آرمی چیف کا خطاب

ہمارے دشمن بھی غیر روایتی ہتھکنڈوں بشمول پروپیگنڈا اور ڈس انفارمیشن کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔


Editorial September 08, 2021
ہمارے دشمن بھی غیر روایتی ہتھکنڈوں بشمول پروپیگنڈا اور ڈس انفارمیشن کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ (فوٹو : فائل)

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ''کسی شخص کو علاقائیت یا لسانیت کی بنیاد پر ریاست کو بلیک میل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ پاکستان کی حفاظت و سلامتی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔'' جب کہ صدر پاکستان عارف علوی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور اس خطے کی ترقی کا راز کشمیر کے منصفانہ حل میں ہے۔

آرمی چیف کا خطاب وقت کی آواز ہے، قوم کو اختلاف ، سیاسی کشمکش اور باہمی محاذ آرائی سے گریز کرنے کی تلقین وقت کا تقاضا ہے۔ عوام کو جمہوری عمل کو مل کر کامیاب کرنے اور موجودہ خلفشار سے نکلنے کی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع و شہدا کی تقریب ہوئی جس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جب کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی ، وفاقی وزرا شاہ محمود قریشی ، فواد چوہدری ، شوکت ترین ، پیر نور الحق قادری ، وزیر مملکت فرخ حبیب ، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ، مسلح افواج کے سربراہان بھی موجود تھے۔

تقریب میں شہدا کے لواحقین ، غازیوں ، حاضر سروس ، ریٹائرڈ افسران اور جوان بھی شریک تھے۔ اپنے خطاب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دفاع وطن مقدس فریضہ ہے جو ہمیں جان سے بھی زیادہ عزیز ہے، ہر آزمائش میں ہم نے ثابت کیا کہ پاک فوج اپنے وطن کا دفاع کرنا جانتی ہے، دفاع وطن کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں جنگ کی نوعیت بدل گئی ہے، پاکستان کی حفاظت و سلامتی کے لیے ہم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور دشمن آزمانا چاہتا ہے تو ہمیں ہر لمحہ اور ہر محاذ پر تیار پائے گا، جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مسئلہ کشمیر کی حیثیت کلیدی ہے، کشمیر کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے۔ کشمیر میں بھارت کے 5اگست کے اقدامات کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ سید علی گیلانی کی طویل جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اس مشکل وقت میں افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، امید کرتے ہیں دنیا اس مشکل وقت میں افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑے گی، پاکستان افغانستان کے ساتھ کھڑا ہے اور افغانستان میں قیام امن کے لیے دنیا سے ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہیں جب کہ افغان عوام نے جنگ کے دوران بہت مشکلات کا سامنا کیا ہے، غیرملکی انخلا کے بعد افغانستان میں قیام امن کا ایک موقع ملا ہے، افغانستان میں خواتین سمیت انسانی حقوق کا احترام ہونا چاہیے۔

پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ ہمیں اندرونی خلفشار پھیلانے والے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹنا ہوگا، کچھ لوگ ملک دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں، دشمن کے منفی عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ جمہوریت میں پاکستان کی مضبوطی اور بقا ہے، ہم سب کو آئین کی پاسداری، برداشت اور رواداری کو فروغ دینا ہوگا، پاکستان کو اعتدال پسند اور جدید اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے، تنقید برائے تنقید اور ذاتی عناد کو پس پشت ڈالنا ہوگا، روایتی یا غیر روایتی جنگ ہو پاک فوج نے ہر چیلنج کا مقابلہ کیا تاہم عوامی تعاون کے بغیر کوئی بھی فوج ہو وہ ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے۔ ان سطور میں فوج کے سربراہ نے چشم کشا حقیقت بیان کی ہے، قومی مفاہمت، استقامت جمہوریت کی بنیاد ہے ، آیندہ وقت بھی معاشی استحکام کا ہے۔

آرمی چیف کے اظہار خیال میں قوم کو بلیغ نصیحت کی گئی ہے، اللہ نے ہمیں جمہوریت ، عوام کی خدمت کا زریں موقع دیا ہے اسے ایک ذمے داری کے ساتھ نبھانے کی اجتماعی کوشش ہی میں ملک و قوم کا مفاد مضمر ہے۔ وقت آگیا ہے کہ قوم زمینی حقائق کا ادراک کرے اور جمہوری اتفاق رائے سے قومی معاملات کے تصفیے کی جانب قدم بڑھائے، جمہوریت کی بقا کے لیے عوام کو بے مثال اتحاد اور تنظیم کا مظاہرہ کرنا چاہیے، جمہوریت میں ایک اہم پیش رفت کی ضرورت ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ ارض پاک پر کسی پرتشدد رویے یا انتہا پسندی کی اب مزید کوئی گنجائش نہیں، انھوں نے توقع کی کہ افغانستان میں ایک مستحکم اور تمام فریقین کی نمایندہ حکومت قائم ہو، ہمارے بزرگوں نے اپنی قربانی سے آزادی کی شمع جلائی جسے ابتدا سے کڑے امتحانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، افواج پاکستان نے ثابت کیا کہ ہم ہر حالت میں اپنے ملک کا دفاع کرنا جانتے ہیں اور اس کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔

موجودہ دور میں جنگ کی نوعیت بدل گئی ہے اب براہ راست حملے کے بجائے کسی قوم کی یکجہتی اور نظریاتی سرحدوں کو کمزور، اس کے مختلف طبقات میں انتشار پھیلانے، شہریوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے دیگر حربوں کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی اور کمیونیکیشن کے ذرایع کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

ہمارے دشمن بھی غیر روایتی ہتھکنڈوں بشمول پروپیگنڈا اور ڈس انفارمیشن کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، بیرونی دشمنوں کے تمام حربوں اور چالوں سے ہم آگاہ ہیں ، ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ کچھ لوگ ملک دشمن عناصر کے ہاتھ میں استعمال ہورہے ہیں۔

اسے ہائبرڈ یا ففتھ جنریشن وار کہا جاتا ہے، اس کا مقصد پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانا ہے۔ ایسی مشکل اور پیچیدہ صورتحال افواج پاکستان اور قوم کی باہمی اعتماد کے رشتے کو اور مضبوط کرنے کی متقاضی ہے۔

مقبول خبریں