مصر معزول صدر مرسی اور دیگر130ملزمان عدالت میں پیش وزارت داخلہ کا سینئر عہدیدار قتل

مرسی اور انکےساتھیوں پرالزام ہے کہ انھوں نے2011میں حسنی مبارک کیخلاف بغاوت کی تحریک کے دوران قیدیوں کو رہا کرا لیا تھا


News Agencies January 29, 2014
معزول صدر کو شیشے کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا، جنرل سعید قاہرہ میں قتل ہوئے، سینا کے علاقے میں گیس پائپ لائن تباہ کردی گئی فوٹو: رائٹرز/فائل

مصر کے معزول صدر محمد مرسی کو سیکیورٹی حکام نے غیر معمولی حفاظتی انتظامات میں عدالت پیش کردیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق منگل کو معزول صدر کو اخوان السلمون کے کارکنوں کے سامنے آنے سے بچانے کے لیے سیکیورٹی فورسز انھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے عدالت پیش کرنے کے لیے لے کر آئیں جبکہ ان کے ساتھ مقدمے کا سامنا کرنے والے 130 ملزمان کو جیل کی خصوصی گاڑیوں میں عدالت منتقل کیا گیا۔ معزول صدر اور ان کے ساتھیوں پر الزام ہے کہ انھوں نے 28 جنوری 2011 کو سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی بغاوت کے دوران جیل توڑ کر قیدیوں کو رہا کرا لیا تھا۔ پراسیکیوٹر نے مرسی پر الزام عائدکیا کہ جیل سے نکلنے والے قیدیوں پر اخوان کے کارکنوں نے حملہ کر دیا تھا۔



عدالت میں انھیں شیشے کے ایک بند کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔ دریں اثناء مصری وزارت داخلہ کے سینئر عہدیدار اور وزیر داخلہ کے دفتر میں تکنیکی امور کے انچارج جنرل محمد سعید کو قاہرہ میں مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ جنرل محمد سعید کی ہلاکت کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ اپنی رہائش گاہ سے دفتر کے لیے نکلے تھے۔ علاوہ ازیں سینا کے علاقے میں گیس پائپ لائن کو دہشت گردوں نے دھماکے سے اڑا دیا، تباہ کی گئی گیس پائپ لائن سے اردن کو گیس فراہم کی جاتی ہے۔

مقبول خبریں