افغانستان چیلنجز خدشات اور امکانات

امریکی انخلاایک اہم تاریخی واقعہ ہے،یہ امریکی ہزیمت اورطالبان کی پیشرفت سے زیادہ خطے کے مفاداورقوم کی بقا کامعاملہ ہے۔


Editorial September 01, 2021
امریکی انخلاایک اہم تاریخی واقعہ ہے،یہ امریکی ہزیمت اورطالبان کی پیشرفت سے زیادہ خطے کے مفاداورقوم کی بقا کامعاملہ ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

افغانستان سے امریکی انخلا مکمل ہوگیا۔ امریکی قبضہ کے بیس سال مکمل ہونے پر اب افغانستان اور طالبان کا مسئلہ نصف النہار پر ہے، ایک اہم سیاسی فیصلے نے دنیا کو متحرک کردیا ہے مگرکوئی چیز واضح نہیں، کیا ہونے جا رہا ہے اورکیا فیصلے ہو رہے ہیں، کیا ان سے افغانستان کی امریکی قبضہ سے آزادی ایک شاندار حقیقت بن کر ابھرے گی ، ابھی دنیا اس معمہ کو دیکھنے کی منتظر ہے۔

امریکی انخلا ایک اہم تاریخی واقعہ ہے، یہ امریکی ہزیمت اور طالبان کی پیش رفت سے زیادہ خطے کے مفاد اور قوم کی بقا کا معاملہ ہے، ابھی تو ثابت ہونا ہے کہ افغانستان کی عالمی قبولیت کی راہ کیسے ہموار ہوگی ، سب کی دعا ہے کہ افغانستان کسی خانہ جنگی کا شکار نہ ہو ، یہی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔

خطے کی صورتحال خاصی ہیجان انگیز ہے، طالبان دنیا سے رابطہ کی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، انھیں اکیلا چھوڑنے پر نہ امریکا تیار ہے اور نہ القاعدہ اور داعش، افغانستان کی جان چھوڑنے کا کوئی ارادہ رکھتی ہیں، ان کی طالبان سے کشمکش پرانی ہے ، بالادستی کی اس جنگ کا ابھی اختتام باقی ہے، القاعدہ اور داعش کے لیے امریکی انخلا ایک دھچکا ہے۔

اسٹریٹجکل تبدیلیاں آسکتی ہیں، خطے کے ایک وسیع علاقے پر پھیلا ہوا دہشت گردانہ نیٹ ورک طالبان کے لیے ایک اعصاب شکن دائرہ ہے، داعش نے گزشتہ دنوں اپنی صفیں درست کرنے کا عندیہ دیا تاہم طالبان کو یقین ہے کہ داعش کے حملے کم ہوجائیں گے، لیکن طالبان قیادت نے کہا ہے کہ '' کالعدم ٹی ٹی پی کا مسئلہ پاکستان کا ہے جو اس نے خود حل کرنا ہے، ہمارا اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔'' اگر صورتحال یہ بنتی ہے تو پاکستان کو بھی انداز فکر اور پالیسی بدلنا ہوگی۔

ٹی ٹی پی کی پرورش اور اس کی قہر سامانیوں کوکس کے کھاتہ میں ڈالا جائے گا ، ابھی بہت سے آپشن آزمائے جائیں گے، طالبان کے حوالے سے مختلف ممالک واضح سوچ، سیاسی حکمت عملی کے فقدان کا شکار ہیں، پاکستان کی فیصلہ کن پوزیشن اس سارے گیم پلان میں واضح کامیابی کے بغیر اپنا معاملہ خطے کے مفاد سے الگ نہیں کریگی۔

ابھی طالبان کو تسلیم کرنے کا معاملہ الجھا ہوا ہے، دنیا افغانستان سے تعلق جوڑنے پر تیار نہیں ہوگی جس کے عزائم ابھی واضح نہیں اور جو عالمی اتحاد سے جڑنے کی خواہش کا اظہار تو کررہی ہے مگر پائیدار امن کے قیام اور افغانستان میں امن و سلامتی کی ایک یقینی حکمت عملی کی بنیاد اور موجودگی کے بغیر کسی کو یقین نہیں آسکتا کہ علاقے میں ایک آزاد افغانستان اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پاکستان سمیت دیگر پڑوسی ملکوں سے کیسا دوستانہ مراسم یا کسی قسم کے عمرانی معاہدہ قائم کرنے کے لیے تیار ہوگا، طالبان پر بہت بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے اسے اپنے تشخص، انتظامی اہداف اور امن و سلامتی کے امکانات کو خدشات اور تنازعات سے پاک کرنا ہوگا۔

ایک صاف ستھری سلیٹ سے نئے رشتے قائم کرنا ہوںگے، بین الاقوامیت درکار ہوگی، انتظامی اساس، خارجہ پالیسی اور داخلی امن وامان کی یقینیت سب اسٹیک ہولڈروں کے لیے یقینی ہو۔ پاکستان کو موجودہ صورتحال میں ایک اہم کردار ادا کرنا ہے، اس نے اپنا کردار نبھایا ہے، اسے اپنی کمٹمنٹس اور دیگر معاملات میں کسی قسم کے مصلحت کو پیش نظر نہیں رکھا۔ اس نے کہا کہ پاکستان کے لیے کوئی خاص نہیں، ضرورت امن کی ہے، وہ ہر صورت حال کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے۔ پینٹاگان نے تصدیق کر دی ہے، کہ آخری پرواز بھی کابل سے چلی گئی ہے۔

جس کے بعد ایئر پورٹ کو طالبان کے حوالے کردیا گیا ہے، جس کا انھوں نے مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کی طرف سے آخری فوجی کے افغانستان سے چلے جانے کے کا اعلان ہوتے ہی طالبان نے دارالحکومت میں قائم اپنی چیک پوسٹوں سے خوشی میں شدید ہوائی فائرنگ کی ۔

دریں اثناء کابل ایئرپورٹ پر پیرکی صبح متعدد راکٹ فائر کیے گئے تاہم امریکا نے کہا ہے کہ اس کے اینٹی میزائل سسٹم نے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی انھیں فضا میں ناکارہ بنا دیا۔ داعش نے راکٹ حملوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ کامیاب حملہ تھا ، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے کہا کہ امریکی صدر کو کابل ایئرپورٹ پر راکٹ حملوں پر بریفنگ دی گئی۔

ادھر افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امید کا اظہارکیا ہے کہ غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد داعش کے حملے ختم ہو جائیں گے ، انھوں نے داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا بھی اعلان کیا۔ میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا امید ہے کہ داعش سے متاثر ہونے والے افراد غیر ملکیوں کی غیر موجودگی میں اسلامی حکومت کی تشکیل کے بعد اپنی کارروائیاں ترک کردیں گے۔

تاہم اگر انھوں نے جنگ کی صورتحال پیدا کی اور اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو ہم ان سے نمٹ لیں گے۔ ڈرون حملے پر امریکا پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایسی کارروائیوں کی اجازت نہیں ہے، ہماری آزادی کا احترام کرنا چاہیے۔ حملہ طالبان کو بتائے بغیر کیا گیا۔ غیرملکی سرزمین پر امریکی کارروائی غیرقانونی تھی۔ اگر افغانستان میں کوئی خطرہ تھا اس کی اطلاع ہمیں دی جانی چاہیے تھی نہ کہ حملہ کرتے جس میں شہری مارے گئے۔

طالبان نے100ممالک کو یقین دہانی کرائی ہے کہ 31اگست کو امریکی انخلا کے بعد بھی وہ غیر ملکیوں اور بیرون ملک سفر کے کاغذات رکھنے والے افغان شہریوں کو ''محفوظ اور منظم انداز میں'' ملک سے جانے دیں گے۔ ان ممالک میں امریکا، فرانس، برطانیہ اور جرمنی شامل ہیں۔ دریں اثنا اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ افغان انخلا کے بعد پناہ گزینوں کا بڑا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ ہائی کمشنر برائے پناہ گزین فلیپوگرینڈی نے کہا کہ افغانستان میں تقریباً تین کروڑ 90 لاکھ لوگوں میں سے تین کروڑ 50 لاکھ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔

ہمسایہ ممالک اپنی سرحدیں ایسے لوگوں کے لیے کھول دیں جو پرتشدد واقعات کے خوف سے وہاں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ دریں اثنا یونیسف کے ریجنل ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا جارج لیریا ادجی نے کہا ہے کہ افغان بچوں کو غذائی قلت اور دیگر مشکلات کا سامنا ہے اور انھیں ان کے حال پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ صورتحال برقرار رہی تو5سال تک کے 10لاکھ بچوں کو شدید غذائی کمی کا سامنا ہو گا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق طالبان نے افغانستان میں پوست کی کاشت پر پابندی عائد کر دی، پنجشیر میں مزاحمتی اتحاد کے ترجمان جمشید دستی نے کہا ہے کہ طالبان اور مخالف اتحاد کے مذاکرات جاری ہیں، ڈیڈلاک نہیں مگر پیشرفت کم ہے۔ سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح نے کہا کہ وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔

افغان طالبان کے قائم مقام وزیر برائے اعلیٰ تعلیم عبدالباقی حقانی نے کہا ہے کہ خواتین کو یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہوگی لیکن مخلوط تعلیم پر پابندی ہوگی۔ اسکولوں میں پرائمری اور سیکنڈری سطح پر بھی لڑکوں اور لڑکیوں کو علیحدہ علیحدہ کیا جائے گا۔ حقوق نسواں کا احترام کریں گے لیکن اسلامی اصولوں اور قوانین کی روشنی میں۔

ادھر روس نے امریکا سے کہا ہے کہ افغان عوام کو مشکلات سے بچانے کے لیے وہ افغان مرکزی بینک کے منجمد شدہ اثاثے فوری طور پر بحال کردے۔ روس کے نمایندہ خصوصی نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو نئی افغان حکومت افیون کی غیر قانونی اسمگلنگ اور امریکا اور افغان آرمی کے چھوڑے ہوئے اسلحے کی بلیک مارکیٹ میں فروخت کی طرف متوجہ ہوجائے گی۔

علاوہ ازیں چین اور امریکی وزراء خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں افغان صورتحال پر گفتگوکی گئی۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا کہ طالبان محفوظ انخلا اور امدادی سامان کی رسائی کو یقینی بنائیں جب کہ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ عالمی برادری طالبان سے رابطہ رکھے اور رہنمائی کرے۔ جلد بازی میں انخلا نے دہشت گردوں کو دوبارہ فعال ہونے کا موقع دیا۔

امریکی ٹی وی سے گفتگو میں امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا کہ طالبان عالمی برادری سے تعلقات کا قیام چاہتے ہیں تو انھیں اپنے وعدے ایفا کرنا ہوں گے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ فرانس افغانستان کے انسانی بحران اور انخلا پر طالبان سے بات کر رہا ہے مگر بات کرنے کا مقصد انھیں تسلیم کرنا نہیں ہے۔

توقع کرنی چاہیے کہ افغانستان میں امن اور طالبان کے سیاسی تدبر اور سیاسی بصیرت سے خطے کو امن، سلامتی، سیاسی آزادی اور انسانی حقوق کے احترام کی اہمیت سے آگاہی ملے گی اور افغانستان قوم کے ساتھ مل کر امن و استحکام کے نئے امکانات سے آشنا ہوگا۔

مقبول خبریں