طالبان کے مثبت بیانات

طالبان کی سیاسی سرگرمیوں نے معنی خیز پیش رفت شروع کردی ہے۔


Editorial September 04, 2021
طالبان کی سیاسی سرگرمیوں نے معنی خیز پیش رفت شروع کردی ہے۔ فوٹو: فائل

طالبان کی سیاسی سرگرمیوں نے معنی خیز پیش رفت شروع کردی ہے، طالبان نے ایران کے طرز حکومت کو پسند کیا ہے ، اس ضمن میں جلد اعلان ہونا والا ہے، محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی نظام کی اصطلاح میں ایک بند افغانستان آہستہ آہستہ کھل کر سامنے آرہا ہے ، ان کی طرف سے جاری بیانات مثبت ہیں، پاکستان نے ان کا خیر مقدم کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طالبان نے زیتون کی شاخ دنیا کے سامنے رکھی تو کوئی وجہ نہیں کہ امن ، دوستی اور مفاہمانہ پیغام عالمی اسٹیک ہولڈرزکے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہوسکتے ہیں۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ طالبان کو کشمیر سمیت کہیں بھی مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنے کا حق ہے۔ افغانستان کی تعمیرنو کے لیے چین سے مدد لیں گے، روس سے بھی مضبوط تعلقات کے خواہاں ہیں۔

دوسری طرف امریکا نے داعش کے خلاف طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عندیہ دے دیا، امریکی جنرل مارک ملی نے پریس کانفرنس میں کہا طالبان ماضی میں ایک بے رحم گروہ تھا ، اب اس میں کوئی تبدیلی آئے گی، یہ وقت ہی بتائے گا، مستقبل میں اس بات کا امکان ہے کہ امریکا داعش کے خلاف کارروائیوں میں طالبان کی مدد لے گا، جنگ میں ضروری نہیں وہی ہو جو آپ چاہتے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع جنرل لائیڈ آسٹن کا کہنا تھا کہ طالبان سے مستقبل میں تعاون لینے کے حوالے سے فی الحال وہ کوئی پیشن گوئی نہیں کر سکتے، طالبان کے ساتھ محدود سطح پر رابطہ ہے اور مستقبل کی طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات کا لائحہ عمل آنے والے دنوں میں تیار کیا جائے گا۔ امریکی سفارتی مشن کو دوحہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

وزیرِ دفاع لائڈ آسٹن نے کہا کہ امریکی فوجیوں کے انخلا کا مشن تاریخی اور بے باک تھا۔13 امریکی فوجیوں کے خاندانوں سے تعزیت کرتے ہیں اور آنے والے دنوں اور سالوں میں ان کی مدد کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اگلے ہفتے خلیجی ممالک کا دورہ کروں گا تاکہ وہاں اپنے شراکت داروں کا شکریہ ادا کر سکوں جنھوں نے افغانوں کو پناہ دینے اور محفوظ رکھنے میں ہماری مدد کی ہے۔

طالبان نے بارودی سرنگیں صاف کرنیوالے بڑے برطانوی خیراتی ادارے ہالو ٹرسٹ کو افغانستان میں اپنا مشن بحال کرنے کی اجازت دے دی ہے اور ادارے نے ایک ہزار ملازمین کے ساتھ دوبارہ کام کا آغاز کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میںکھانے پینے کی اشیا کا ذخیرہ رواں ماہ ختم ہو سکتا ہے، اس لیے 20 کروڑ ڈالرز کی فوری ضرورت ہے۔ سیکریٹری جنرل نے کہا ہر 3 میں سے ایک افغان شہری یہ تک نہیں جانتا کہ اسے اگلے وقت کا کھانا کہاں سے ملے گا۔

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق افغانستان میں شدید خشک سالی اور جنگ کی بدحالی نے ہزاروں خاندانوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبورکردیا ہے، علاوہ ازیں افغانستان سے فلاحی تنظیم نوزاد کے 200 جانور برطانیہ پہنچ گئے، یورپین کونسل کے صدر چارلس مچل نے کہا ہے کہ افغانستان سے انخلا کے بعد یورپی یونین کو فیصلہ سازی میں خود مختار ہونے کی ضرورت ہے۔

قونصل جنرل گھانا کے مطابق افغانستان میں پھنسے اپنے باشندے کو بحفاظت نکال کر پاکستان پہنچا دیا ہے جب کہ کابل ہوائی اڈے سے آخری امریکی دستے کے انخلا کے تھوڑی دیر بعد قندھارکی سڑکوں پر طالبان فورسز دیکھی گئی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی افریقا نے افغانستان سے پاکستان جانے والے افغان مہاجرین کو اپنے ملک لانے سے معذرت کرلی ہے ۔ طالبان کے سینئر رکن انس حقانی نے امریکی فوج پر طیارے، ہیلی کاپٹر اور آلات تباہ کرنے پر غصہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں نے جان بوجھ کر افغانستان سے انخلا سے قبل ہمارے قومی اثاثے تباہ کر دیے۔

انسداد دہشت گردی کے ماہرین نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی نئی حکومت کو درپیش مشکلات میں دولت اسلامیہ خراسان کی پیش قدمیاں ایک بڑا چیلنج ثابت ہوں گی۔ تاہم، ملک سے مغربی فورسز کے پیچھے ہٹنے پر طالبان کے حوصلے بلند ہیں اور وہ پر اعتماد ہیں کہ طالبان دولت اسلامیہ خراسان کو ملک سے نکال باہر کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ طالبان اپنے مخالفین کو ایسے ہی ختم کر دیں گے جیسے انھوں نے نیٹو افواج کو ملک سے نکلنے پر مجبور کیا۔

چند تجزیہ نگاروں کے مطابق، طالبان اور دولت اسلامیہ خراسان کے درمیان جنگ، دو شدت پسند جہادی گروہوں کے درمیان خونی اور بے رحمانہ کھیل بن سکتا ہے۔ ادھر افغانستان سے نکلنے والے آخری امریکی فوجیوں کی تصاویر جاری کردی گئیں ، یہ فوجی گلوب ماسٹر تھری طیارے پر سوار ہو کر کویت روانہ ہوئے تھے۔

امریکی انخلا کے بعد طالبان کی عملداری میں کابل ایئرپورٹ پر پہلے جہاز کی لینڈنگ، آپریشن کی بحالی پر بات چیت کے لیے قطر ایئر لائنز کا طیارہ تکنیکی ٹیم کو لے کر کابل ایئرپورٹ پہنچ گیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی بکتر بند گاڑیوں کی ٹرکوں پر افغانستان سے ایران اسمگلنگ، ایران منتقل ہونے والی گاڑیوں اور آلات کی قسم اور مقدار اور ان کی آخری منزل کا پتہ نہیں چل سکا، افغان وزارتِ دفاع کے سابق قائم مقام بسم اللہ محمدی نے ٹویٹر پیج پر ان میں سے ایک تصویر پر تبصرہ میں ایران پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ افغانستان کے برے دن جلد ختم ہوں گے۔

ادھر برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب پاکستان کا دو روزہ دورہ کر رہے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے ساتھ ملاقات میں افغانستان کی صورتحال اور دو طرفہ تعلقات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرینگے۔ برطانوی وزیر خارجہ قیادت کی سطح پر بھی ملاقات کرینگے۔ طالبان عالمی برادری سے تعلقات کی بہتری کی پوری کوشش کریں گے، افغانستان کی ترقی کا مستقبل چین کے ہاتھوں میں ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دوران انٹرویو اطالوی حکومت سے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔

وادی پنجشیر میں مسلح مزاحمت نے افغان امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے جسے کچلنا ناگزیر ہوگیا ہے۔ خواتین کے یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے پر کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی۔ بین الاقوامی پروازوں کی بحالی میں وقت درکار ہے۔

ایک اطالوی اخبار میں شایع ہونے والے انٹرویو میں ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان کی ترقی کا مستقبل چین کے ہاتھوں میں ہے، چین افغانستان کا پڑوسی بلکہ سب سے اہم شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔ اس نے افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کی حامی بھری ہے، نیا افغانستان اپنی معیشت کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے چین کی مدد لے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ون بیلٹ ون روڈ خطے سے گزرنے والے سلک روڈ کی بحالی کا سنگ میل ہے۔ افغانستان میں تانبے کے وافر ذخائر ہیں۔ تانبے کے ذخائر کو چینی دوستوں کی مدد سے افغانستان کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ہم چین کو عالمی منڈی تک رسائی کا پاسپورٹ سمجھتے ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان روس کے ساتھ بھی مضبوط سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔ روس نے عالمی امن کے قیام کے لیے طالبان کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں افغانستان کی تمام دولت جنگوں پر خرچ کی گئی، اب افغانستان میں تعمیر نو کا آغاز ہونے جا رہا ہے، طالبان عالمی برادری سے تعلقات کی بہتری کے لیے پوری کوشش کریں گے، ہمیں بین الاقوامی برادری کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔ طالبان کو خواتین کو عمل کی آزادی دینا ہوگا، طالبان نے کہا کہ خواتین افغان سوسائٹی کی ناقابل تسخیر ہیرو ہیں لیکن یہ حقیقت انھیں اپنے عمل سے ظاہر کرنا ہوگی۔

مقبول خبریں