افغانستان میں بم دھماکے

دہشت گردی کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے تمام سیاسی قیادت کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔


Editorial August 28, 2021
دہشت گردی کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے تمام سیاسی قیادت کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایئر پورٹ پر ہونے والے تین دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک سو سے زائد ہوگئی ہے ، جب کہ ایک سو پچاس سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں ،ہلاک ہونے والوں میں تیرہ امریکی اہلکار بھی شامل ہیں۔

اموات میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے، داعش نے کابل ایئر پورٹ دھماکوں کی ذمے داری قبول کرلی ہے ،افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حملہ امریکی فورسز کے کنٹرول والے علاقے میں ہوا ، ان کی تنظیم سیکیورٹی کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

افغانستان میںدہشت گردی کے تازہ ترین واقعہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر جتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہے، دہشت گردی کے اس واقعے نے متعدد سوالات کو جنم دیا ہے ، طالبان نے انتہائی سرعت سے کابل پر کنٹرول حاصل کیا ، اور دنیا کو یہ بھی باور کروایا کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کو سپورٹ نہیں کیا جائے گا۔

اب انھیں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی تیز کرنا ہوگی ۔گوریلا وار لڑنا تو آسان بات ہے، گو خود طالبان اس وقت بے سروسامانی کی صورت میں ہیں جس سے قطع نظر امور مملکت چلانے کے لیے ان کو جس نظم اور حکومتی مشینری کی موجودگی و قیام اور اس نظام کو چلانے کے لیے جن وسائل کی ضرورت ہے، اس حوالے سے طالبان تہی دست ہیں ،عبوری دنوں میں تو یہ معاملات دبے رہتے ہیں لیکن زیادہ مدت ایسا ممکن نہیں، جب کہ افغان طالبان کے لیے ایک منظم ، مربوط ، میکنزم کے تحت حکومتی امور چلانا اور ملک میں امن وامان برقرار رکھنا دشوار نظر آرہا ہے ۔

افغانستان میں خانہ جنگی کا خدشہ نظر آرہا ہے ،صورتحال دن بدن غیریقینی کاشکار ہوتی جارہی ہے ۔افغانستان میں سب سے خوفناک منظرنامہ خانہ جنگی کا ہے، بظاہر لگتا ہے کہ امریکا خود بھی خانہ جنگی چاہتا تھا یا پھر اسے فرار کی اس قدر جلدی تھی کہ اس نے کئی پہلوؤں پر غور ہی نہیں کیا۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال ماضی میں لوٹنے جیسی ہوگی کہ جس میں اگر افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوجاتی ہے اور سرحدی علاقوں تک پہنچ جاتی ہے تو پاکستان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

افغانستان میں موجود گروہ اور پاکستانی طالبان جوکہ ہمارے ہزاروں لوگوں کے قاتل ہیں ، انھیں افغان طالبان نے افغانستان کی جیلوں سے رہا کردیا ہے ، لازمی بات ہے یہ رہائی پانے والے طالبان پاکستانی سرحد عبور کرکے ملک میں امن وامان کی صورتحال کو بگاڑنے کی ہرممکن کوشش کریں گے ، افغانستان میں موجودہ دہشت گروہ پاکستان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں خاص طور پر اگر وہ سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شکست خوردہ گروہوں کے ساتھ مل جاتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ''القاعدہ کی قیادت کا ایک بڑا حصہ پاک افغان سرحد کے پاس موجود ہے اور داعش خراسان بھی نہ صرف متحرک ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔'' اسی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے پہلے ہی خبردار کردیا تھا کہ اگر پڑوس میں کشیدگی جاری رہتی ہے تو دہشت گردوں کے سلیپر سیل دوبارہ متحرک ہوسکتے ہیں۔

بلوچستان میں بھی غیر ملکی حساس اداروں کے زیر اثر گروہوں کی جانب سے دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، یوں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سخت قربانیوں کے بعد حاصل کی گئی پاکستان کی کامیابیاں ضایع ہونے کا امکان پیدا ہوجائے گا۔اس مرحلہ پر پاکستان نے فوری طور پر اپنی سرحد کو سیل کردیا تاکہ افغان مہاجرین کے روپ میں پاکستانی طالبان اور دیگر دہشت گردگروہ ملک میں داخل نہ ہوسکیں ۔پاکستان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ ملکی سلامتی اوردفاع کو سامنے رکھتے ہوئے فوری اقدامات اٹھائے ۔

ہمیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ امریکی انتظامیہ کے فوری انخلا کے اعلان نے خانہ جنگی کا امکان بڑھا دیا ہے ،جس سے پاکستان ایک بار پھر مہاجرین کی صورت میں معاشی بوجھ تلے دب سکتا ہے اور نئے مسائل سر اٹھا سکتے ہیں۔

پاکستان کو نئی صورتحال میں نہ صرف علاقائی سیکیورٹی نظام پر توجہ دینا ہوگی بلکہ امریکا کو بھی مکمل لاتعلقی سے باز رکھنے کی کوششیں کرنا پڑیں گی ورنہ افغانستان میں بھی بالکل ویسے ہی صورتحال دیکھنے کو مل سکتی ہے جیسی سوویت یونین کے فوجی انخلا کے بعد دیکھی گئی تھی اور پاکستان کے مسائل میں اضافہ ہوجائے گا ۔

پاکستان کی حکومت اور پالیسی ساز انیس سو نوے کی غلطیاں دہرانے سے ہر ممکن گریزکر رہے ہیں، جن کی بہت بھاری قیمت پاکستانی سماج کو بھگتنا پڑی۔ یاد رہے کہ پاکستان نے نوے کی دہائی میں بھی طالبان کی حمایت کی تھی، جس کی وجہ سے پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان بنی ،دہشت گردانہ واقعات سے پاکستان کو بڑی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی، اس کا اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا۔

اس کے علاوہ ملک میں فرقہ واریت کو ہوا ملی۔ مزارات اور امام بارگاہوں پر حملے کیے گئے اور ان مسلمانوں پر بھی حملے کیے جو ان دہشت گرد گروہوں کے نظریے سے متفق نہیں تھے۔ افغان طالبان یقین دلا چکے ہیں کہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی حمایت نہیں کی جائے گی ۔کسی بھی صورت میں پاکستان کی شمال مغربی سرحد پر کشیدگی کا مطلب یہ ہوگا کہ ملک کو بیک وقت ان اندرونی، علاقائی اور بین الاقوامی چیلنجوں سے نمٹنا پڑے گا جو اس کشیدگی کے نتیجے میں پیدا ہوں گے۔

افغانستان میں بھارتی سرمایہ کاری کے ڈوبنے اور بھارتی کردار کے ختم ہوجانے کے بعد بدامنی کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔بھارت اپنی پسپائی کی خفت مٹانے کے لیے بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کی سازش کر سکتا ہے۔پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں پر پے درپے حملے اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہیں۔بھارت جیسے مکروہ عزائم رکھنے والے ہمسایہ کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی خوش فہمی کا شکار نہیں رہنا چاہیے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق افغانستان سے پانچ ہزار سے زائد غیرملکیوں کو اسلام آباد اور کراچی کے ہوٹلزمیں ٹھہرانے کے لیے انتظامات کیے جارہے ہیں ، افغانستان سے آنے والے غیر ملکیوں کو ایک خاص پلان کے تحت امریکا اور دیگر ممالک روانہ کیا جائے گا۔اس سارے عمل کے دوران ہمارے اداروں کو انتہائی احتیاط اور ہوشیاری سے کام لینا ہوگا، اور فول پروف سیکیورٹی انتظامات کرنے ہونگے ، ورنہ صورتحال کا فائدہ کوئی بھی دہشت گرد گروہ اٹھا سکتا ہے ۔

افغانستان میں خانہ جنگی خطے کے مفاد میں نہیں اس کے لیے علاقائی طاقتیں اور پاکستان مل کر سفارتی کوششیں کرسکتے ہیں اور افغان فریقین کو میز پر لاسکتے ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ واشنگٹن افغانستان میں نئی خانہ جنگی کا خواہاں ہو کیونکہ اس خانہ جنگی سے روس اور چین کو نئے محاذ پر توجہ دینا پڑے گی اور امریکا خطے میں اپنے عزائم کو پروان چڑھانے اور چین کی فوجی و اقتصادی ترقی روکنے کے لیے نئی منصوبہ بندی کے قابل ہوجائے گا۔

دنیا کو چاہیے کہ وہ افغان طالبان کی بدلتی حکمت عملی اور تعاون و مفاہمت کا اسی انداز میں جواب دے، جو وقت کا تقاضا ہے کہ خواہ وہ اسلامی ممالک ہوں یا پھر جی سیون اور دنیا کے دیگر ممالک عالمی برادری کو مل کر افغانستان میں عدم استحکام کو استحکام میں بدلنے اور افغانستان کے تمام فریقوں اور عناصر کوآمادہ بہ مذاکرات کرنے اور ملک میں پرامن حکومت کے قیام میں مدد دینے میں بخل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے ۔

افغانستان کے عوام اپنے ملک میں کس قسم کے نظام کے خواہاں ہیں اس کا فیصلہ خود ان کو کرنے دیا جائے ،افغانستان میں قیام امن کی کنجی بھی مستحکم حکومت اور عوام کے لیے قابل قبول نظام میں ہے ، طالبان قیادت کی جانب سے افغانستان کی تعمیر نو و استحکام کے مصمم ارادے ظاہر کیے جارہے ہیں۔

گزشتہ چالیس برس میں افغانستان جن حالات سے دوچار رہا اور جو تجربات عالمی برادری اور طاقتور ممالک کر چکے ہیںاس کے بعد ایک موقع تازہ دعویداروں کو دنیا دے ۔ مصلحت کا تقاضا ہے افغان طالبان کو اپنے دعوے ثابت کرنے کے لیے وقت اور وسائل مہیا کیے جائیں ، تو شاید اس ملک میں استحکام اور قیام امن کے دور کا آغاز ہواور تباہ حال افغانستان امن کی طرف لوٹ آئے تو اس کے اثرات خطے اور پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں اس کے لیے ذمے داریوں کا احساس اورعملی طور پر کوششیں عالمی برادری کافرض ہے جس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں عالمی برادری کا مفاہمانہ اور ذمے دارانہ کردار ہی قیام امن اور استحکام امن کا سبب بن سکتا ہے دوسری کوئی صورت نظر نہیں آتی۔

ہم اس حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتے کہ افغانستان کی صورتحال براہ راست پاکستان پر اثر انداز ہوتی ہے،دہشت گردی کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے تمام سیاسی قیادت کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کی نئی لہر سے بچانے کے لیے سیاسی جماعتوں اور قیادت کو سیکیورٹی اداروں کی پشت پر کھڑا ہونا اور ایک متفقہ بیانیہ جاری کرنا ہوگا ۔

مقبول خبریں