بلدیاتی انتخابات اور الیکٹرونک ووٹنگ پر عدم اتفاق

ارباب اختیار جلد ادراک کریں کہ عدم اتفاق نے تقریباً ہر شعبہ ہائے سیاست کو متاثر کیا ہے۔


Editorial September 08, 2021
ارباب اختیار جلد ادراک کریں کہ عدم اتفاق نے تقریباً ہر شعبہ ہائے سیاست کو متاثر کیا ہے۔ فوٹو: فائل

ایک اطلاع کے مطابق سینیٹ قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور میں الیکٹرونک ووٹنگ پر حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو مطمئن نہیں کیا جا سکا۔ دوسری طرف بلدیاتی الیکشن انعقاد پر بھی سوالیہ نشان لگا ہے۔ سینیٹر تاج حیدرکی سربراہی میں قائمہ کمیٹی پارلیمانی امورکا اجلاس ہوا ، علی محمد خان ، اعظم سواتی ، شبلی فراز ، فاروق ایچ نائیک و دیگر نے شرکت کی۔

وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے بتایا یہ مشین کنٹرول یونٹ پر مشتمل ہوگی جو اسے چلائے گی،کنٹرول یونٹ مشین کا بنیادی حصہ ہے، یہ مشین کسی بھی حلقے میں 200 امیدواروں کے لیے کافی ہے، بٹن دباتے ہی ایل ای ڈی بلب جلے گا اور ایک آواز آئے گی جو ووٹ ڈالنے کی تصدیق ہوگی، ووٹر کو ایک تصدیقی رسید مشین سے نکل کر ملے گی جو ووٹر بیلٹ باکس میں ڈال دے گا۔

شبلی فراز نے اظہار خیال کرتے ہو ئے کہا یہ مشین شفاف اور موثر ہے، الیکشن ہمیشہ متنازع رہتے ہیں، اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی حل نہیں، فاروق ایچ نائیک نے کہا پریزائیڈنگ افسر اگر جعلی ووٹر کو اندر آنے دے تو پھر کیا ہوگا؟ تین فیصد ایسے لوگ ہیں جن کے انگوٹھے کا نشان ویری فائی نہیں ہوتا، جرمنی، برطانیہ نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال روک دیا، جب تک تمام اسٹیک ہولڈرز ایک پیج پر نہیں آجاتے اس مشین پر بھروسہ کرنا اگلے انتخابات میں مزید مسائل کھڑے کرے گا۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کیا حکومت کا اختیار تھا اس مشین پر کام کرتی؟ کیا یقین سے کہہ سکتے ہیں یہی مشین الیکشن میں استعمال ہوگی، حکومت کے بجائے الیکشن کمیشن کو بریفنگ دینی چاہیے۔

دوسری طرف الیکشن کمیشن نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب ، وزیر بلدیات ناصر شاہ کمیشن میں پیش ہوئے۔

ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال نے بتایا کہ تیس اگست 2020 کو سندھ بلدیاتی حکومت کی مدت ختم ہوئی الیکشن کا انعقاد 120 روز کے اندر لازم ہے مردم شماری کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔ سندھ حکومت نے اسے چیلنج کیا، سندھ حکومت نے کہا کہ بلدیاتی قانون میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں 23 اگست کو سندھ حکومت نے کہا کہ انھیں مردم شماری نتائج پر تحفظات ہیں ، اس پر اپیل کی ہے نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت ہے۔

الیکشن کمیشن کی آئینی اور قانونی ذمے داری ہے کہ لوکل حکومت کے لیے حلقہ بندی کرائے اور 120 دن کے اندر الیکشن کرائے، ایسا لگتا ہے سندھ حکومت آیندہ 18 ماہ تک صوبہ میں الیکشن کا انعقاد نہیں چاہتی ، لہٰذا صوبائی حکومت کو حکم دیا جائے کہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جئے، بلاشبہ عدم اتفاق نے جمہوری سسٹم کو ایک دھچکے سے دوچارکردیا ہے، جمہوریت اتفاق رائے کی محتاج ہے، جمہوری سوچ اور معاملات کو جلد حل کرنے پر ایک مفاہمانہ رویے کا مظاہرہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

ہر مسئلہ اختلاف رائے، اور تکنیکی بنیاد پر چیلنج کیا جانا نظریہ ضرورت بن گیا ہے، اصولاً بلدیاتی الیکشن کے انعقاد میں کوئی دو رائے نہیں ، بلدیاتی الیکشن جمہوری کی پہلی بنیاد ہیں اور بلدیاتی الیکشن آئین کی ضرورت ہیں، اسی طرح الیکٹرونک ووٹنگ پر بھی فیصلہ عدالتی کارروائی کی نذر ہونے کے بجائے جمہوری اسپرٹ اور دوطرفہ اتفاق رائے سے ہو تو جمہوریت کو تقویت ملے گی، اتنی سی بات حکومت اور اپوزیشن کی سمجھ میں نہیں آتی تو جمہوریت کیسے چلے گی۔

اسٹیک ہولڈرز کو سوچنا چاہیے کہ جمہوری اسپرٹ کے بغیر معاملات اسی طرح اختلاف رائے کے باعث حل نہ ہوسکیں گے اور عوام جمہوری عمل کے حقیقی ثمرات سے محروم ہی رہیں گے، حکمرانی مشکلات کا شکار رہے گی، حکومت اور اپوزیشن کو جمہوری رویے کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

عوام کو بلدیاتی انتخابات اور عام انتخابات کے انعقاد سے دلچسپی ہے ان کے ٹیکنیکل پہلوؤں پر وقت کے ضیاع کو وہ جمہوری مذاق سمجھتے ہیں، ارباب اختیار جلد ادراک کریں کہ عدم اتفاق نے تقریباً ہر شعبہ ہائے سیاست کو متاثر کیا ہے، یوں تو پورا سسٹم ڈیڈ لاک کا شکار بھی ہوسکتا ہے۔ کوئی تو بریک تھرو کا راستہ نکلے، سیاسی و جمہوری عمل بندشوں سے بالاتر رہنا چاہیے، یہی جمہوری آزادی ہے۔

مقبول خبریں