افغانستان کے بارے میں خوش گمانی

حالیہ دنوں میں افغانستان میں تشدد یا قتل و غارت کاکوئی واقعہ سامنے نہیں آیا، افغانستان میں حالات کنٹرول میں ہیں۔


Editorial August 26, 2021
حالیہ دنوں میں افغانستان میں تشدد یا قتل و غارت کاکوئی واقعہ سامنے نہیں آیا، افغانستان میں حالات کنٹرول میں ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا

جی سیون گروپ نے افغانستان کے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 31 اگست کے بعد افغانستان سے باہر جانے والوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی گارنٹی دیں۔ دنیا کے سات بڑے صنعتی اور ترقیاتی یافتہ ممالک کے گروپ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی اور انسانی حقوق کے معاملے پر طالبان کو ذمے دار ٹھہرایا جائے گا۔

منگل کے روز جی سیون اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق گروپ نے افغانستان کے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ جامع اور نمایندہ حکومت کے قیام میں بالخصوص خواتین اور اقلیتوں کی بامعنی شمولیت یقینی بنانے کے لیے نیک نیتی سے کام کریں، مستقبل میں کسی حکومت کے قانونی ہونے کا انحصار اس کی سوچ پر ہے کہ وہ مستحکم افغانستان کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کرتی ہے۔

ہم افغانستان کے عوام اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 16 اگست کے اعلامیہ کی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں، ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ طالبان دہشت گردی سے تحفظ، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق اپنے اقدامات پر جواب دہ ہوں گے۔

جی سیون گروپ کے ورچول اجلاس کے بعد جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا کہ افغانستان سے انخلا کی ڈیڈ لائن 31 اگست ہی برقرار رہے گی۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ کانفرنس میں افغانستان سے انخلا کی کسی نئی تاریخ کے بارے میں کوئی نتیجہ نہیں نکالا گیا،جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ کانفرنس میں اس بات پر طویل بحث کی گئی کہ کیا ڈیڈ لائن کے بعد سویلین ایئرپورٹ کو پناہ گزینوں کی مدد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ جرمنی افغانستان کے پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران کے ساتھ مل کر اس حوالے سے کام کرنے کو تیار ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے پینٹاگون کے افغانستان سے 31اگست تک انخلا مکمل کرنے کے منصوبے پر کاربند رہنے کی سفارش سے اتفاق کیا ہے، بائیڈن انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ افغانستان سے انخلا مقررہ وقت تک مکمل کر لیا جائے گا اور صدر جوبائیڈن نے پینٹاگون سے اس معاملے پر اتفاق کیا ہے۔

عہدیدار نے بتایا کہ امریکا نے طالبان کو آگاہ کیا ہے کہ مقررہ وقت پر انخلا مکمل کرنے کے لیے جنگجو گروپ کا تعاون اہمیت رکھتا ہے۔اس حوالے سے امریکی صدر جو بائیڈن نے بعد ازاں ایک ٹویٹ بھی کیا کہ امریکا اپنے لوگوں کے طے شدہ انخلا کے وعدے پر قائم ہے ان لوگوں میں غیرمحفوظ افغان جیسا کہ خواتین رہنما اور صحافی شامل ہیں، قبل ازیں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا تھا کہ ڈیڈ لائن سے قبل تمام امریکیوں کو افغانستان سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے بتایا کہ افغانستان سے انخلا کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور رواں ماہ کے اختتام تک تمام امریکی افواج کو نکال لیا جائے گا۔جان کربی کا کہنا تھا کہ ہم یقینی طور پر رواں ماہ کے اختتام پر نظریں لگائے ہوئے ہیں،انھوں نے کہا کہ پینٹاگون کو افغانستان سے نکالے گئے افراد کو رکھنے کے لیے اضافی بیسز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

عالمی سطح پر یہ پیش رفت ہوئی جب کہ افغانستان میں غیریقینی کی صورتحال اب تک برقرار ہے۔ جی سیون گروپ کے اجلاس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی ممالک افغانستان میں پھنسے ہوئے اپنے فوجیوں اور شہریوں کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہیں۔ انھیں فکر لاحق ہے کہ اگر ان کے شہری 31اگست کی مقررہ مدت تک کابل سے نہ نکالے گئے تو ان کا مستقبل کیا ہو گا۔

یہی مسئلہ یورپی ممالک کو پریشان کیے ہوئے ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ31اگست کی مقررہ مدت تک امریکی اور یورپی ممالک کے شہریوں اور افواج کا کابل سے انخلا مکمل ہوتا ہے یا نہیں۔ اگر مقررہ مدت تک ایسا نہ ہو سکا تو پھر معاملات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اسی کے بارے میں یورپی ممالک سوچ بچار کر رہے ہیں۔

کابل میں منگل کے روز افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ صرف غیر ملکی شہری ہی کابل ایئرپورٹ جا سکتے ہیں،غیر ملکیوں کو افغان شہری ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں دیں گے، امریکا ہنر مند افغانوں کا انخلا کرانے سے باز رہے،انھوں نے کہا کہ امریکی انخلا کے دوران وہ انجینئروں اور ڈاکٹروں جیسے افغان ماہرین کو باہر لے جا رہے ہیں اور ہم ان سے کہہ رہے ہیں کہ یہ عمل روک دیں،انھوں نے بتایا کہ کابل ایئرپورٹ پر افراتفری کی صورتحال کے باعث طالبان اب افغان شہریوں کو کابل ایئرپورٹ کی جانب جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

ایئرپورٹ میں موجود افغان شہری واپس گھروں کو جائیں، ہم ان کی سیکیورٹی کی ضمانت دیتے ہیں، افغانستان گزشتہ بیس سال بے امنی اور جنگ و جدل و اندرونی خانہ جنگی کا شکار رہا۔ 10دن میں افغانستان میں امن قائم کر دیا ہے۔حالیہ دنوں میں افغانستان میں تشدد یا قتل و غارت کاکوئی واقعہ سامنے نہیں آیا، افغانستان میں حالات کنٹرول میں ہیں۔ ملک و قوم کی خدمت کرنے والے ادارے فعال ہیں، تمام اسپتال مکمل فعال ہیں۔لوگوں کا علاج ہو رہا ہے، سرکاری ٹی وی اور ریڈیو کی نشریات مسلسل چل رہی ہیں۔ تمام بینکوں نے آزادی سے کام شروع کر دیا ہے۔ تمام تعلیمی ادارے بھی کھلے اور طلبا اسکول جا رہے ہیں۔

کابل میں ٹریفک کے مسائل پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ باقی اداروں کی طرح میڈیا کی بھی تشکیل نو کریں گے۔ انھوں نے ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش جیسی شدت پسند تنظیموں سے نمٹنے کے لیے کسی کمیشن کی تشکیل کی تردید کی اور کہا اس بارے میں اطلاعات غلط ہیں۔ ہمارے ملک میں ایسے قوانین موجود ہیں جن کے ذریعے ان سے نمٹا جاسکتا ہے۔ ہم کسی کو بھی افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے نہیں دیں گے۔خواتین کے متعلق پالیسی واضح ہے۔

کسی کے کام پر پابندی نہیںلگائیں گے۔اداروں میں بہتری ہو گی تو خواتین بھی کام پر جا سکیں گی۔افغانستان میں کسی صورت انسا نی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہو گی۔ ملک میں حکومت کی تشکیل کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ افغانستان میں حکومت کی تشکیل کا عمل کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت سازی کا عمل جلد مکمل ہو۔

افغانستان میں نئی حکومت مغربی جمہوریت کی طرز کی نہیں ہوگی،طالبان تحریک کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ وہ بھی جلد عوام کے سامنے آ جائیں گے۔ادھر ایک غیر ملکی نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے قائم مقام وزیرِ تعلیم بھی مقرر کردیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیم بھی طالبان کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔ نئے وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ شرعی قوانین کی حدود میں رہتے ہوئے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے پْرعزم ہیں۔

طالبان نے گل آغا کو وزیر خزانہ، صدر ابراہیم کو وزیر داخلہ، نجیب اللہ انٹیلی جنس چیف جب کہ ملا شیرین کو کابل کا گورنر اور حمد اللہ نعمانی کو دارالحکومت کا میئر مقرر کیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ حکومت پنج شیر میں جنگ نہیں کرنا چاہتی۔ امید ہے کہ پنچ شیر کا مسئلہ بات چیت سے حل ہو جائے گا اور جنگ کی نوبت نہیں آئے گی۔ترجمان طالبان نے کہا کہ تمام ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے سفارتخانے بند نہ کریں۔ غیر ملکی سفارتکاروں اور سفارتخانوں کی مکمل سیکیورٹی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

امریکا کو پھر پیغام دیتے ہیں کہ وہ مقررہ وقت تک اپنے تمام فوجی نکال لے۔افغانستان میں امریکا کی موجودگی ہمارے معاہدے کے خلاف ہے۔ اگرمقررہ تاریخ تک اپنا انخلا مکمل نہیں کرتا تو ہم اس پر بعد میں اپنا موقف دیں گے۔ہمیں ممالک کی جانب سے انسانی ہمدردی کے تحت امداد کی ضرورت ہے اور ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔ لیکن ہم اس مدد کے حق میں نہیں ہیں جو ہماری آزادی یا شناخت کی قیمت پر ہو۔

افغانستان میں زمینی حقائق کیا ہیں' اس حوالے سے اطلاعات کی تصدیق کا بھی کوئی طریقہ نہیں ہے' خبر رساں اداروں کے رپورٹرز اور نمائندگان اپنے اپنے انداز میں پہنچانتے ہیں جب کہ طالبان کے ترجمان اپنی تحریک کی پالیسی کے مطابق بیان دیتے ہیں۔

بہرحال جی سیون کے اجلاس کے اعلامیہ' امریکی صدر جوبائیڈن انتظامیہ کے اعلان اور افغان طالبان کے ترجمان کے بیانات کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ خوش گمانی کی جا سکتی ہے کہ تمام فریقین کی ترجیح افغانستان میں امن قائم کرنا ہے' اگر عالمی قوتیں اور افغان طالبان اور افغانستان کے دیگر گروپ ذمے داری اور نیک نیتی کا مظاہرہ کریں تو افغانستان میں مستقل امن قائم ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں