بھارت کا معاندانہ کردار

بھارت نے افغانستان میں جو بھی سرمایہ کاری کی وہ صرف اور صرف پاکستان کو نقصان پہچانے کے لیے تھی۔


Editorial August 29, 2021
بھارت نے افغانستان میں جو بھی سرمایہ کاری کی وہ صرف اور صرف پاکستان کو نقصان پہچانے کے لیے تھی۔ فوٹو: فائل

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت کا خاتمہ سب کی امیدوں کے برعکس تھا، وہاں بھارت کا کردار بہت منفی تھا، بھارت نے افغانستان میں جو بھی سرمایہ کاری کی وہ صرف اور صرف پاکستان کو نقصان پہچانے کے لیے تھی۔

بھارت نے افغان عوام، حکومت اور فوج کا ذہن زہر آلود کیا، داسو، لاہور اور کوئٹہ کے واقعات این ڈی ایس اور را کی ملی بھگت سے ہوئے، اب امید ہے وہاں اس کا اثر و رسوخ ختم ہو جائیگا۔ جمعے کو راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ٹی ٹی پی کی افغانستان میں پناہ گاہیں موجود ہیں، ہم پچھلی افغان حکومت کے ساتھ بھی کالعدم ٹی ٹی پی کا معاملہ اٹھاتے رہے، کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال کرتی رہی ہے۔

دنیا کو بھی افغانستان میں منفی کردار ادا کرنے والے عناصر سے متعلق آگاہ کیا۔ اب طالبان نے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کا یقین دلایا ہے ، کوئی مسئلہ ہوا تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ جی آئی ایس پی آر نے امید ظاہر کی کہ اب افغانستان میں حالات جلد معمول پر آ جائیں گے، وہاں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا نہیں ہوگی۔ نئی افغان حکومت بننے کے بعد اس سے اچھے تعلقات کی امید ہے۔ ہم قومی سلامتی کے مسائل اور ممکنہ عدم استحکام سے نمٹ رہے ہیں، پاک افغان سرحد پر صورتحال ہمارے کنٹرول میں ہے۔

پاکستان کو خطے کی صورتحال سے نمٹنے میں زمینی کا ایک تہہ بہ تہہ گنجینہ معنی کا طلسم موجود ہے جس کے بعض حقائق کی طرف ترجمان نے اشارہ کیا ہے، ترجمان کا کہنا درست ہے کہ بھارت نے خطے کے سیاسی نقشہ کی صورت گری میں پاکستان دشمنی کے باب کو خالی نہیں رکھا اور پاکستان کے بارے میں اقتصادی، سیاسی، سفارتی جو پالیسیاں تشکیل دیں ان کی بنیاد بدنیتی پر استوار رہیں۔

بھارت اسی جعل سازی اور سیاسی دیوالیہ پن کے ساتھ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریز پا رہا کہ پاکستان ایک زمینی حقیقت ہے اور اسے بھارت اپنی خام خیالی سے معاشی ترقی کے مربوط پروگرام سے کبھی ہٹا نہیں سکتا، مگر پوری بھارتی تاریخ پاکستان دشمنی کی دیوانگی سے نجات حاصل نہیں کرسکی، اس کی ایک تاریخ ہے اور اس اعتبار سے پوری بھارتی ذہنیت سیاسی اخلاقیات کے ایک تاریک باب کا احاطہ کرتی ہے۔

بابر افتخار نے کہا کہ امریکا اور نیٹو افواج کا انخلا پہلے سے طے شدہ تھا، پاکستان نے پہلے ہی افغانستان سرحد کے تحفظ کے لیے اقدامات کر لیے تھے، اس وقت افغان سرحد پر حالات پوری طرح کنٹرول میں ہیں۔ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 78 راہداریاں ہیں جن میں سے 17سرکاری نوعیت کی ہیں،5 راہداریوں سے تجارت ہو رہی ہے جب کہ73 غیر فعال ہیں۔ کھلی راہداریوں کے ذریعے قافلے دونوں اطراف آ جا رہے ہیں۔ اس وقت افغانستان سے غیر ملکیوں کو نکالنے کے لیے دوسرا سب سے بڑا ٹرانزٹ مقام پاکستان ہے، اب تک 113 فوجی اور تجارتی پروازیں پہنچ چکی ہیں، 5500 غیر ملکیوں کو پاکستان کے ذریعے افغانستان سے نکالا جا چکا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا پاکستان کی سرحد محفوظ اور مستحکم ہونے کے مثبت اثرات پڑوسی ملک پر بھی آئیں گے۔ انھوں نے کہا 15 اگست سے قبل افغان نیشنل آرمی سے تعلق رکھنے والے کئی فوجی دو سے زائد مواقعوں پر پاکستان میں محفوظ راستے کی تلاش میں داخل ہوئے، ہم نے فوجی اصولوں کے تحت محفوظ راستہ دیا، افغان بارڈر پر 90 فیصد باڑ لگا دی گئی ہے۔ مستقبل کے امکانات اور اقدامات کے حوالہ سے پاکستان نے اہم تعمیری انتظامات کی بھی بات کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم نے افغانستان میں حکومت کی تشکیل کا انتظار کرنا ہے، وہاں حکومت بننے پر اس سے حکومتی سطح پر رابطہ ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے افغان آرمی کے ایک پورے بریگیڈ کو تربیت فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی لیکن اس وقت کی افغان حکومت نے بھارت سے ٹریننگ لینے کو ترجیح دی، ہزاروں افغان کیڈٹس نے بھارت میں تربیت حاصل کی، بھارتی افواج کی کئی تربیتی ٹیمیں افغان افواج کی تربیت کے لیے افغانستان میں بھی گئیں، پاکستان صرف چھ افغان کیڈٹس بھیجے گئے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ افغانوں کے علاوہ اس تنازع کے سب سے زیادہ متاثرین پاکستانی ہیں۔ سوویت یونین کے حملے کے بعد سے ہمیں خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ معاشی نقصانات کے علاوہ 86 ہزار سے زائد جانیں ضایع ہو چکی ہیں۔ مشرقی سرحد پر بھی ہم نے تین بار بڑی کشیدگی دیکھی۔ تاریخی حوالہ سے فوجی ترجمان نے بعض اہم واقعات کا حوالہ دیا، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک سال میں 90 سے زائد دہشت گردی کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 2014کے بعد سے پاکستان کی مشرقی سرحد پر 12 ہزار 312 جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔ مسلح افواج نے 1237 بڑے اور معمولی آپریشن کیے اور مغربی سرحد کے ساتھ 46 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ کا علاقہ دہشت گردوں سے پاک کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری عظیم قوم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے ہماری مسلح افواج دہشت گردی کی لہر کو موڑنے میں کامیاب ہوئی۔ 2017 ء میں بڑے پیمانے پر دفاعی صلاحیت بڑھانے کے اقدامات کیے گئے، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مغربی سرحدوں کو جامع طور پر محفوظ بنانے کا وژن پیش کیا۔ ہم نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں فرنٹیئر کور کے لیے 60 سے زائد نئے ونگ بنائے۔

پاکستان نے اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے دیگر اقدامات بھی کیے جن میں ٹیکنالوجی اور نگرانی کو اپ گریڈ کرنا، سیکڑوں سرحدی واچ ٹاور تعمیر کرنا اور سرحد پر باڑ لگانا شامل ہیں۔ اب دو دہائیوں کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے پوری قوم کے نقطہ نظر سے دہشت گردی کی لعنت کا اچھی طرح مقابلہ کیا ہے۔

چین اور ازبکستان سمیت خطہ کے دیگر ممالک سے عسکری تعاون کے حوالے سے سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ان ممالک کی افواج میں کوئی براہ راست رابطے نہیں بلکہ یہ حکومتی سطح پر ہی محدود ہیں۔ تاہم بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر حملے اور نگرانی کے لیے جنگلی جانوروں کے استعمال کی اطلاعات تشویشناک تھیں، لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ دنیا ان کو اتنا نیچے گرنے کا ذمے دار ٹھہرائے گی۔ ہم نگرانی کے ان ذرایع سے آگاہ ہیں اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

پنج شیر میں جنم لینے والی صورتحال کے حوالے سے سوال پر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ صورت حال تیزی سے تبدیل ہو رہی اور کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا تاہم فی الحال خانہ جنگی کا امکان نہیں ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اعلان کیا کہ 6 ستمبر کو یوم دفاع اور شہدا ''وطن کی مٹی گواہ رہنا'' کے ٹیگ کے ساتھ منایا جائے گا۔

ادھر وزیر اعظم عمران خان نے 90 لاکھ پاکستانی تارکین وطن کو قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے ان کی اپنے ملک میں سرمایہ کاری کے راستے میں بڑی رکاوٹ بدعنوانی ہے۔ انھوں نے روشن اپنا گھر پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا 90 لاکھ تارکین وطن کے پاس پاکستان کی جی ڈی پی کے برابر پیسہ ہے، ہماری حکومت بنی تو ہم نے غور کیا اسے کیسے استعمال میں لائیں؟

ہم سمجھتے تھے ہونہار پاکستانیوں کو واپس لائیں گے، بدقسمتی سے انھیں ماحول نہیں دے سکے، یک دم تبدیلی مشکل ہوتی ہے، آہستہ آہستہ کوشش کر رہے ہیں کہ انھیں مراعات دیں تاہم وقت درکار ہے۔ وہ بدعنوانی سے پاک معاشروں میں کام کرنے کے عادی ہونے کے بعد بدعنوان معاشرے میں کام نہیں کر سکتے، کئی پاکستانی یہاں آئے تاہم بددل ہو کر واپس چلے گئے، یہاں وزیر اعظم نے ملک میں کرپشن اور بد انتظامی کی درد ناک صورتحال کا ذکر کچھ ایسے حوالوں سے کیا جو ملکی تعمیر کے لیے ناگزیر ہیں، جو لوگ بددل ہوکر چلے گئے وہ اپنے اپنے وطن کی تعمیر کی محبت سے ہمیشہ سرشار رہیں گے لیکن اس کے لیے لازم رہیگا گا کہ حکومت میرٹ، شفافیت اور انتظامی جوابدہی کے لیے ہمہ وقت تیار اور کرپشن سے پاک رہنے کے عزم کو ہمیشہ قائم رکھے۔

 

مقبول خبریں