واپس لے لے گی' ماضی کو سامنے رکھیں تو جواب نفی میں ملتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان جو جنگیں ہوئی ہیں اس کی تہہ میں بھی تنازع کشمیر ہی کارفرما رہا ہے۔بھارت نے سازشی ہتھکنڈوں کے ذریعے پاکستان کو دولخت کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے باوجود پاکستان کبھی کشمیریوں کی حمایت سے دست کش نہیں ہوا۔ اقوام متحدہ کی بات کریں تو وہ بھی سوائے جنرل اسمبلی میں بات کرنے کے کبھی کوئی عملی قدم اٹھانے سے قاصر ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ایجنڈے پر تنازع کشمیر نہیں آیا۔ اگر اسلامی ممالک کی بات کی جائے تو بھی پاکستان کو مایوسی کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔

پاکستان میں دنیا بھر چلنے والی مسلمانوں کی تحریکوں کی حمایت کی ہے۔فلسطینیوں اور برمی مسلمانوں کے لیے پاکستان نے ہمیشہ آواز بلند کی ہے۔ لیکن تنازع کشمیر پر مسلم ممالک میں سے سوائے ایک دو کے کسی نے کھل کر بھارت کی مخالفت نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی حکمران اشرافیہ مقبوضہ کشمیر میں من مانی پالیسی اختیار کرتی رہتی ہے۔ بھارت کی وزارت خارجہ کا کردار بھی خاصا متحرک ہے۔

اس کے برعکس پاکستان کی وزارت خارجہ سوائے ہفتہ وار بریفنگ کے یا وزیر خارجہ کے بیانات کے کوئی اور سرگرمی کرتی نظر نہیں آئی۔ پاکستان کی بقا اور سلامتی کا تقاضا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کو آزادی دلوانے کے لیے ٹھوس پالیسی اختیار کرے۔

مقبول خبریں