افغان صورتحال اور قومی قیادت کا امتحان

افغانستان میں امن استحکام اور ترقی کے لیے افغان قیادت کو ملکر تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔


Editorial August 19, 2021
افغانستان میں امن استحکام اور ترقی کے لیے افغان قیادت کو ملکر تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی نظام کی تشکیل کے لیے مشاورت جاری ہے، افغانستان میں پرامن انتقال اقتدار جلد چاہتے ہیں، اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

دنیا افغانستان کی ترقی میں کردار ادا کرے اور افغانستان میں سرمایہ کاری کرے اس کے لیے حالات سازگار ہیں۔ہمیں اپنی معیشت کو بحال کرنا ہے تاکہ استحکام ہو اور موجودہ بحران سے باہر نکل سکیں، جس کے لیے ہمسایوں اور دیگر ممالک سے اچھے تعلقات کو یقینی بنائیں گے۔

ہم بین الاقوامی سفارتی اصولوں کے مطابق ہمسایہ ممالک کے ساتھ دو طرفہ احترام کا تعلق رکھیں گے، پاکستان ،چین اور روس سے اچھے تعلقات ہیں ۔کابل میں طالبان ترجمان کی پہلی تفصیلی پریس کانفرنس میں افغانستان میں مستقبل کی امکانی صورتحال کے حوالے سے ایک مجوزہ خاکہ پیش کیا گیا ہے۔

افغانستان میں صورتحال جس تیزی سے تبدیلی ہوئی ہے ،اس نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے،اب بال افغان طالبان کے کورٹ میں ہے کہ وہ کیا حکمت عملی اختیار کرکے حکومت بنانے اور چلانے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ بظاہر طالبان دوبارہ افغانستان کا انتظام وانصرام سنبھال رہے ہیں ، جب کہ افغانستان سے بہت سے لوگ طالبان کے ڈر سے بھاگ رہے ہیں اور ہوائی جہازوں کے پہیوں سے لپٹ کر ، اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں ۔

جنگ میں ہمیشہ بڑی طاقتیں جیتتی ہیں اور عوام ہمیشہ ہار جاتے ہیں۔ یہی کچھ افغانستان میں ہوا ہے۔ یہاں کے عوام اچھی تعلیم' صاف پانی' صحت بخش خوراک اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ کتنے مرد اور نوجوان جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے، لاکھوں خواتین بیوہ ہوگئیں' بچے' بچیاں بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں معذور ہوگئے، نوجوانوں کو اغوا کرکے خود کش حملہ آور بنادیا گیا۔ وہاں صحت کی بنیادی سہولتیں نہیں ہیں، کیا افغان طالبان ان تمام درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں کامیاب ہوپائیں گے ، اس کا جواب آنیوالے وقت دے گا۔

بلاشبہ افغانستان کو اس وقت انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے، اب سب کی نظریں طالبان پر مرکوز ہیں، جس طرح ان کو کامیابی ملی ہے' وہ کسی کے گمان میں بھی نہیں تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں غلامی کی زنجیریں توڑی جاچکی ہیں،تاہم خدشہ ہے کہ افغانستان میں آگے آنے والے دن کٹھن ہوں گے اور ان حالات کا پورے خطے پر اثر پڑے گا۔اس وقت پاکستان سمیت دنیا کی عالمی طاقتوں کے سامنے اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا دو دہائی قبل والے طالبان اور موجودہ طالبان کی سوچ وفکر اور طرزعمل میں نمایاں تبدیلی رونما ہوچکی ہے۔

البتہ آنیوالے دنوں میں طالبان کے اقدامات اس عمل کا تعین کریں گے کہ افغانستان میں مستقبل کا کیا منظر نامہ ابھر کر سامنے آتا ہے ، کیونکہ اس پہلی پریس کانفرنس میں جو باتیں کہی ہیں اس میں ترجمان نے اگر اور مگر کے الفاظ کا استعمال کثرت سے کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان سے افغان سیاسی رہنماؤں نے ملاقات کی ہے،اس موقعے پروزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان سے زیادہ دنیا کا کوئی دوسرا ملک افغانستان میں امن کا خواہاں نہیں ہے، موجودہ صورتحال میں افغان رہنماؤں پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے۔

افغانستان میں امن استحکام اور ترقی کے لیے افغان قیادت کو ملکر تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔ دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان کی صورتحال پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکی مشن دہشت گردی کی روک تھام تھا، افغانستان سے واپسی کا فیصلہ درست تھا، ہم نے افغان فوج کو تربیت دی، ہم نے افغان فوج کو ہر طرح کے ہتھیار مہیا کیے، افغان افواج اگر لڑنا نہیں چاہتیں تو اس میں امریکا کچھ نہیں کرسکتا، افغان فوج کی تنخواہیں تک ہم ادا کرتے تھے ۔

طالبان کے گزشتہ دور میں اگرچہ افغانستان میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی تھی، تاہم ان کے طرزِ حکومت کو انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیاتھا ، پھر نائن الیون کا واقعہ پیش آیا تو وہ دنیا جس نے چن چن کر لوگوں کو مجاہدین بنا کر افغانستان بھیجا تھا' پھر یکدم انھیں دہشت گرد کہہ کر ان کے خلاف کھڑی ہو گئی تھی۔

پاکستان سے بھی اس جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے کا کہا گیا تھا۔ ایک وہ بھی دور تھا جب پاکستان میں ہر روز دھماکے ہوتے تھے۔ اسّی ہزار سے زائد پاکستانی اس جنگ میں شہید ہوئے۔ اس جنگ کے اثرات دو دہائی تک ہم سب نے محسوس کیے ہیں۔ افغانستان میں جب بھارت نواز کٹھ پتلی حکومت قائم ہوئی تب بھی یہ سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال ہوتی رہی۔ سانحہ اے پی ایس ایک ایسا سانحہ ہے جس میں افغان سرزمین سے دہشت گرد پاکستان آئے اور ہمارے معصوم بچوں اور ان کے نہتے اساتذہ کو شہید کیا،یہ سانحہ ہم کبھی نہیں بھول سکتے۔ حکومت کو چاہیے کہ نئی افغان انتظامیہ سے افغانستان میں موجود ان تمام دہشت گردوں کی پاکستان حوالگی کا مطالبہ کرے۔

ترجمان طالبان کا یہ بیان دینا کہ ''اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے'' کو خوش آیند تو قرار دیا جاسکتا ہے،کیونکہ ماضی میں افغانستان کی سرزمین متعدد بار پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی یہاں تک کہ بہت سے سوشل میڈیا ٹرینڈ بھی بھارتی ایما پر افغانستان سے بنائے گئے۔ جلال آباد میں قائم بھارت کا قونصل خانہ پاکستان کے خلاف سازشوں کا مرکز بنا رہا اور یہاں سے ٹی ٹی پی اور قوم پرستوں کو فنڈنگ ہوتی رہی۔ پاکستان کے خلاف بھرپور سازشیں ہوئیں مگر پاکستان نے ہر مشکل کا ڈٹ کر سامنا کیا اور ان سازشوں کو ناکام بنایا۔

افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ ایک طرف پاکستانی ڈالر بانڈز کی کارکردگی نچلی سطح پر آگئی ہے تو دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی مندی کا رجحان ہے۔افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد پڑوسی ممالک میں جہاں سیکیورٹی کے خدشات بڑھ رہے ہیں، وہیں خطے کی تبدیل ہوتی صورتحال کے پاکستان کی معیشت پر بھی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ غیرملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ڈالر میں پاکستانی بانڈز کی قدر میں 1.6 فیصد کمی ہوئی ہے جو کہ حالیہ دنوں کے دوران ایک دن میں ہونے والی سب سے زیادہ کمی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 10 سالہ پاکستانی بانڈز کی قدر میں کمی کی بڑی وجہ پڑوسی ملک کی خراب صورتحال ہے۔دوسری جانب کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی مندی کا رجحان رہا ہے۔ افغانستان کی خراب صورتحال کے باعث 100 انڈیکس نچلی سطح پر رہا۔ دن کے اختتام پر 100 انڈیکس 257پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 46912 پوائنٹس پر بند ہوا۔

افغانستان میں طالبان کی جانب سے صوبائی دارالحکومتوں اور کابل پر قبضے کے دوران کئی جیلوں سے سیکڑوں قیدیوں کو آزاد کروایا گیا ہے۔ مقامی صحافیوں کے مطابق رہا کروائے گئے قیدیوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے کارکن بھی شامل ہیں۔ان جیلوں سے رہائی پانے والوں میں تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں اور کارکنوں کی تعداد 780 تک بتائی جا رہی ہے لیکن افغانستان کی موجودہ صورتحال میں اِس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔سوشل میڈیا پر تحریک طالبان پاکستان کے سابق نائب امیر مولوی فقیر محمد کی تصویر بھی وائرل ہوئی ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے وہ ان کی کابل میں ساتھیوں سمیت رہائی کے بعد لی گئی ہے۔

افغانستان میں بھارت کے تین ارب ڈالر کے منصوبے اپنی جگہ لیکن اس کا اصل نقصان وہاں اثر و رسوخ متاثر ہونے سے ہوا ہے اور یہ نقصان زیادہ بڑا ہے۔ بھارت نے افغانستان تک اپنی رسائی آسان بنانے کے لیے ایران میں چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر میں حصہ لیا تھا، افغانستان کی تازہ ترین صورتحال میں یہ معاملہ بھی غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو گیا ہے۔بھارت نے افغانستان میں چھوٹے بڑے 500 منصوبوں پر کام کیا ہے، ان میں سے بعض منصوبے مکمل ہو گئے ہیں جب کہ کچھ ابھی تک نامکمل ہیں۔بھارت نے افغانستان میں اسکول، اسپتال، صحت کے مراکز، طلبہ کے ہاسٹلز اور پل وغیرہ کی تعمیر میں بھی افغان حکومت کی مدد کی تھی۔

اس کے علاوہ سلمیٰ ڈیم اور زارانج دلارام ہائی وے کی تعمیر میں بھی بھارت نے سرمایہ لگایا ہے لیکن اب ان منصوبوں کا مستقبل یقینی نظر نہیں آتا۔امریکی صدر جو بائیڈن سے کچھ دن پہلے جب یہ سوال ہوا تھا کہ کیا طالبان دوبارہ افغانستان پر قابض ہوجائیں گے تو اُن کا کہنا تھا کہ وہاں تین لاکھ افغان فوجی ہیں جو ٹرینڈ اور جدید اسلحے سے لیس ہیں۔ یہ لاکھوں کی افغان آرمی اور ایئرفورس 75 ہزار طالبان کو کبھی افغانستان پر قابض نہیں ہونے دے گی مگر شاید عوام اور افغان فورسز خود بھی امریکا اور بھارت نواز کٹھ پتلی افغان حکومت سے تنگ تھے اس لیے کہیں پر کوئی مزاحمت نہیں ہوئی۔ طالبان بنا مزاحمت کے علاقوں پر علاقے فتح کرتے رہے۔

افغانستان پر طالبان کے قبضے اور غیریقینی کی صورتحال بڑھنے کے باعث خطے کے سرمایہ کار پریشان ہیں۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال پاکستان سمیت پڑوسی ممالک کی معیشت کے لیے بھی مزید دباؤ کا باعث بن سکتی ہے، لہذا پاکستان کی قیادت کو تاریخ کے اس نازک ترین موڑ پر ملکی مفادات کو پیش نظر فہم وفراست اور تدبر سے فیصلے کرنا ہونگے ، یہی وقت کا تقاضہ اور ضرورت ہے ۔

مقبول خبریں