کراچی اسٹاک مارکیٹ مندی برقرار مزید 16 پوائنٹس کمی

انڈیکس 26 ہزار 654 پوائنٹس پر بند،415 کمپنیوں میں سے 233 کی قیمتوں میں اضافہ، 167فرمزکے دام گرگئے


Business Reporter January 29, 2014
مندی کے باوجود مارکیٹ سرمایہ 12.4 ارب روپے بلند، کاروباری حجم 32 فیصدزائد رہا فوٹو: آن لائن / فائل

غیریقینی معاشی صورتحال اور عالمی مارکیٹوں میں رونما ہونے والی مندی کے اثرات کراچی اسٹاک ایکس چینج پر منگل کو بھی مرتب ہوئے اور مندی کے بادل چھائے رہے۔

تاہم آل شیئرانڈیکس میں معمولی اضافے کے سبب 56.14 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں بھی12 ارب38 کروڑ31 لاکھ20 ہزار 196روپے کا اضافہ ہوگیا، ٹریڈنگ کے دوران میوچل فنڈز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر44 لاکھ 45 ہزار696 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری بھی کی گئی جس سے ایک موقع پر126.56 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس 2677.16 پوائنٹس کی سطح پر آگیا تھا لیکن اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے28 لاکھ12 ہزار 160 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے9 لاکھ82 ہزار249 ڈالر بینکوں و مالیاتی اداروں کی جانب سے24 ہزار850 ڈالر این بی ایف سیز کی جانب سے4 لاکھ177 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے2 لاکھ26 ہزار260 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا نے کاروبار کو مندی میں تبدیل کردیا جس کے نتیجے میںکاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 16.67 پوائنٹس کی کمی سے26653.73 ہوگیا ۔



جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 70.26 پوائنٹس کی کمی سے 19237.42 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس171.97 پوائنٹس کی کمی سے 43857.64 ہوگیا، کاروباری حجم پیر کی نسبت 31.86فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر30 کروڑ 33 لاکھ26 ہزار610 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار415 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں233 کے بھائو میں اضافہ، 167 کے داموں میں کمی اور15 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں نیسلے پاکستان کے بھائو 570.75 روپے بڑھ کر11989 روپے اور وائتھ پاکستان کے بھائو 103.06 روپے بڑھ کر 4669.56 روپے ہوگئے جبکہ یونی لیور فوڈز کے بھائو 149.50 روپے کم ہوکر 9040.50 روپے اور رفحان میظ کے بھائو 133 روپے کم ہوکر7372 روپے ہوگئے۔