ریفنڈ کا 30 ماہ سے منتظر ایکسپورٹر آرٹی او ٹو کے جھانسے میں آگیا

وزیرخزانہ سے شکایت پرحکام نے تصفیے کا بتاکرچیئرمین ایف بی آرکوآگاہ کرنے کوکہا


Ehtisham Mufti January 30, 2014
ہدایت پرعمل کے بعد دفتر بلاکر کہا ’آپ کا ریفنڈ نہیں بنتا‘ احتجاج پر میموجاری کردیا،ذرائع۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کوسیلزٹیکس ریفنڈ عدم ادائیگی کی شکایت کرنے والا ایکسپورٹر ریجنل ٹیکس آفس کے عتاب کا شکار ہوگیا۔

ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ کراچی چیمبر آف کامرس کے ایک سابق صدر سعید شفیق نے رواں ماہ ہی دورہ کراچی کے موقع پر وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے ریجنل ٹیکس آفس کراچی ٹو میں گزشتہ 30 ماہ سے پھنسے ہوئے اپنے 34 لاکھ روپے مالیت کے سیلزٹیکس ریفنڈ کے عدم اجرا کی شکایت کی تھی جس پر وزیرخزانہ نے چیئرمین ایف بی آر سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فوری طور پر حل کرانے کی ہدایت کی اور دوسرے دن ہی آرٹی او ٹو کے متعلقہ حکام نے متاثرہ برآمدکنندہ سے ازخود رابطہ کرکے انہیں آرٹی او دفتر پہنچنے کی استدعا کی اور متعلقہ کمشنرساجداللہ صدیقی نے چیئرمین ایف بی آر کے سامنے پیش ہونے سے قبل ہی انہیں بتایا کہ ان کا سیلزٹیکس ریفنڈ کا مسئلہ حل ہوگیا ہے لہٰذا اب وہ چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات کے دوران بتائیں کہ ان کے پھنسے ہوئے سیلزٹیکس ریفنڈ کے معاملات متعلقہ کمشنر کے ساتھ طے پاگئے ہیں لہٰذا اب انہیں آرٹی او سے کوئی شکایت نہیں ہے۔

 photo 6_zpsac66e712.jpg

متعلقہ کمشنر کی ہدایات کے مطابق متاثرہ برآمدکنندہ نے چیئرمین ایف بی آر کے سامنے اپنے موقف بیان کردیا لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ شکایت کنندہ کو تیسرے دن ہی ریجنل ٹیکس آفس ٹو کے کمشنر ودیگر افسران نے طلب کرکے بتایا کہ وہ ایس آر او نمبر 190 مجریہ2002 اور ایکسپورٹ پالیسی مجریہ 2000 کے تحت دائرکردہ سیلزٹیکس ریفنڈ کے مستحق ہی نہیں لہٰذا انہیں کوئی ریفنڈ جاری نہیں کیا جاسکتا۔ ذرائع نے بتایا کہ آرٹی او حکام نے اعلیٰ سطح پر اس شکایت سے جان چھڑانے کے لیے مذکورہ ایس آراو اورایکسپورٹ پالیسی کی شقوں کی غلط تشریح کی جس پر متاثرہ برآمدکنندہ نے احتجاج کیا تو آرٹی او ٹو کی جانب سے انہیں ایک میمو جاری کیا گیا۔

متاثرہ برآمدکنندہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے رائج قوانین کے مطابق افغانستان کے لیے 2 کروڑ25 لاکھ روپے مالیت کی ٹن پلیٹس برآمد کی تھیں جس پر انہوں نے سال2009 میں جاری ہونیوالے ایس آر اوکے تحت 30 ماہ قبل سیلزٹیکس ریفنڈکا کلیم داخل کرایا لیکن متعلقہ آرٹی او حکام ریفنڈ کے اجرا میں پس وپیش سے کام لے رہے ہیں، متاثرہ برآمدکنندہ کی اعلیٰ سطح پر اس شکایت کا تاحال کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہوسکا البتہ شکایت کنندہ برآمدکنندہ آرٹی او کی بیوروکریسی کے چنگل میں پھنس گیا ہے جو من پسند انداز میں قوانین کی تشریح کرتے ہوئے شکایت کنندہ کو ہراساں کرنے میں مصروف عمل ہیں۔

مقبول خبریں