ٹیلی نار انٹرنیشنل کلیئرنگ ہاؤس سے الگ ہوگیا

پالیسی پرعمل ہوا نہ انٹرنیشنل ان کمنگ ریٹ کا تعین، کمپنی کو 2.2 ارب کا نقصان اٹھانا پڑا


Business Reporter January 30, 2014
کئی بار تشویش ظاہر کی، آئی سی ایچ بننے کے بعد گرے ٹریفک بڑھی، کاروبار متاثر ہوا، اسلم حیات۔ فوٹو: فائل

ٹیلی نار پاکستان کے ذیلی ادارے ٹیلی نار ایل ڈی آئی کمیونیکیشنز پرائیوٹ لمیٹڈ (ٹی ایل سی) نے 25 جنوری 2014 سے انٹرنیشنل کلیئرنگ ہائوس (آئی سی ایچ) سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔

کمپنی کے اعلامیے کے مطابق ٹیلی نار کو بھاری نقصان کے باعث یہ قدم اٹھانا پڑا جس کے بارے میں ٹیلی نار نے متعلقہ حکام سے متعدد مرتبہ تشویش کا اظہارکیا۔ ٹیلی نار ایل ڈی آئی کمیونیکیشنز پرائیوٹ لمیٹڈ نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے احکام پر عمل پیرا ہوتے ہوئے 13اگست 2012کوآئی سی ایچ میں شمولیت اختیار کی۔ اس پالیسی کے مطابق موبائل آپریٹرز کو انٹرنیشنل ان کمنگ )ایم ٹی آر آئی) کے لیے موبائل ٹرمنیشن ریٹ تجویز کیے گئے۔کمپنی کے مطابق اس پالیسی پر موثر انداز میں عمل درآمد نہیں کیا گیا اور ایک سال گزرنے کے باوجود موبائل ٹرمنیشن ریٹ برائے انٹرنیشنل ان کمنگ (ایم ٹی آر آئی ) ٹریفک ٹرانسمیشن کا تعین نہیں کیا گیا اور نہ ہی موبائل آپریٹرز میں تقسیم کیا گیا، ٹیلی نار انٹرپرائز کو آئی سی ایچ کے قیام اور ٹوٹل اکائونٹنگ ریٹ /ایکسس پروموشن چارج بڑھنے کے بعد 2 ارب20کروڑ روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

 photo 2_zpsc363e3f8.jpg

اس بار ے میں ٹیلی نار پاکستان کے وائس پریذیڈنٹ کارپوریٹ افیئرز محمد اسلم حیات نے کہا کہ گرے ٹریفک کا مسئلہ ملکی معیشت اور ٹیلی کام آپریٹرز کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے اور ہم نے گرے ٹریفک کو کم کرنے کے لیے ریگولیٹرکے ساتھ مل جل کر کام کیا، بدقسمتی سے آئی سی ایچ کے قیام اور ٹوٹل اکائونٹنگ ریٹ / ایکسس پروموشن چارج بڑھنے کے بعد سے گرے ٹریفک میں بے پناہ اضافہ ہوا جس کے باعث ہمارے کاروباراور ایک مستحکم کاروباری ادارے کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہوئے، آئی سی ایچ میں شامل رہنا ہمارے لیے بالکل بھی سازگار نہیں تھا لیکن ہم اب بھی حکومت اور پی ٹی اے کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ وہ گرے ٹریفک کم کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں۔

واضح رہے کہ موبائل آپریٹرز کے نیٹ ورک پر 90 فیصد سے زائد انٹرنیشنل ان کمنگ ٹریفک ٹرمنیٹ ہوتا رہا ہے، آئی سی ایچ کے اطلاق کے بعد یہ ٹرمنیشن تمام آپریٹرز کے لیے اوسطاً75فیصدکم ہو گئی جس کے باعث آمدنی میں منفی اثر پڑا،آئی سی ایچ کے اطلاق کے بعد انٹرنیشنل ان کمنگ ٹریفک ماہانہ 1ارب 80کروڑ منٹ سے کم ہو کر صرف50کروڑ منٹ رہ گئی جبکہ اس کا ان کمنگ انٹرنیشنل ٹریفک پر موبائل ٹرمنیشن ریونیو ماہانہ 1 ارب 60کروڑ روپے سے 45کروڑ روپے کی سطح پر آگیاہے۔