معاشی اہداف

ڈالر کی قدر میں غیر معمولی اضافے نے مستقبل میں معیشت کے حوالے سے پیش گوئی کرنا مشکل بنا دیا ہے۔


Editorial September 03, 2021
ڈالر کی قدر میں غیر معمولی اضافے نے مستقبل میں معیشت کے حوالے سے پیش گوئی کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے بیوروکریسی اور آئی ایم ایف کے تحفظات کے باعث کامیاب پاکستان پروگرام کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس پروگرام کے تحت ملک بھر میں تین کروڑ غریب افراد کو تین سال میں 16 سو ارب روپے کے بلاسود قرضے دیے جانے تھے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو بھی پائلٹ پراجیکٹ کے بغیر عوامی سطح پر قرض فراہمی اور بینک نقصانات کی سو فیصد حکومتی ضمانت پر تحفظات تھے۔کتنی عجیب بات ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت تین برس گزرنے کے باوجود عوامی فلاح کے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے ۔

وزیراعظم سے لے کر وزراء اور مشیروں کی بڑی تعداد ملک کی ترقی وخوشحالی کے بلند بانگ دعوے کرتی نظر آتی ہے، جب حکومتی دعوؤں کا اعدادوشمار کے ذریعے جائزہ لیا جاتاہے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ کچھ ڈھنگ سے کام نہیں ہورہا،اگر کامیاب پاکستان کا تحت بنیادی ہدف غریب طبقات کی حالت زار بدلنے کے لیے قرضہ جاری کرنا ہے تو پھر بنیادی سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس پروگرام کو محدود کرتے ہوئے قرض دہندگان کی تعداد اور اس کا حجم کیوں کم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

سادہ سوال ہے جن تین کروڑ افراد کو قرضہ دیا جانا تھا،ان کا کیا بنے گا ۔ڈالر کی قدر میں غیر معمولی اضافے نے مستقبل میں معیشت کے حوالے سے پیش گوئی کرنا مشکل بنا دیا ہے، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومت کی معاشی ٹیم کے بعض لوگ پاکستان کو آئی ایم ایف کے دوسرے پروگرام کی طرف لے کر جانا چاہتے ہیں۔

تحریک انصاف کے دور میں مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جب کہ ڈالر کی قدر بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جس کی وجہ سے بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دیا ہے۔گزشتہ مالی سال کے اقتصادی سروے کے اجرا کے موقع پر وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا تھا کہ کورونا وائرس کے آغاز کے وقت تقریباً پانچ کروڑ 60 لاکھ افراد برسرِ روزگار تھے جن کی تعداد گھٹ کر تین کروڑ 50 لاکھ پر آ گئی ہے یعنی تقریباََ 2کروڑ افراد بے روزگار ہوئے۔

بے روزگاری کو کم کرنے کے لیے حکومتی منصوبے اور دعوے تاحال حقیقت کا روپ نہیں دھارسکے ہیں،حالانکہ و زیر اعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے کے بعد نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا۔عام آدمی کیا سوچتا ہے بظاہر حکومت اِس حوالے سے لاعلم محسوس ہوتی ہے، معاشی ماہرین حکومتی کارکردگی سے کسی طور خوش نہیں خود وزیر اعظم بھی اپنی ٹیم کی ناتجربہ کاری کا اعتراف کرتے ہیں پھر بھی لوگ خوشحال ہو رہے ہیں کا دعویٰ کیونکر کیا جاتا ہے کیونکہ دستیاب اعدادو شمارخوشحالی کے دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ ترسیلاتِ زر میں اضافے کو حکومتی کامیابی نہیں کہہ سکتے جیسے جیسے تارکین وطن کی تعداد بڑھ رہی ہے اسی رفتار سے رقوم بھی زیادہ آرہی ہیں۔

طرفہ تماشہ یہ کہ حکمران جس چیز کا نوٹس لیتے وہ چیز ہی بازار سے ناپید ہوجاتی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں اب بھی مختلف قسم کے مافیا کاراج ہے اور اُن کا زورتوڑا نہیں جا سکا،اسی لیے وہ آٹے،چینی،پیٹرول جیسے بحران پیداکرنے پر قادر ہیںجو حکومتی رٹ اور گورننس کی کمزوری ہے اِس میں ابہام نہیں کہ ملک خوراک میں خود کفیل نہیں رہا۔

چاہیے تو یہ تھا کہ حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے زرعی رقبہ اور پیداوار بڑھانے پر توجہ دی جاتی اُلٹاحکومت نے ہاؤسنگ کالونیوں کی حوصلہ افزائی شروع کر دی ہے جس سے اضافہ تو ایک طرف نہ صرف موجودہ زرعی رقبہ بھی کم ہورہا ہے بلکہ ٹڈی دل ودیگر موسمی وبائیںپیداوار پر اثر انداز ہورہی ہیں جس کی بنا پر زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم وچینی بھی درآمد کرنے پر مجبور ہیں، یہ ایسی ناکامی ہے جو معیشت کو مزید کمزور کرنے کا باعث ہے۔

اہم سرکاری عمارات کو تعلیمی اِداروں میں بدلا نہیں جا سکا نہ ہی حکمرانوں کے اطوار سے سادگی جھلکتی ہے۔ وزیر اعظم لاکھوں کی تنخواہ اور دیگر مراعات کے باوجود پریشان ہیں مگر چند ہزارماہانہ آمدن والاعام آدمی کیسے گزر بسر کرتا ہے شاید وہ لاعلم ہیں۔ آج بھی ملک کوبجٹ خسارے کا سامنا ہے گردشی قرضہ کھربوں میں پہنچ چکا ہے ۔

حرف آخر ان سطور کے ذریعے حکومت سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ معیشت کی بحالی کے بلند بانگ دعوے کرنے کے بجائے عوام کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنے والی اشیاء کی قیمتیں کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

مقبول خبریں