نواز شریف اوباما سے گارنٹی لیں مذاکرات کے دوران ڈرون حملہ نہیں ہوگا عمران خان

عسکریت پسندوں سے مذاکرات کیلیے4رکنی حکومتی کمیٹی کے قیام کاخیرمقدم کرتے ہیں،امن کیلیے حکومتی کوششوں کاساتھ دیں گے


Numainda Express January 30, 2014
وزیراعظم راناثناکے بیانات کانوٹس لیں،جولوگ مذاکرات کی بات کرتے ہیں وہ عسکریت پسندوں کے حامی نہیں ، قومی اسمبلی میں خطاب فوٹو: فائل

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے عسکریت پسندوں سے مذاکرات کیلیے4 رکنی حکومتی کمیٹی کے قیام کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعظم کوامریکی صدراوباماسے بات کرکے یقین دہانی لینی چاہیے کہ اب مذاکرات کے دوران ڈرون حملہ نہیں ہوگا ۔

کیونکہ امریکاکی یہ مسلسل خواہش رہی ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ہو ،عسکریت پسندوں کوبھی مکمل جنگ بندی کرنی ہو گی،دہشت گردی کے مسئلہ کاپرامن حل چاہتے ہیں،ملک میں قیام امن کیلیے تحریک انصاف حکومت کامکمل ساتھ دے گی۔قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ ملک کواس وقت سنگین صورتحال کاسامناہے اوراس میں رہنمائی اورقیادت کی ضرورت ہے،وزیراعظم کے ایوان میں خطاب سے کچھ چیزیں واضح ہوگئی ہیں مگرابھی انھیں مزید واضح کرنے کی ضرورت ہے،مشیرخارجہ سرتاج عزیز اور پنجاب کے وزیرقانون کے بیانات سے تو یہ پتہ چلتاہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کافیصلہ کیاجا چکا،پنجاب کے وزیرقانون نے پنجاب میں پشتونوں کے 170ٹھکانوں کی نشاندہی کی بات کی ہے ۔

ان کے بیان کے نتیجے میں اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو کیا پنجاب کی لڑائی پشتونوں سے ہوگی؟وزیراعظم رانا ثنااللہ کے اس بیان کاسختی سے نوٹس لیں،پشتونوں میں اس بیان پرسخت رد عمل پایا جاتاہے،مذاکرات کیلیے جوکمیٹی بنائی گئی ہے اس کوروزانہ کی بنیادپراپنی پیش رفت سے آگاہ کرناہوگا۔انھوں نے کہاکہ ہم نے تونیٹوسپلائی بندکرکے ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کارڈکرایاہے،ملک میں اس وقت فوجی آپریشن کیلیے فضابنائی گئی ہے جولوگ مذاکرات کی بات کرتے ہیں عسکریت پسندوں کے حامی نہیں مگرمسئلے کاپرامن حل چاہتے ہیں، عسکریت پسندوں سے بھی کہاکہ ان کومکمل سیزفائرکرناہوگا کیونکہ اس کے بغیرمذاکرات کامیاب نہیں ہوسکتے ان میں بھی بعض ایسے گروپ موجودہیں جنھیں بیرونی عناصر کی حمایت حاصل ہے اوروہ ملک میں امن نہیں انتشارچاہتے ہیں،میں وزیراعظم کویقین دلاتاہوں کہ ہماری پارٹی ملک میں قیام امن کیلیے ان کابھرپورساتھ دے گی۔

مقبول خبریں