افغان امن عمل کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو سربراہ مملکت کا منصب سونپا جاسکتا ہے ان کی تقرری پر کم و بیش تمام افغان دھڑے متفق ہوچکے ہیں۔


Editorial September 02, 2021
ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو سربراہ مملکت کا منصب سونپا جاسکتا ہے ان کی تقرری پر کم و بیش تمام افغان دھڑے متفق ہوچکے ہیں۔ فوٹو: فائل

امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ افغانستان میں امریکا کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہوگیا ہے، طالبان کے الفاظ نہیں عمل دیکھیں گے، بیس برس تک افغانستان میں روزانہ 20 کروڑ ڈالر خرچ ہوتے رہے، روس اور چین چاہتے ہیں امریکا افغانستان میں الجھا رہے لیکن ہم نے افغانستان سے نکل کر امریکا کے مفاد میں فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان بھر میں فتح کا جشن جاری ہے، طالبان ذرائع اور افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو سربراہ مملکت کا منصب سونپا جاسکتا ہے ان کی تقرری پر کم و بیش تمام افغان دھڑے متفق ہو چکے ہیں البتہ وزیر اعظم کے لیے کئی نام زیر غور ہیں۔

اس وقت افغانستان کی صورتحال لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہورہی ہے ، اقوام متحدہ ، عالمی طاقتیں اور خطے کے ممالک افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد نئی حکومت کے قیام اور تشکیل کے حوالے سے مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے امریکن قوم سے خطاب میں اپنے فیصلے کو بروقت اوردور اندیشی پر مبنی قرار دیا ہے ، لیکن ان کے اس فیصلے کے اثرات کا تعین آنے والے وقت میں ہی کیا جاسکے گا۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے افغانستان میں جنگ کے دوران خرچ ہونے والی رقم کا بیشتر حصہ قرض لے کر لگایا گیا تھا ، جس کا بوجھ امریکیوں کو نسلوں تک اٹھانا پڑے گا۔ اس طویل جنگ کے دوران خرچ ہونے والی رقم کا جائزہ لیا جائے تو ان 20 برسوں میں کھربوں ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق 2050 تک اس قرض کی رقم پر سود کی مد میں امریکی حکومت 6 کھرب ڈالر سے زائد ادا کرے گی۔ لہذا جوبائیڈن کا فیصلہ صرف اپنے ملکی مفادات کے حوالے سے مثبت قرار دیا جاسکتا ہے ، لیکن دوسری جانب مسئلہ افغانستان کا پائیدار حل تاحال سامنے نہ آنے کی وجہ سے خطے کی صورتحال گومگو کا شکار ہے ۔ ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں افغان حکومت کے خد و خال کیا ہوں گے؟ کیا ایک وسیع البنیاد قومی حکومت کی تشکیل میں افغان طالبان کامیاب ہوجائیں گے۔

کیا حقیقت میں امریکا ، افغانستان کے حالات سے لاتعلق ہونے جا رہا ہے ، جواب نفی میں ہے ،کیونکہ امریکی سپر طاقت کے دفاعی، اسٹرٹیجک اور اقتصادی مفادات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں اور افغانستان و پاکستان کا خطہ تو خاص طور پرگزشتہ صدی کے نصف آخر سے لے کر آج تک اس کی چراگاہ بنا ہوا ہے۔

امریکا کا ہمارے خطے سے وابستہ اگلا مفاد عوامی جمہوری چین کا مقابلہ کرنا ہے ، اس کے لیے تیاریاں دونوں اطراف کی جانب سے جاری ہیں۔ چین میں وہاں کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کی ایک سو سالہ سالگرہ کا جشن مناتے ہوئے اس کے صدر جناب شی جن نے واشگاف الفاظ میں خبردار کیا تھا '' جو بھی ہمارے ساتھ ٹکرانے کی کوشش کرے گا منہ کی کھائے گا'' اس تناظر کو سامنے رکھیے اور اندازہ لگایئے آنے والے دور میں ہمارا خطہ بڑی طاقتوں کے درمیان شروع ہونے والی نئی آمیزش کی کتنی بڑی آماجگاہ بننے والا ہے۔

اس میں پاکستان کا کردار کیا ہو گا ، سوویت یونین کے خلاف جنگ میں پاکستان نے امریکا کا اتحادی ہونے کا کردار ادا کیا تھا ، لیکن اب صورت حال قطعی مختلف ہے۔ پاکستان چین کا بھی گہرا اور قریبی دوست ہے اور امریکا کے ساتھ بھی اچھے یا برے تعلقات کی ایک تاریخ رکھتا ہے۔ نیا جنگی محاذ جو آگے چل کر کھلنے والا ہے ہم دونوں میں سے کس کا کھل کر ساتھ دیں گے اور کس کا نہیں ، کیونکہ چین نے ہر مشکل وقت میں ہمارا کھل کر ساتھ دیا ہے۔

اس وقت بھی سی پیک کا عظیم تعمیراتی منصوبہ اس کے تعاون سے ہماری سرزمین پر زیر تعمیر ہے، امریکا اس پر ناک بھوں چڑھاتا ہے ، جب کہ امریکا کی جانب سے ملنے والی فوجی اور مالیاتی امداد کے ہم روزِ اوّل سے طالب رہے ہیں ۔ اب بھی ہماری لڑکھڑاتی معیشت اس کی جانب امداد طلب نگاہوں سے دیکھ رہی ہے، تو ہم کس کا ساتھ دینے پر مجبور ہوں گے، اگر غیر جانبداری اختیار کریں گے تو وہ کس نوعیت کی ہو گی، یہ ہے وہ اہم اور نازک ترین سوال جو ہمارے حکمرانوں کو لمحہ موجود کے اندر درپیش ہے، واضح جواب مگر مل نہیں رہا۔

امریکی افغانستان کو خالی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں تو کیا اب اپنی تمام تر جنگی صلاحیت اور داخلی قوت کے ساتھ طالبان اس خلا کو پورا کرنے کی صلاحیت و قدرت رکھتے ہیں، بہتر تھا پاکستان اور افغانستان کے دوسرے ہمسایہ ممالک مثلاً چین، ایران اور ترکی مل کر طالبان اور تاجک و ازبک آبادیوں کے درمیان قابل عمل سمجھوتہ کرا دیتے ایسا مگر نہیں ہوا ، لہٰذا خدشہ پایا جاتا ہے کہ طالبان کے حکومت میں آتے ہی امریکا ،طالبان مخالف نسلی فریقوں کو ان کے خلاف بھڑکائے گا یوں نئی خانہ جنگی شروع ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر ایسا ہوا تو اس کے سب سے زیادہ اثرات پاکستان پر مرتب ہونگے ، جس کی افغانستان کے ساتھ 2200 میل لمبی سرحد لگتی ہے، یہ اور دوسرے وہ مسائل جن سے افغانستان کی وجہ سے پاکستان کو سابقہ پیش آ سکتا ہے ۔

کیا طالبان پوری ارض افغانستان پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہیں ، تو اس کا جواب آنے والے وقت میں معلوم ہو جائے گا ،مگر اس وقت طالبان مخالف مرکزی اپوزیشن گروپ کے رہنما کا کہنا ہے کہ کابل کے شمال میں واقع وادی پنج شیر میں پیرکی رات مزاحمتی تحریک کے ساتھ جھڑپوں میں طالبان کے 8 جنگجو مارے گئے، افغان مزاحمتی تحریک کے رہنما احمد مسعود نے فارن پالیسی میگزین کو انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر طالبان جامع حکومت بنانے کے لیے تیار ہیں تو وہ ان کے خلاف مزاحمت ختم کردیں گے۔

افغان طالبان ملک کی اکثریتی پشتون آبادی سے تعلق رکھتے ہیں جو کل کے نصف سے ذرا کم ہے ، بقیہ افغان آبادیاں تاجک ، ازبک شیعہ آبادی اور دیگر نسلوں کی نمایندگی کرنے والے لوگ ہیں۔ 1996 میں جب طالبان پہلی مرتبہ پورے افغانستان پر قابض ہوئے تھے تو ان آبادیوں نے شمالی اتحاد (تاجک) عبدالرشید دوستم کے پیروکاروں (ازبک) اور دیگر چھوٹی بڑی آبادیوں کے ساتھ مل کر ڈٹ کر طالبان کی مخالفت کی تھی۔ نائن الیون کے بعد امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تو ان اقلیتی آبادیوں نے کھل کر امریکیوں کا ساتھ دیا تھا۔ طالبان حکومت کو ختم ہونے میں دیر نہ لگی، پھر طالبان کی تحریک مزاحمت شروع ہوئی جسے بیس برس بعد فتح سے تعبیر کیا جا رہا ہے ۔

افغانستان کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، بھارت نے طالبان سے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے ، بھارتی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے اور امریکی فوج کے انخلا کے بعد پہلی مرتبہ طالبان سے باضابطہ طور پر رابط ہوا ہے۔ یعنی چوری اور سینہ زوری کے مصداق بھارت کا سازشی کردار افغان امن عمل میں بہت بڑی رکاوٹ کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین کو استعمال کیا ہے ،گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان بھر میں دہشت گردی کے جتنے بھی واقعات رونما ہوئے ، انھیں بھارت نے ہی اسپانسر کیا تھا۔ افغانستان کی بد امنی سے براہ راست متاثرہ ہونے والا ملک پاکستان ہے۔

افغانستان کی سرزمین پر پاکستان مخالف دہشت گرد گروہ بھارتی سر پرستی میں سر گرم عمل ہیں۔ پشتون اور بلوچ لسانیت کا زہر بھی افغان سر زمین سے پھیلایا جارہا ہے۔ ان تحفظات کے باوجود پاکستان نے امن مذاکرات کے لیے نیک نیتی سے تعاون کرتے ہوئے حکمت اور برداشت کی روش اختیارکی ہے۔

امریکا اور افغان طالبان کے درمیان جو معاہدہ دوحہ میں طے پایا تھا وہ امن کی جانب پہلا قدم تھا ، جس پر امریکی انتظامیہ کے اہم ترجمانوں نے پاکستان کے مثبت اور کلیدی کردار کی اہمیت کو سراہتے ہوئے تسلیم کیا ہے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان پر لازم ہے کہ سفارتی ذرائع سے امریکا کو بھارت کے منفی کردار پر اپنے تحفظات سے آگاہ کردے، اگر امریکا خطے میں اپنے مفادات کی خاطر بھارت کی دہشت گردی کو نظرانداز کرنے کی پالیسی ترک نہیں کرتا تو پھر پاکستان بھی اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے چین اور روس سمیت علاقائی قوتوں سے تعاون کی پالیسی کو جاری رکھنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

پاکستان نے 1979 سے اب تک اپنے محدود وسائل کے باوجود تقریبا چالیس سے پچاس لاکھ کے درمیان افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے لیکن اپنی موجودہ معاشی صورتحال کی وجہ سے ، پاکستان میں مہاجرین کی آمد کا زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ ماضی کے برعکس اس مرتبہ امریکا کو زمینی یا ہوائی اڈے نہیں دیے جائیں گے، ردعمل کے طور پر امریکا ہمارا گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کرے گا۔

افغانستان کی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ پاکستان کے اراکین پارلیمنٹ درپیش صورت حال اور اس کے اندر مضمر خطرات اور ان کے ایک ایک پہلو کا بھرپور اور خالص قومی و معروضی نقطہ نظر سے جائزہ لیں ، اس کے بعد تمام پارلیمانی جماعتوں کے سرکردہ نمایندگان پالیسی ڈرافٹ تیارکریں ، جس کی آخری منظوری پارلیمنٹ سے حاصل کی جائے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ متفقہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے اپنی افغان پالیسی کو ہم دنیا کے سامنے رکھیں۔

مقبول خبریں