کراچی کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی

کراچی کے مسائل کے حل کے لیے وفاقی، صوبائی اور شہری حکومتوں کے درمیان کسی بھی سطح پر کوئی عملی تعاون نظر نہیں آرہا ہے۔


Editorial August 12, 2021
کراچی کے مسائل کے حل کے لیے وفاقی، صوبائی اور شہری حکومتوں کے درمیان کسی بھی سطح پر کوئی عملی تعاون نظر نہیں آرہا ہے۔ فوٹو : ٹویٹر

''کراچی کے عوام کی مشکلات پر آنکھیں بند نہیں کرسکتے ،کیونکہ ملک کی ترقی، کراچی کی ترقی سے وابستہ ہے ،کراچی میں وفاقی حکومت کے منصوبوں کی جلد تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے،پاکستان سیدھے راستے پر آ چکا ہے اور اب حکومت کا ہدف ملک میں سرمایہ کاری لانا ہے۔ ''

ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے منگل کے روز کراچی میں اپنی زیرصدارت کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے حوالے سے جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت پر منعقدہ اجلاس میں کیا ۔

کراچی کے مسائل کے حل کے لیے وفاقی، صوبائی اور شہری حکومتوں کے درمیان کسی بھی سطح پر کوئی عملی تعاون نظر نہیں آرہا ہے، صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہورہی ہے۔ عملی طور پر شہر کس کے زیرانتظام ہے 'یہ سوال توجہ طلب ہے۔

اس وقت اہم ترین سوال ہے کہ کیا کراچی کے لیے گیارہ سو ارب کا ترقیاتی پیکیج حالات بدلنے میں معاون ثابت ہوا ہے ؟ کہیں وفاق کے پچھلے 162 ارب روپے والے اعلان جیسا حشر نشر نہ ہو اس کا۔پی ٹی آئی کو کراچی شہر سے قومی اسمبلی کی چودہ نشستیں ملیں،کیا پارٹی کی وفاقی حکومت نے شہری مسائل کو حل کرنے کو ترجیح دی، جب کہ اتحادی جماعت ایم کیوایم پاکستان بھی صرف احتجاجی بیانات جاری کرتی نظر آتی ہے، پیپلزپارٹی کی حکومت بھی شہرقائد کو نظراندازکررہی ہے۔

کراچی دنیا کا ساتواں ناقابل رہائش شہر کیوں بن چکا ہے،وفاق کو ستر فی صد ٹیکس دینے والے شہر کے باسی بنیادی انسانی سہولتوں سے کیوں محروم ہیں،کیا اجڑے دیارکی رونقیں دوبارہ بحال ہوسکتی ہیں ۔

کراچی ملک کا سب سے بڑا تجارتی شہر ہے اور بندرگاہ کی موجودگی سے اس کی حیثیت تجارتی انجن کی سی ہے جب کہ اپنے علاقائی اور رقبے کے لحاظ سے یہ دنیا کے کئی مشہور شہروں سے بڑا اور کئی ممالک سے بھی بڑا ہے مگر اس شہر کی شناخت کچرے کے ڈھیر، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، بے ہنگم عمارتیں اور تجاوزات بن کر رہ گئی ہے۔

ابھی پچھلی بارشوں میں شہر میں شدید تباہی ہوئی جس کے بعد وزیراعظم کراچی تشریف لائے اور شہرکے لیے گیارہ سو ارب روپے کے'' پیکیج'' کا اعلان کیا تھا۔ ان کے ترجمان نے اگلے دن بتایا کہ اس میں سے تین سو ارب وفاقی حکومت دے گی، ایک برس بیت گیا، گیارہ سو ارب ایک طرف، مرکزی اور صوبائی حکومت کے تین تین سو ارب ایک طرف، ایک سو ارب، بلکہ ایک ارب کیا ایک روپیہ بھی اب تک کہیں نظر نہ آیا نہ کوئی اقدام ہوتا کسی نے دیکھا۔ نہ ہی کوئی پوچھنے والا ہے کہ کیا ہوا تیرا وعدہ؟

ایک شہر جو عالم میں انتخاب تھا ، شہر دل فِگاراں، شہر یاراں کراچی جہاں زندگی ہردم رواں رہتی تھی، آج اس شہر کا حال بے حال ہے۔بدانتظامی کا یہ عالم ہے کہ شہری کورونا ویکسین لگوانے کے لیے دربدر دھکے کھاتے اور گھنٹوں قطاروں میں کھڑے نظرآتے ہیں ۔کراچی کے باسی اپنے شہر کی ناگفتہ بہ حالت پر یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا ہماری زندگی میں کیا کوئی ایسا دن بھی آئے گا جب ہم اس شہر ناپرساں کو اپنے صحیح رنگ و روپ میں دیگر بین الاقوامی معاشی حب کے حامل دنیا کے دیگر شہروں کی مانند دیکھ سکیں گے ،جس کی آبادی اب دنیا کے کئی چھوٹے ممالک سے بھی بڑھ چکی ہے۔

کراچی کی آبادی کی اپنی گروتھ 3 فیصد سالانہ اور دیگر صوبوں سے نقل مکانی کرکے آنے والوں کی تعداد بھی 3 فیصد سالانہ ہے،گویا تقریباً ہر 17 سال بعد کراچی کی آبادی دگنی ہوجاتی ہے اور اس میں کچی آبادیوں کا تناسب 50 فیصد سے بھی زیادہ ہوچکا ہے اور یہ مقامی انتظامیہ کی ملی بھگت سے وجود میں آیا ہے۔ کراچی کو ''منی پاکستان'' تو کہہ دیا جاتا ہے مگر اس کے حقیقی مسائل کو ''اون'' کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں جب کہ یہ مسئلہ بقیہ پاکستان سے جڑا ہوا ہے اور اب یہ شہر بڑھتی ہوئی آبادی کے بوجھ، مسائل کے حل نہ ہونے، کرپشن درکرپشن اور ناانصافی در ناانصافی کے بوجھ تلے سسک رہا ہے۔

شہرقائد میں ایک بلدیہ ہے، ایک کے ڈی اے ہے یعنی ادارہ ترقیات کراچی۔ کراچی صرف ان میں ہی نہیں بٹا ہوا۔ واٹر بورڈ الگ ہے اور بجلی کا محکمہ ایک نجی ادارے کی ملکیت ہے۔ اس کے علاوہ مختلف اتھاریٹیز ہیں جن کے بیچ یہ شہر ناپرساں چوں چوں کا مربہ بنا ہوا ہے۔ شہری ،صوبائی اوروفاقی حکومتوں کے اختیارات کی عملداری کہیں نظر نہیں آتی۔

سندھ میں 2008 سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، مگر اس شہر کے مسائل ہیں کہ ختم ہونے یا حل ہونے میں نہیں آ رہے۔ پاکستان میں عدالت عظمیٰ کے کئی سربراہوں کی جانب سے کراچی کے مسائل بالخصوص کچرے کی ابتر صورتحال، تجاوزات، گندے نالے اور بل بورڈز کے معاملے پر نوٹسز لیے گئے مگر آج تک ان مسائل کا کوئی حل نہیں نکلاہے۔

شہر کے نالوں کی چوڑائی بحال کرنے کے لیے پہلے متاثرین کا سروے ضروری ہے کیونکہ شہری غریب طبقے کے لیے بھی رہائش ایک بنیادی ضرورت ہے، ہم نے ماضی قریب میں دیکھا ہے کہ ایسے آپریشن میں صرف غریبوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جیسا کراچی سرکلر ریلوے کی ملحقہ آبادیوں میں ہوا اور ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود ان متاثرین کی آبادکاری پر توجہ نہیں دی جارہی۔اہم ترین مسائل میں سب سے پہلے پانی کا مسئلہ ہے۔

بے وسیلہ لوگوں کو تو دنوں ہفتوں پانی میسر نہیں مگر صاحب استطاعت کے لیے 3000، 5000، 6000 روپے میں وافر پانی فی ٹینکر موجود ہے چاہے آپ50 ٹینکر پانی منگوا لیں یا 100 ٹینکر ان کے لیے پانی کی کوئی قلت نہیں۔ جگہ جگہ پوائنٹس بنے ہوئے ہیں جہاں سے دن رات پانی کی سپلائی وافر مقدار میں جاری و ساری ہے اور خصوصاً بلڈرز کے پروجیکٹ کے لیے پانی کی کوئی کمی نہیں۔کراچی کی صحت اور صفائی کا جائزہ لیا جائے تو یہ گندہ ترین شہر بن چکا ہے۔شہر خطرناک آلودگی کے سبب شہریوں کے لیے بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔

اس کو کم کرنے کے لیے شہر میں جگہ جگہ سڑکوں کے درمیان گرین بیلٹ پر شجر کاری کی گئی ہے جوکہ اب بھی ناکافی ہے مگر اس پر طرح یہ کہ جب درخت بڑے ہو جاتے ہیں اور ان کی شاخیں پھیل جاتی ہیں تو کے الیکٹرک اور بلدیہ کے ملازمین ان کو کاٹ کاٹ کر ٹنڈ منڈ بنا دیتے ہیں ۔ جب کہ ساری دنیا میں جہاں بھی بجلی کے تار درختوں سے گزرتے ہیں ان پر PVC یا کسی اور میٹریل کی کورنگ کردی جاتی ہے اور سالہا سال سے موجود درختوں کو نہیں چھیڑا جاتا۔ لاء اینڈ آرڈر قائم کرنے میں پولیس ریفارم ہورہی ہو نہ تربیت اور امن وامان قائم کرنے کا سارا بوجھ رینجرز پر ہی ڈال دیا گیا ہے اور پولیس سیاسی نابغوں کی لونڈی بنی ہوئی ہو؟

شہرمیں ٹرانسپورٹ کی ناگفتہ بہ صورتحال ہے ،سپریم کورٹ کے واضح ترین احکامات کے باوجود سرکلر ریلوے مکمل طور پر بحال نہ ہوسکی ہے۔ سرکاری وسیع قطعات اراضی بمعہ تعمیرات کے غتربود ہوچکے ہیں۔ نواز شریف کے دور میں گرین بس کے نام پر پل اور انڈر پاس بنانے کے منصوبے بنے جو ابھی زیر تعمیر ہیں اور سندھ گورنمنٹ ان پر سست روی سے عمل پیرا ہے مگر کوئی مربوط ٹرانسپورٹ کا نظام قائم ہوتا نظر نہیں آرہاہے۔لاکھوںمزدور، طلبا وطالبات روزانہ ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر رلتے نظر آتے ہیں۔

کراچی کے باسیوں کو گٹر اور زہریلے پانی سے سبزیاں اگا کر فراہم کرنے کے گھناؤنے عمل کے علاوہ اس کا ایک اور پہلو بھی ہے وہ یہ کہ فیکٹریز کا کیمیکل ملا پانی ملیر ندی میں چھوڑا جاتا ہے جس سے سمندری حیات کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہورہا ہے۔

شہر میں صاف اور محفوظ پانی کی کمی، رہائش کی کمی، کچرا اٹھانے کا نا قص انتظام، برساتی نالوں کی صفائی نہ ہونا، پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی، ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں، صحت و تعلیم کی سہولیات کی کمی، بجلی کی کمی، شہر کا بے ہنگم پھیلاؤ، شہر میں کھلی جگہوں اور کچی زمین کی کمی اور ساتھ ہی شہری سیلاب کا مسئلہ اور نشیبی مقامات اور نکاسی آب مسدود کرنے والے مقامات کی نشاندہی۔ الغرض اس وقت شہر کراچی میں مسائل زیادہ ہیں جب کہ وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں ۔

حرف آخر،کراچی کو ایک با اختیار مقامی حکومت کی ضرورت ہے جو اپنی آمدنی خود پیدا کرسکے، مگر موجودہ صورتحال میں بلدیاتی اصلاحات کی ایک موثر تجویز کے بغیر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی اور اس کے لیے زیادہ تر کام نچلی سطح پر کرنا پڑے گا اور اس میں یونین کونسلوں کو بااختیار بنانا اور یونین کونسل کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تشکیل میں شہریوں کی شمولیت کی ضرورت ہے۔

کراچی میں منصوبہ بندی اور اس پرعمل درآمدکے لیے مناسب اعداد و شمار جمع کرنے، ماہرین کی تحقیق اور اس طرح کے اقدام کے لیے عوامی شرکت کی بھی ضرورت ہے، تمام منصوبوں میں استحکام کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا،کیونکہ ماضی میں کئی منصوبے بنائے گئے مگر وہ مستحکم نہ ہونے کے سبب جاری نہ رہ سکے اور بنیادی طور پر عوامی پیسہ ضایع ہوا۔ وفاقی ،صوبائی اور شہری حکومتوں پر بھاری آئینی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سرجوڑ کر بیٹھیں اورکراچی کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔

مقبول خبریں