افغانستان میں حالات کا رخ کدھر جا رہا ہے

توقع ہے کہ جو بھی حکومت سامنے آئے گی اس میں حقیقی جامع شمولیت ہوگی


Editorial September 06, 2021
توقع ہے کہ جو بھی حکومت سامنے آئے گی اس میں حقیقی جامع شمولیت ہوگی

آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے کابل کا اہم دورہ کیا اور طالبان رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔ افغان شوریٰ کی دعوت پر آئی ایس آئی چیف کے ساتھ اعلیٰ سطح کا وفد بھی کابل گیا ہے۔ میڈیا نے ذرایع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس دورے کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت، سیکیورٹی اور دیگر اہم دوطرفہ امور پر بات چیت کی گئی۔

کابل میں پاکستانی سفیرمنصور علی خان اور ان کی ٹیم سے ملاقات میں افغانستان سے غیرملکیوں کے انخلا، پاکستان سے راہداری کے معاملات، پاک افغان سرحد کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ طالبان نمایندوں سے ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی نے غیر ملکی اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے پاکستان کے ذریعے وطن واپسی، ٹرانزٹ کے ذریعے زیر التواء درخواستوں کے مسئلہ پر بات چیت کی اور افغانستان میں موجود حکام کے ساتھ مفاہمت کے ذریعے طریقہ کار کا تعین کرنے پر غور کیا اور کہا گیا کہ ایسا میکنزم بنایا جائے جس کے ذریعے انھیں پاکستان آنے کی اجازت دی جا سکے۔

ذرایع کے مطابق پاکستان سے سہولتوں کی فراہمی کے لیے متعدد ممالک نے درخواست کی ہے۔ ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ بارڈر مینجمنٹ کی جائے خاص طور پر ان افغان شہریوں کے لیے جو روزانہ کی بنیاد پر آتے جاتے ہیں جب کہ مغربی ذرایع ابلاغ کی رپورٹیں جو مہاجرین کی بڑی تعداد کی آمد کی خبریں دیتے ہیں وہ غلط ہیں۔ دورے کے دوران مجموعی سلامتی کے مسئلے پر بھی بات چیت کی گئی اور یہ اتفاق کیا گیا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ فساد پیدا کرنے والے اور دہشت گرد تنظیمیں موجودہ صورتحال کا فائدہ نہ اٹھائیں۔

ذرایع کے مطابق پاکستان افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پیش پیش ہے اور آئی ایس آئی چیف کا دورہ کابل انھی کوششوں کا حصہ ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل فیض حمید نے کہا ہم نے افغانستان میں امن کے لیے کام کیا ہے اور مستقبل میں بھی امن کے لیے کام جاری رکھیں گے۔ ہمارے دورے سے پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں ہے۔ واضح رہے کہ جنرل فیض حمید متحدہ عرب امارات اور قطر کے حکام کے بعد تیسرے غیرملکی عہدیدار ہیں جو طالبان قیادت سے ملاقات کے لیے کابل پہنچے ہیں۔

ادھر گزشتہ روز ملا عبدالغنی برادر نے یقین دلایا کہ افغانستان کے تمام گروپوں کو متوقع حکومت میں نمایندگی دی جائے گی۔ طالبان تاحال عبوری حکومت تشکیل نہیں دے سکے' البتہ طالبان قیادت پرامید ہے کہ جلد حکومت تشکیل پا جائے گی۔ طالبان کے معاون ترجمان بلال کریمی کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کا اعلان جلد کردیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بننے والی نئی حکومت کی کوشش ہوگی کہ امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے جائیں۔تعلقات برابری کی بنیاد پر استوار کیے جائیں گے۔

افغان میڈیا کے مطابق طالبان کی طرف سے پنجشیر میں فتح یابی کے دعوے پر کابل میں ہونے والی ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک اور41 زخمی ہوگئے ہیں۔ ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ٹویٹ میں طالبان جنگجوؤں کو ہدایت کی ہے کہ اللہ کا شکر ادا کریں، ہوائی فائرنگ سے گریز کریں جو ہتھیار اور گولہ بارود آپ کے ہاتھ میں ہے اسے ضایع کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے، بلا ضرورت گولی نہ چلائیں۔ پنجشیر میں طالبان کے خلاف مزاحمت کرنے والی فورس کے سربراہ احمد مسعود کا کہنا ہے کہ پنجشیر کے عوام اپنے حقوق کے لیے لڑنے سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انھوں نے کہا پنجشیر میں مزاحمت اب تک مضبوطی سے جاری ہے۔افغانستان میں وادیٔ پنجشیرمیں اتوار کو بھی جھڑپیں ہونے کی اطلاعات ہیں۔طالبان کے معاون ترجمان بلال کریمی نے گزشتہ روز دعویٰ کیا کہ پنج شیر کے مشرقی علاقے اب طالبان کے کنٹرول میں ہیں، سب سے بڑے ضلع پریان میں بھی امن بحال ہوچکا ہے، وادی کا مغربی ضلع شُوتل پہلے ہی سے طالبان کے ہاتھ آچکا ہے،اسی طرح کپیسا کے راستے ضلع انابہ بھی طالبان کے زیر کنٹرول ہے، طالبان اب صوبائی صدرمقام بازارک میں برسرپیکار ہیں۔بلال کریمی کے مطابق وادی طالبان کے سخت محاصرہ میں ہے اور مخالفین کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔طالبان فورسز اس کے کچھ علاقوں میں داخل ہو گئی ہیں ۔

افغانستان کے صوبہ لوگر کے ترجمان عاکف مہاجر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے انخلاء کے دوران کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کو 350 ملین ڈالر کا نقصان پہنچایا ۔انھوں نے اپیل کی ہے کہ ہوائی اڈے کو پرواز کے قابل بنانے کے لیے بین الاقوامی برادری کو ہماری مدد کرنی چاہیے۔انھوں نے یہ باتیں کرزئی ایئرپورٹ پر الفتح بریگیڈز کو حفاظتی اقدامات سونپنے کی تقریب کے دوران مقامی اورعالمی میڈیاسے غیر رسمی گفتگومیں کیا۔

عاکف نے کہا کہ امریکی افواج نے ہوائی اڈے کے سازوسامان اورحساس اشیاء کو نقصان پہنچایا ۔یہ وہ فاتح بریگیڈز جو خودکش حملوں کے لیے بدنام ہے' اب اس بریگیڈ کو ہوائی اڈے کی رہنمائی سے نوازا گیا ۔واضح رہے کہ کابل ایئرپورٹ کے علاوہ جلال آباد اور دیگر ہوائی اڈے اور رن وے اب الفتح بریگیڈ اور بدری بریگیڈ کی نگرانی میں ہیں۔دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ امریکا افغانستان میں نئی حکومت کو تسلیم کرنے سے قبل یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ طالبان حکومت کیسے بنتی اور وہ کیا پالیسیاں اپناتی ہے۔

توقع ہے کہ جو بھی حکومت سامنے آئے گی اس میں حقیقی جامع شمولیت ہوگی۔امید ہے کہ نئی افغان حکومت اپنے وعدے پورے کرے گی جو انھوں نے سفری آزادیوں، دہشت گردوں کو افغان سرزمین کے استعمال سے روکنے اور خواتین اور اقلیتوں کے حوالے سے کیے ہیں۔گوگل نے افغانستان کی حکومت کے متعدد ای میل اکاؤنٹس کو عارضی طور پر بلاک کر دیا ہے۔مختلف رپورٹوں میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ بائیو میٹرک اور افغان پے رول ڈیٹا بیس کو نئے حکمران اپنے مخالفین کی تلاش کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

افغانستان میں طالبان کی آمد کے بعد موسیقی خاموش ہوگئی ہے اور آرکسٹرا کے تمام ارکان غائب ہوچکے ہیں۔سربراہ زہرہ موسیقی بینڈ کا کہنا ہے کہ طالبان نے ان کے ادارے میں کام کرنے والے ملازمین جن میں خواتین بھی شامل ہیں کو کام سے روک دیا ہے۔ کابل میں خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرین نے صدارتی محل میں داخل ہونے کی کوشش کی ہے۔ لیکن طالبان فورسز نے انھیں روک دیا ،مظاہرین نے الزام عائد کیا ہے کہ طالبان نے انھیں روکنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی ہے۔

افغانستان میں 20 سالہ جنگ کے دوران تقریباً 33 ہزار بچے ہلاک اور معذور ہو چکے ہیں جن کی اوسط ہر 5 گھنٹے میں ایک بچہ بنتی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ''سیو دی چلڈرن'' کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی نیوز ایجنسی نے بتایا یہ جنگ بچوں پر مسلط کی گئی تباہ کن جنگ کی ایک مہلک قیمت ہے۔ سیو دی چلڈرن کا صدر دفتر لندن میں ہے۔

تنازعہ میں براہ راست ہلاک بچوں کی اصل تعداد اندازہ لگائے گئے32ہزار 945بچوں سے کہیں زیادہ ہو گی اور اس تعداد میں وہ بچے شامل نہیں ہیں جو اس عرصے میں بھوک ، غربت اور بیماری سے ہلاک ہوئے۔سیو دی چلڈرن کے علاقائی ڈائریکٹر برائے ایشیا حسن نور نے بتایا کہ 20سال کے بعد جو بچا ہے وہ بچوں کی ایک ایسی نسل ہے جن کی پوری زندگی جنگ کی مشکلات اور اثرات سے متاثر ہوئی ہے ۔

افغانستان میں کیا ہو رہا ہے' اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے کیونکہ وہاں حالات مختلف سمتوں کی طرف جا رہے ہیں۔ کہیں لڑائی ہو رہی ہے اور کہیں افراتفری کا سماں ہے۔ البتہ ایک مثبت پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ کابل میں کرکٹ میچ ہوا ہے اور شائقین کی بڑی تعداد نے اسٹیڈیم میں میچ دیکھا ہے۔کابل میں ایک کرکٹ میچ کے دوران طالبان اورافغانستان کے پرچم ایک ساتھ لہرائے گئے۔

کابل انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں پیس ڈیفینڈرز اور پیس ہیروز کی ٹیموں کے درمیان ٹی ٹونٹی ٹرائل میچ کھیلا گیا۔میچ کے دوران دیکھاگیاکہ کچھ تماشائیوں کے ہاتھ میں طالبان کے پرچم تھے جب کہ بعض شائقین نے افغانستان کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔گزشتہ ماہ طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد یہ پہلا کرکٹ میچ کھیلا گیاہے۔میچ کے دوران مسلح طالبان جنگجوتماشائیوں کوسیکیورٹی دینے کے ساتھ ساتھ میچ بھی دیکھتے رہے۔

مقبول خبریں