صرف حکومت نہیں ساری پارلیمنٹ مذاکرات چاہتی ہے سعد رفیق

مذاکرات کی پہلی کوشش ڈرون حملے کی وجہ سے سبوتاژ ہوئی اور طالبان ناراض بھی ہوگئے تھے، سعد رفیق


Monitoring Desk January 30, 2014
مذاکرات کی پہلی کوشش ڈرون حملے کی وجہ سے سبوتاژ ہوئی اور طالبان ناراض بھی ہوگئے تھے، سعد رفیق کی ’’ کل تک‘‘ میں جاوید چوہدری سے گفتگو۔ فوٹو: فائل

مسلم لیگ( ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ صرف حکومت ہی نہیں ساری پارلیمنٹ مذاکرات کے حق میں ہے۔

ریاست چاہتی ہے کہ مذاکرات ہوں۔ ایکسپریس نیوزکے پروگرام کل تک میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ مذاکرات کی پہلی کوشش ڈرون حملے کی وجہ سے سبوتاژ ہوئی اور طالبان ناراض بھی ہوگئے تھے، حکومت اور طالبان دونوں کو صورتحال کو سمجھنا چاہیے۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ اورامریکی صدر سے ڈرون حملوں کی بات کی ہے لیکن ہم اس پوزیشن میں نہیں کہ ان پر اپنی مرضی تھوپ سکیں، ہم ان کی ڈکٹیشن لینے سے انکار توکرسکتے ہیں لیکن ان کو ڈکٹیشن دے نہیں سکتے۔ فوج نے حالیہ دنوں میں آپریشن نہیں کیا کارروائی کی ہے،خدانخواستہ آپریشن کی ضرورت پڑی تو حکومت فوج کے ساتھ ہوگی۔

پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمودقریشی نے کہا کہ مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کرنے کے خدشے کو خارج نہیں کیا جاسکتا۔ ایم کیو ایم کے رہنما محمدآصف نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کیلیے دعاگو ہیں مگر مذاکرات کامیاب ہوتے نظر نہیں آتے۔