طالبان کو چیلنجزکا سامنا

اسلامی برادری افغانستان کواپنے معاملات چلانے اوراپنے پیروں پرکھڑا ہونے کی سیاسی، اقتصادی اور سفارتی سہولتیں مہیا کرے۔


Editorial September 11, 2021
اسلامی برادری افغانستان کواپنے معاملات چلانے اوراپنے پیروں پرکھڑا ہونے کی سیاسی، اقتصادی اور سفارتی سہولتیں مہیا کرے۔ فوٹو: رائٹرز

افغانستان کے بحران نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے، متعدد ممالک طالبان کی مدد کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، طالبان نے انسانی ہمدردی کی اپیل کی ہے۔

گزشتہ روز پاکستان اور قطر نے افغانستان میں کسی انسانی بحران سے بچنے کے لیے تعمیری کردار جاری رکھنے اور دو طرفہ سیاسی مشاورتی میکنزم کو مزید فعال بنانے پر اتفاق کیا۔ قطرکے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔

ادھر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پر امن، محفوظ اور مستحکم افغانستان، پاکستان اور خطے کے لیے اہمیت کا حامل ہے، پاکستان افغانستان کی معاشی بہتری ، انسانی ریلیف اور مدد کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ پاکستان تنازع افغانستان کی وجہ سے مشکلات کا شکار رہا ہے۔

افغانستان کی بدلتی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم نے زور دیا کہ سیکیورٹی کی صورتحال میں استحکام ، انسانی بحران کی روک تھام اور معیشت کی مضبوطی انتہائی اہم ہے۔ عالمی برادری افغانستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑی ہو اور افغانستان میں پائیدار امن، استحکام اور معاشی ترقی یقینی بنانے کے لیے اقدامات اور مثبت بات چیت کرے۔

وزیراعظم نے افغان امن عمل میں قطرکے کردارکو سراہا اور دو طرفہ تعلقات کے تناظر میں قطر کے ساتھ باہمی مفاد کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی خواہش کا اعادہ کیا۔ انھوں نے تجارت ، سرمایہ کاری ، توانائی اور عوامی سطح پر رابطوں کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

قطری وزیرخارجہ نے علاقائی امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے اہم کردار اورکوششوں کو سراہا۔ انھوں نے دوطرفہ اور علاقائی امور پر پاکستان کے ساتھ اپنے قریبی روابط برقرار رکھنے کا عزم کیا۔

قطری وزیر خارجہ نے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ملاقات کے علاوہ وفود کی سطح پر مذاکرات کیے۔ اس موقعے پر شاہ محمود قریشی نے کہا افغانستان کو تنہا چھوڑنے سے امن مخالف قوتوں ''اسپائلرز''کو موقع میسر آنے کا خدشہ ہے۔ ماضی کی غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔

قطر کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی پیداوار سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے پر عزم ہیں۔ ہم افغانستان کی صورتحال پرگہری نظر رکھے ہوئے ہیں، ہم افغانستان میں اجتماعیت کی حامل حکومت سازی کے خواہاں ہیں، اگرکچھ ممالک افغانستان کو امداد نہیں دینا چاہتے تو ایسی صورتحال بھی پیدا نہ کریں جس سے وہاں اقتصادی بحران جنم لے۔ افغانستان کے منجمد کیے جانے والے اثاثوں کو فوری ریلیز کیا جانا چاہیے۔ قطری وزیر خارجہ نے کہا افغانستان کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کسی بھی شرط سے آزاد ہونی چاہیے۔

افغان عوام کا حق ہے کہ انھیں بھرپور مدد فراہم کی جائے۔ کابل کے ہوائی اڈے کو مسافروں کے لیے بھی آپریشنل کر دیا گیا ہے جس کے لیے طالبان کے شکر گزار ہیں۔ افغانستان کو مضبوط، خوشحال اور ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان اور قطر کے مابین کلیدی اور مضبوط تعلقات ہیں پاکستان قطر کا تزویراتی شراکت دار ہے پاکستان کے ساتھ سیاسی، معاشی اور دفاعی شعبے میں تزویراتی شراکت داری کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔ مزید پاکستانیوں کو قطر میں خوش آمدید کہتے ہیں۔

پاکستان نے افغان امن عمل، قطر کی ثالثی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ افغانستان میں دیرپا قیام امن و استحکام کے خواہاں ہیں، قطر خلیجی ریاستوں کا ایک اہم ملک ہے، پاکستانیوں کو ملازمتوں کی فراہمی میں اس نے ہمیشہ برادرانہ رویے کا مظاہرہ کیا ہے اگلا فٹبال ورلڈ کپ بھی آیندہ سال جون میں قطر میں منعقد ہوگا ۔

افغانستان کے فنکشنل ہونے اور اسے مالی اور انتظامی الجھنوں سے نکالنے کے لیے عبوری طور پر وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تجارت پاکستانی روپے میں ہوگی ، افغانستان کو ڈالرکی کمی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت ہوا ، وزیر خزانہ شوکت ترین نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ افغانستان کو ڈالر کی کمی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ، افغانستان میں مختلف معاملات چلانے کے لیے پاکستان سے بھی لوگوں کو بھیجا جا سکتا ہے ، وزیر خزانہ شوکت ترین نے مزید بتایا کہ بھارتی ہیکرز کی جانب سے 2019 میں بھی ایف بی آر کا سسٹم ہیک کیا جاچکا ہے، سسٹم ہیک کرنے کی سزا جس کو ملنی چاہیے تھی اس کو مل چکی تاہم اب ایف بی آر میں تمام سسٹم کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف نے افغانستان کے زرمبادلہ کے دس ارب ڈالر روک رکھے ہیں، افغانستان کی صورتحال کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ فوڈ پرائس ملک میں سب سے بڑا ایشو ہے ، اپریل مئی سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ رہا ہے ، اگست میں درآمدات میں بہت زیادہ اضافہ تشویشناک ہے، شوکت ترین نے کہا کہ پائیدار شرح نمو نہ ہونے کے باعث آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا تھا مگر اچھی خبر یہ ہے کہ ملکی معیشت ترقی کر رہی ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے کورونا ویکسین کی خریداری کے لیے 450 ملین ڈالر دیے ، پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں ہے۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ رواں مالی سال جی ڈی پی گروتھ 4.8فیصد پر لے کر جائیں گے، آیندہ ماہ پتا چلے گا کہ ملکی معیشت میں کتنی بہتری ہوئی ہے۔

برادر ملک کو مشکلات کا شکار دیکھ کر پاکستان نے جو پیش کش کی ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، گزشتہ دنوں افغان معیشت اور خصوصاً معیشت کی داستان سناتے ہوئے ایک تجزیہ کار نے بڑی درد ناک صورتحال پیش کی۔ انھوں کہا کہ امریکا نے افغانستان کی معیشت کو گھٹنوں کے بل بٹھا دیا ہے، لوگ بدترین غربت کا شکار ہیں۔

اس امر سے کوئی انکار نہیں کہ طالبان اپنی سی ہرکوشش کر رہے ہیں لیکن معیشت کے معاملات دانشمندی اور تجربے سے ہی حل ہونگے، شوکت ترین نے عملیت پسند کی حیثیت میں افغانستان کی بروقت مدد کرنے کی جو بات کی وہ صائب ہے اس وقت افغانستان کو معاشی، اقتصادی اور انتظامی تعمیرکی ضرورت ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے اہم نکتہ اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں اب بھی 30 لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی صورتِ حال، تنازع کے نتائج سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا ، نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار پاکستانی جاں بحق ہوئے، پاکستان کی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ افغانستان کی صورتِ حال پر منعقدہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، منیر اکرم کا کہنا تھا کہ نائن الیون حملوں کی 20 ویں برسی پر امریکا کے لوگوں سے اظہارِ تعزیت کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ داعش اور القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کو افغانستان میں پیر جمانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، افغانستان میں کالعدم تنظیموں کو کام کرنے کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مندوب نے کہا کہ افغانستان کے منجمد اکاؤنٹس کی بحالی ضروری ہے، عالمی برادری انسانی حقوق کی بنیاد پر کابل کی امداد کرے، آج افغانستان اپنی تاریخ کے اہم موڑ پرکھڑا ہے، عالمی برادری کو افغانستان میں مصروفِ عمل رہنا چاہیے، افغانستان میں بڑے پیمانے پر خونریزی ہونے سے روکی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کابل انتظامیہ پر زور دیتے ہیں کہ عالمی ایجنسیوں کو کام کرنے کی اجازت دیں، افغان حکومت یو این ایجنسیوں کو رسائی دے، افغانستان میں انسانی بحران کی صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے، 18 ملین افغانوں کو انسانی امداد کی فوری ضرورت ہے۔ دوسری جانب امریکی طرز عمل ہے وہ افغانستان کی حکومتی تشکیل سے مطمئن نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی طرز میں برہمی کے بنیادی اسباب ان کی تاریخی ہزیمت میں تلاش کرنے چاہیں۔

امریکا کو ایک دھچکا لگا ہے وہ القاعدہ اور داعش کی موجودگی سے خائف ہے ، اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتیرس نے کہا ہے کہ طالبان کی کامیابی سے افریقہ کی جہادی تنظیموں کو تقویت ملے گی، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک زمانہ تھا کہ امریکی کردار اور اثر ورسوخ مانا جاتا تھا، مگر آج اس کا عالمی کردار سکڑتا جا رہا ہے، اس کی عالمگیریت ایک گھمبیر مسئلہ بن گئی ہے، ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ امریکا کہاں کھو گیا ہے، ایک تجزیہ کار نے کہا کہ امریکا کو تین ملکوں کے دائرہ اثر سے نکلنے کا دکھ ہے۔

پہلے چین1949 میں، پھرکیوبا1959 اور پھر ایران 1979 میں امریکا کے ہاتھ سے نکل گیا، امریکی عالمگیریت کی وجہ یہ تھی کہ ایلیٹ نے ان کے جمہوری نظام کو مقامی سطح پر ہر دھچکے سے بچایا اور ان کے جنرلز دنیا میں فتوحات حاصل کرتے رہے، ملکوں پر قبضے کرتے رہے، اسلحہ کی دوڑ کا آغاز ہوا، لیکن آج دنیا کو محض افغانستان کا مسئلہ درپیش نہیں، امریکا کو یورپ سمیت دنیا میں ہرجگہ اپنے خلاف ایک مزاحمت، تقابل اور چیلنجز کا سامنا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی برادری افغانستان کو اپنے معاملات چلانے اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی سیاسی، اقتصادی اور سفارتی سہولتیں مہیا کرے۔ طالبان بھی اس آفاقی حقیقت کو تسلیم کریں کہ جب وہ انتظامی، انسانی و معاشی سفارتی ذرایع سے اپنا سیاسی ڈھانچہ دنیا کے سامنے پیش کریںگے تو دنیا کو آزاد افغانستان کو تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہیں ہوگا۔ دراصل طالبان کو اب ''سحرکی گود میں رنگ ِشکستِ شب'' کا حیران کن منظر نامہ ابھارنا ہے۔

مقبول خبریں